افغان طالبان کی حمایت پر پاکستان کو پچھتانا پڑے گا: حسین حقانی

پاکستان کے امریکہ میں سابق سفیر حسین حقانی نے افغانستان سے امریکہ کی واپسی کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال اور پاکستان کے کردار و حکمت عملی پر انگریزی میں ایک انتہائ فکر انگیز اور پر مغز مضمون تحریر کیا ہے جسے عام قاری تک پہنچانے کے لئیے نیشنل ٹاٸمز خصوصی رپورٹ کے طور پر اردو ترجمہ کے ساتھ پیش کررہا ہے ۔

امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے کہا ہے کہ اسلام آباد کو افغان طالبان کی بحالی میں مدد دینے کیلئے پچھتانا پڑے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی اسٹبلشمنٹ افغانستان میں طالبان کو حاصل ہونے والے ملٹری فوائد پر خوشی کا اظہار کر رہی ہے، اور اس ملک کے کٹر سیاسی گروپس کئی دھائیوں سے طالبان کی حمایت کر رہے ہیں جو اب کابل میں اپنے اتحادیوں کا ساتھ دے سکتے ہیں۔ مسٹر حقانی نے کہا ہے کہ اگرچہ پاکستان کو وہ مل گیا ہے جس کی اسے خواہش تھی لیکن اسے اس پر پچھتانا پڑے گا۔ انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ طالبان کے قبضے کی صورت میں نا صرف پاکستان میں داخلی طور پر انتہا پسندی میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان مزید تنہائی کا شکار ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ افغانستان میں امریکہ کی بیس سالہ جنگ کا خاتمہ بھی اسلام آباد کے تعلقات پر اثر انداز ہوگا۔ مسٹر حقانی کا کہنا ہے کہ پاکستان واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات بحال رکھنے کیلئے طویل عرصے سے افغانستان میں اپنے عزائم پر پردہ پوشی کرتا آیا ہے لیکن اس کے اس عمل کو امریکہ ڈبل گیم کے طور پر دیکھتا ہے، اور اگر کابل میں اسلامی حکومت قائم ہو گئی تو پاکستان کیلئے اپنی یہ ڈبل گیم جاری رکھنا ناممکن ہو جائے گا، کیونکہ طالبان اپنی فتح کی صورت میں پاکستان کے ساتھ رہیں گے اور امریکہ کے ایسے کسی گروپ کے ساتھ طویل مدتی صلح کے امکانات نہیں ہیں۔ پاکستان کو خوفناک صورتحال کا سامنا تو اس وقت ہوگا جب اس پر بے قابو طالبان کو لگام ڈالنے کیلئے عالمی مطالبات کا سامنا کرنا پڑے گا اور وہ دونوں کے درمیان پھنس کر رہ جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلامی انتہاپسندی نے پہلے ہی پاکستانی معاشرے کو فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کر رکھا ہے ایسے میں طالبان کی فتح سے پاکستان کے داخلی امن اور سلامتی پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے، اور اگر ان حالات میں طالبان کو مضبوط کرنے کی کوشش کی گئی تو ہو سکتا ہے ان کے مخالفین اس کی جارحانہ مخالفت پر اتر آئیں اور اگر ایسی کوئی لڑائی ہوئی تو پاکستان کو مہاجرین کی ایک نئی لہر سے نمٹنا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں چھڑنے والی اس خانہ جنگی سے ملکی معیشت کو مزید نقصان پہنچے گا۔ ریاست کی طالبانی حمایت کے پاکستانی نقاد طویل عرصے سے اس قسم کے منظر نامے کی پیشن گوئیاں کر رہے ہیں۔ اسی اثناءمیں اسلام آباد میں کمزور سویلن لیڈرز نے ایک ایسی پالیسی سے اتفاق کیا ہے جس میں افغانستان میں بھارتی اثر و رسوخ کے خاتمے کو ترجیح دی گئی ہے۔
