اسلام آباد(آئی این پی) مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر اورسابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاہے کہ ملک میں حالات اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ الیکشن بھی محفوظ نہیں اور آزاد کشمیر انتخابات سے اس بات کی تصدیق ہوچکی ہے ،آج پاکستان اور آزاد کشمیر میں ریاستی الیکٹورل قبضہ ہے، ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ الیکشن محفوظ نہیں ، 2018کے الیکشن سے کڑی چلتی آرہی ہے جو گلگت بلتستان اور کشمیر کے الیکشن میں نظر آیا ہے اور ریاست نے فیصلہ کر لیا ہے کہ الیکشن کے فیصلے عوام نہیں ہم کریں گے۔بدھ کو مسلم لیگ (ن) کے رہنما وسابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں حالات اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ الیکشن بھی محفوظ نہیں اور آزاد کشمیر انتخابات سے اس بات کی تصدیق ہوچکی ہے ،آج پاکستان اور آزاد کشمیر میں ریاستی الیکٹورل قبضہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ الیکشن محفوظ نہیں ، 2018کے الیکشن سے کڑی چلتی آرہی ہے جو گلگت بلتستان اور کشمیر کے الیکشن میں نظر آیا ہے اور ریاست نے فیصلہ کر لیا ہے کہ الیکشن کے فیصلے عوام نہیں ہم کریں گے ۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہمیشہ کہا کہ پاکستان میں غیر شفاف اتنخابات ہوئے ہیں اور ہر الیکشن چوری ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ جی بی اور آزاد کشمیر میں عوام وفاق کے ساتھ جاتے ہیں لیکن جیتنے والی جماعت 70فیصد ووٹ بھی لیتی ہے ،آزاد کشمیر میں 6سیٹیں جیتنے والی مسلم لیگ (ن) کو عوام نے پانچ لاکھ ووٹ دیے ہیں جبکہ 24سیٹیں جیتنے والی حکمران جماعت جنہوں نے سرکاری وسائل استعمال کئے انہیں 6لاکھ ووٹ ملے ۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آزاد کشمیر میں تحریک انصاف کی فتح بہت عارضی اور بڑی خطرناک فتح ہے ، کشمیری عوام انتخابی عمل سے مایوس ہوگئے ہیں ، وہاں شائستگی اور کازکی سیاست تھی لیکن وہاں معاشرتی تباہی کردی گئی ۔انہوں نے کاہ کہ اس بات میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ الیکشن میں ریاستی ادارے ملوث ہیں اور تھے ، 2018،جی بی اورآزاد کشمیر انتخابات میں بھی ملوث ہیں ۔شاہد خاقان عباسی نے نوازشریف اور افغان نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر کے درمیان ملاقات کے حوالے سے کہا کہ نوازشریف کو افغان نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر سے ملنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی لیکن انہوں نے افغان وفد سے ملاقات کی ہے اور افغان صدر اشرف غنی سے چار ماہ پہلے میٹنگ طے تھی اور اس میں افغان این ایس اے سے ملاقات ہوئی اور افغان این ایس اے سے حکومتی عہدیداران بھی بات کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف اور افغان وفد کے ملاقات سے دونوں ملکوں میں قربت آئی ہے اور افغان نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر سابق وزیراعظم نوازشریف کے پاس اپنی غلطی تسلیم کرنے اور معافی کے بعد ان کے گھر گئے ۔
افغان وفد سے نوازشریف کی ملاقات چار ماہ پہلے طے تھی ، اس میں افغان این ایس اے سے بھی ملاقات ہوئی



