کابل(نیشنل ٹائمز) افغانستان سے امریکی و نیٹو افواج کے انخلاءاور ملک کے بیشتر حصے پر طالبان کے قبضے کے بعد اپنی نوعیت کا غالباً پہلا ہولناک واقعہ رونما ہو گیا ہے۔ افغان صوبے فریاب میں طالبان نے امریکی فوج کے تربیت یافتہ 22کمانڈوز کو گولیاں مار کر موت کے گھاٹ اتار ڈالا ہے۔ فریاب کے قصبے دوالت آباد میں افغان فوج کے ان کمانڈوز نے لڑائی کے بعد طالبان کے آگے سرنڈر کیا تھا۔سرنڈر کرنے کے بعد ان کمانڈوز کو قصبے کے چوراہے میں لے جایا گیا اور کھلے عام گولیاں مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ درحقیقت 16جون کو پیش آیا تھا، جس کی ویڈیو اب منظرعام پر آئی ہے۔ اس قصبے پر قبضے کے لیے طالبان اور افغان فوج میں خوفناک جنگ ہوئی تھی، جس میں طالبان کو فتح ہوئی اور ان 22کمانڈوز نے سرنڈر کر دیا تھا۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مقامی لوگ طالبان سے التجا کر رہے ہوتے ہیں کہ ان کمانڈوز کو مت قتل کرو، تاہم طالبان اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر ان نہتے کمانڈوز پر فائرنگ کر دیتے ہیں۔منظرعام پر آنے والی ایک اور ویڈیو میں ان کمانڈوز کی لاشیں زمین پر خون کے تالاب میں پڑی ہوتی ہیں۔مقامی لوگوں نے سی این این کو بتایا کہ طالبان نے ان لوگوں کو گھیرے میں لے لیا تھا۔ افغان فوج یا نیٹو افواج کی طرف سے ان کمانڈوز کو کوئی بیک اپ نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے وہ سرنڈر کرنے پر مجبور ہو گئے۔
طالبان نے سرنڈر کرنے والے امریکی فوج کے تربیت یافتہ 22کمانڈوز کو چوراہے میں کھڑا کرکے گولیاں مار دیں