مسٹر حقانی نے کہا ہے کہ پاکستان نے کئی عشروں سے ایک طرف طالبان کی حمایت کرکے اور دوسری طرف واشنگٹن کی مہربانیاں حاصل کرنے جیسا خطرناک کھیل کھیلا ہے ۔ اگرچہ پاکستان کا یہ کھیل توقع سے زیادہ عرصے تک کام کرتا رہا ہے لیکن اب یہ پائیدار ہوتا نظر نہیں آرہا۔ انھوں نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی اسٹبلشمنٹ کے سر پر کابل میں دوستانہ حکومت مسلط کرانے کا جنون سوار ہے ، اور اس کی وجہ یہ کہ اسے یہ لگتا ہے کہ انڈیا پاکستان کو توڑنے کی سازش کر رہا ہے اور افغانستان اس کیلئے پاکستان کے صوبے بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے علاقوں میں حکومت مخالف شورشوں کے آغاز کا سامان ہوگا۔ پاکستان کے ان خدشات کی جڑیں دراصل قیام پاکستان کے وقت افغانستان کے بلوچستان اور خیبر پختون خواہ کے کچھ حصوں پر دعوے سے جڑی ہوئی ہیں۔ پاکستان بننے کے کچھ دن بعد ہی افغانستان نے پاکستان کو تسلیم کر کے اس سفارتی تعلقات قائم کر لیے تھے لیکن اس نے 1976تک برطانیہ کی بنائی ڈیورنڈ لائن کو بطور بین الاقوامی سرحد کے تسلیم نہیں کیا تھا۔ اس کے علاوہ افغانستان کے انڈیا کے ساتھ دوستانہ تعلقات بھی تھے، یہی وجہ تھی کہ 1979میں سویت یونین کے افغانستان پر قبضے سے پہلے ہی پاکستان نے افغان اسلام پسندوں کو اپنی سرزمین پر منظم ہونے کی اجازت دے دی تھی۔
سرد جنگ کے دوران افغانستان میں پاک امریکی وسیع تعاون کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان وہ تعلقات قائم نہ ہو سکے جو ہونے چاہیے تھے ۔ امریکہ سویت یونین کو شکست دینے کیلئے پاکستان کے زریعے مجاہدین کو اسلحہ فراہم کرتا تھا لیکن جب سویت یونین افغانستان سے چلا گیا تو بعد از اس نے افغانستان کے مستقبل میں کوئی خاص دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ دوسری جانب پاکستانی حکام نے سویت مخالف جہاد کو ایک موقع کے طور پر دیکھا جس میں افغانستان کو ایک سیٹلائیٹ سٹیٹ میں تبدیل کر دیا جاتا۔ پاکستانی حکام نے اس بنیاد پر بے انتہا بنیاد پرست مجاہدین کی حمایت کی کہ ان کے زیر اقتدار آئندہ افغان حکومت خطے سے بھارتی اثر رسوخ کو مسترد کر دے گی اور ان کی مشترکہ سر حد پر بلوچوں اور پشتون نسلی قوم پرستی کو دبانے میں مدد ملے گی۔
نائن الیون کے بعد پاکستان کے افغانستان میں امریکی افواج کا لاجسٹک مرکز بننے کے بعد بھی اس کے عہدیداروں نے کابل میں ہندوستان کے اثر و رسوخ پر تشویش کا اظہا کیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان کے انٹر سروسز انٹیلیجنس کے سابق سربراہ جنرل حمید گل نے 2014میں ٹیلی ویژن پر یہ واضح کیا تھا کہ آئی ایس آئی نے نائن الیون کے بعد امریکہ کی فراہم کردہ امداد کو طالبان کی اعانت جاری رکھنے کیلئے کس طرح استعمال کیا تھا۔ مسٹر گل نے یہ بھی کہا تھا کہ جب تاریخ لکھی جائے گی تو اس میں یہ بیان ہوگا کہ افغانستان میں آئی ایس آئی نے امریکہ کی مدد سے سویت یونین کو شکست دی تھی، اوراس میں ایک جملہ یہ بھی ہوگا کہ آئی ایس آئی نے امریکہ کی مدد سے ہی امریکہ کو شکست دی۔
اس کے علاوہ حال ہی میں ایک سینئر پاکستانی عہدیدار نے بھی امریکہ کی طالبان کے خاتمے میں ناکامی پر بڑے فخریہ انداز میں خوشی کا اظہار کیا تھا۔ ان کا خیال ہے کہ واشنگٹن کے اسلام پسند گروپ کے ساتھ سفارتی تعلقات افغانستان میں اس کے اثر ورسوخ کو قبول کرنے کے مترادف ہیں۔ واضح رہے فروری 2020میں دوحہ میں ہونے والے امریکہ طالبان معاہدے پر دستخط کے بعد ، پاکستان کے سابق وزیر دفاع اور وزیر برائے امور خارجہ خواجہ محمد آصف نے امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو کی طالبان لیڈر عبدالغنی برادر کے ساتھ ملاقات کی ایک تصویر ٹویٹ کی تھی جس پر ان کا کمنٹ تھا کہ ، ہو سکتا ہے آپ اپنی جگہ بڑے ہوں لیکن خدا ہمارے ساتھ ہے اللہ اکبر۔ خواجہ آصف نے امریکہ کو اس کی ناکامی پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا تھا۔ مسٹر حقانی نے کہا ہے کہ گل اور آصف جیسے پاکستانیوں کیلئے طالبان کی متوقع فتح بھی پاکستان کی خفیہ کاروائیو ں کی فتح ہے، لیکن اس فتح کا نتیجہ غلط ہی نکلے گا۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ نے پاکستان کے اس خیال کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا کہ اسے انڈیا سے خطرہ ہے، یہی وجہ ہے کہ انھوں نے افغان قوم پرستوں پر پشتون اسلام پسندوں کیلئے پاکستان کی ترجیح کو کبھی کوئی اہمیت نہیں دی۔ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے دوطرفہ تعلقات میں مزید عدم اعتماد کے ساتھ بھارت اور باقی دنیا کے ساتھ تعلقات بھی مشکلات سے دوچار ہوئے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کا زیادہ انحصار چین پر ٹکا ہوا ہے۔
