افغانستان میں جو کچھ ہورہا ہے اس کا الزام پاکستان پر دھرنا انتہائی نا انصافی ہے،وزیراعظم

تاشقند (نیشنل ٹائمز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کسی بھی ملک نے افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پاکستان سے زیادہ کوششیں نہیں کیں،افغانستان میں گڑبڑ سے جو ملک سب سے زیادہ متاثر ہوگا، پاکستان نے گزشتہ 15 برسوں میں 70 ہزار جانوں کا نقصان اٹھایا ہے، تنازع میں اضافہ وہ سب سے آخری چیز ہوگی جو پاکستان چاہے گا، وہ پاکستان ہے، ہماری معیشت بالآخر بحالی کی جانب گامزن ہے ، سی پیک بی آر آئی کا فلیگ شپ منصوبہ ہے، امید کرتے ہیں کہ سی پیک علاقائی روابط میں بھی اہم کردار ادا کرے گا، خطے کی امن و سلامتی سب سے اہم ہے، افغانستان وسطی اور جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتا ہے، ہماری ترجیح افغانستان میں استحکام ہے، ۔ جمعہ کو وسطی اور جنوبی ایشیاء رابطہ ممالک سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ گوادر پورٹ پر معاشی سر گرمیاں مارچ 2019 سے شروع ہوئی ہیں، سی پیک بی آر آئی کا فلیگ شپ منصوبہ ہے، امید کرتے ہیں کہ سی پیک علاقائی روابط میں بھی اہم کردار ادا کرے گا، خطے کی امن و سلامتی سب سے اہم ہے، افغانستان وسطی اور جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان سب سے بڑا مسئلہ ہے، اس پر بھی بات ہونی چاہیے۔ انہوں نے افغانستان کے صدر اشرف غنی کی جانب سے افغان تنازع میں پاکستان کے منفی کردار کی نشاندہی پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ افغانستان میں گڑبڑ سے جو ملک سب سے زیادہ متاثر ہوگا وہ پاکستان ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے گزشتہ 15 برسوں میں 70 ہزار جانوں کا نقصان اٹھایا ہے، تنازع میں اضافہ وہ سب سے آخری چیز ہوگی جو پاکستان چاہے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہماری معیشت بالآخر بحالی کی جانب گامزن ہے، اور ہم سب سے مشکل ترین ادوار میں سے ایک سے گزرے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں دوبارہ دہراتا ہوں افغانستان میں گڑبڑ وہ آخری چیز ہوگی جو پاکستان چاہے گا، میں آپ کو اس بات کا یقین دلاتا ہوں کہ کسی ملک نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پاکستان سے زیادہ کوششیں نہیں کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں طالبان کے خلاف فوجی کارروائی میں کمی کے ساتھ ہم نے انہیں مذاکرات کی میز پر لانے کی ہر کوشش کی ہے تا کہ ایک پر امن تصفیہ ہوسکے۔ وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں جو کچھ ہورہا ہے اس کا الزام پاکستان پر دھرنا انتہائی نا انصافی ہے، میں کابل گیا، اگر مجھے امن میں دلچسپی نہیں ہوتی تو میں کابل کیوں جاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام تر مقصد یہ تھا کہ ہم پاکستان کو امن میں شراکت دار دیکھیں، مجھے بہت مایوسی ہوئی کہ افغانستان میں جو کچھ ہورہا ہے اس کا الزام پاکستان پر لگایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں جو کچھ ہورہا ہے وہ 2 دہائیوں سے جاری تنازع، گہری تقسیم کی وجہ سے ہورہا ہے اور بدقسمتی سے امریکا نے عسکری حل کی کوشش لیکن وہ نہیں جیتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب افغانستان میں ہزاروں نیٹو فوجی، بہترین فوجی مشین تھی، وہ وقت تھا کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر آنے کو کہا جاتا، طالبان اب کیوں سمجھوتہ کریں گے جب فوجوں کے انخلا کی حتمی تاریخ دی جاچکی ہے اور صرف چند ہزار امریکی فوجی باقی رہ گئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب طالبان کو فتح کا یقین ہے تو وہ ہماری بات کیوں سنیں گے۔



  تازہ ترین   
قطری ایل این جی جہاز نے آبنائے ہرمز عبور کر لی، آج پاکستانی حدود میں داخل ہوگا
حماس بھی بورڈ آف پیس معاہدے سے متفق، غیر مسلح ہونے پر آمادگی ظاہر کر دی
وزیراعظم سے آذربائیجان کے سفیر کی الوداعی ملاقات، خضر فرہادوف کی خدمات کو سراہا
کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ جنرل عامر رضا کو نشان امتیاز (ملٹری) عطا کرنے کی منظوری
نئے انتظامی یونٹس ہی مسائل کا حل، معاملہ عوام کے پاس لے جانا ہوگا: محسن نقوی
نئے انتظامی یونٹس نہ بنانے سے گورننس مسائل بڑھ رہے ہیں، حکومت کو بزنس کمیونٹی کے قریب آنا ہوگا: میاں عامر محمود
لاہور کے علاقے سکھ نہر میں مکان کی چھت گر گئی، 4 بچوں سمیت 11 افراد جاں بحق
تربت سے دو روز قبل اغوا ہوئے 4 پنجابی اور 2 پشتون مزدوروں کی لاشیں برآمد





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر