کراچی (نیشنل ٹائمز)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی کراچی میں میڈیا سے گفتگو۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پیر صاحب پگاڑا کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کے لیئے حاضر ہواہوں۔انہوں نے کہا کہ پیر صاحب کے خانوادے سے ہمارا پرانا تعلق ہے۔وزیر خارجہ نے مزید بتایا کہ کل مجھے بحرین جانا ہے۔آج سعودیہ عرب کے وزیر خارجہ پاکستان تشریف لائے تھے۔دفتر خارجہ میں میری ان سے سیر حاصل گفتگو ہوئی ۔مئی میں جو خاکہ پیش کیا گیا تھا آج اس کو عملی شکل دی۔ سعودیہ سے دوطرفہ تعلقات کی بہتری کے لیئے اس میں پیش رفت ہوئی ہے ۔مستقبل میں بھی آپ اس میں وسعت دیکھیں گے۔کل بحرین روانہ ہو رہا ہوں۔بحرین ہمارا اہم مسلم ملک ہے۔خاصی تعداد میں پاکستانی وہاں موجود ہیں۔جوائنٹ منسٹریل کمیشن کی نشت ہوگی۔بحرین کے وزیر خارجہ سے دوطرفہ تعلقات پر بھی بات ہوگی۔فیٹف کے حوالے سے پاکستان کی کارکردگی کا آج دنیا اعتراف کر رہی ہے۔پاکستان نے اپنے مفاد میں منی لاڈرنگ کے خاتمے کے لیئے اقدامات اٹھائے۔انہوں نے تسلیم کیا کہ پاکستان نے 27 میں سے 26 نقاط پر مکمل عملدرآمد کیا ۔بھارت نے فیٹف کو سیاسی مقاصد کیلئے پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی ۔جو میں نے کہا تھا وہ بھارتی وزیر خارجہ نے اپنے منہ سے کہہ دیا ۔پی پی پی کی حکومت اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیئے آٹھارہویں ترمیم کا سہارا لیتی ہے۔کبھی پانی تو کبھی این ایف سی کا مسئلہ یاد آجاتا ہے۔سندھ کا بہت بڑا طبقہ پی پی پی سے نجات چاہتا ہے۔ہم افغانستان میں امن چاہتے ہیںہماری دلچسپی افغانستان کی عوام سے ہے۔افغانستان کے لوگوں نے بھاری قیمت ادا کی ہے۔افغان اپنے ملک میں امن چاہتے ہیں۔افغانی عوام سمجھتی ہے کہ حل صرف ساسی طریقے سے ہوگا۔ عسکری طریقے سے نہیںافغانستان کی کڑوی باتیں بھی برادشت کرتے ہیں۔ افغانستان کے سیکورٹی ایڈوائزر نے جو زبان پاکستان کے لیئے استعمال کی۔ ہم وہ دہرا نہیں سکتےان کی نکتہ چینی کے باوجود ہم افغانستان کی بہتری میں خوش ہیں۔سندھ کا صوبہ وفاق کا حصہ ہے۔جیسے پیپلز پارٹی کو حق ہے کہ وہ پنجاب میں آکر اپنی کمپین چلائیںکیا ۔یہ حق پی ٹی آئی کو نہیں ہےہم سندھ آئیں گے لوگوں سے بھی ملیں گے۔سندھ میں بہت بڑی ہستیاں موجود ہیں۔اندرون سندھ میں امن و امان کی صورتحال بہت خراب ہے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پیر صاحب پگاڑا کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کے لیئےپہنچ گئے ، میڈیا سے خصوصی گفتگو