اس وقت پاکستان اپنے 90بلین ڈالر کے بیرونی قرضہ جات میں سے 27فیصد جو تقریباً 24بلین ڈالر بنتے ہیں بیجنگ کا قرض دار ہے۔ اس کے علاوہ اب پاکستان امریکی فوجی امداد کھونے کے بعد نچلے معیار کی چینی فوجی ٹیکنالوجی پر انحصار کیلئے بھی مجبور ہے۔
مسٹر حقانی کا کہنا تھا کہ تیس سال تک جہادیوں کی حمایت کرکے پاکستان کو کیا حاصل ہوا، اس کے معاشی حالات بہتر نہیں ہوسکے، سوائے اس عرصے کے جب اسے امریکی امداد ملتی تھی۔ اس عرصے کے دوران اسلام پسندوں کی طرف سے اقلیتوں پر دہشت گردانہ حملے کیے گئے ، متشدد تنازعات کو ہوا دی گئی، جس میں فرانس میں پیغمبر اسلام کی مبینہ توہین رسالت کے الزام میں فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ بھی شامل تھا، خواتین کے حقوق کو دبایا گیا، ملک میں سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا کو بنیاد پرست اسلام پسندانہ حساسیت کو ایڈجسٹ کرنے کیلئے باقاعدگی سے سینسر کیا جاتا ہے۔ سائنس اور تنقیدی سوچ پر حکومت نصاب کا اسلامائز کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔
چار سال پہلے موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ وہ ملک کو نارمل حالات میں واپس لانا چاہتے ہیں ، اس کے بعد سے وہ بھارت کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے اور چین پر پاکستان کے انحصار کو کم کرنے کی ضرورت پر بھی بات کر چکے ہیں۔ تبدیلی کے اس وژن میں افغانستان میں تصفیہ کی ایک کوشش بھی شامل تھی۔ اس سلسلے میں پاکستان نے افغان بارڈر پر باڑ لگانے کا عمل شروع کیا، اور امن معاہدے کی تکمیل کیلئے امریکہ کی مدد کا وعدہ بھی کیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود امریکہ کا پاکستان کو کئی دہائیوں تک طالبان کی حمایت کرنے پر اسے معاف کرنے کا مسقتبل قریب میں کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ جس یہ تو واضح ہے کہ جنرل باجوہ کے پاکستان کو نارمل سٹیٹ بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا نظر نہیں آرہا بلکہ اس کے برعکس ملک کو نئے چیلنجز کا سامنا ضرور کرنا پڑ سکتا ہے۔
مسٹر حقانی کا کہنا ہے کہ وہ پاکستانی جو دنیا کو صرف انڈیا کے ساتھ مسابقتی نظریے سے دیکھتے ہیں طالبان کی یہ فتح ان کیلئے شاید کوئی تسلی بخش چیز ہو ، ویسے پاکستان بھارت کے ساتھ بیشتر محاذوں پر مسابقت میں کچھ زیادہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں پایا، لیکن افغانستان میں پاکستان کی پروکسیز کامیاب ہوتی نظر آتی ہیں چاہے وہ انھیں مکمل طور پر کنٹرونہ بھی کرسکا۔ لیکن اس کی یہ فتح ایسی ہے جس کی اسے فائدے سے کہیں زیادہ قیمت چکانی پڑی ہے۔



  تازہ ترین   
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز
سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور
عافیہ صدیقی کیس: آئینی عدالت نے ہائیکورٹ کو وفاقی حکومت کیخلاف کارروائی سے روک دیا
وزیراعظم شہباز شریف کے اہم غیر ملکی دوروں کا شیڈول تیار
کے پی اور وفاق میں اتفاق: مالا کنڈ میں فوج کی ذمہ داریاں صوبائی حکومت کو تفویض
وزارت خزانہ کی ورکنگ نامکمل، پانڈا بانڈز کے اجراء میں چوتھی بار تبدیلی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر