ہم سب ابتسام ہیں

خامہ اثر : قاضی عبدالقدیر خاموش
پاکستان کا المیہ اس کا صفویوں کا پڑوسی ہونا ہی نہیں بلکہ اندرون ملک صفویوں کے بے دام غلاموں کی بھرمار ہے ، جو کھاتے پاکستان کا ہیں تو گاتے ایران کا ہیں ، رہتے یہاں پر ہیں تو وفاداریاں تہران سے نباہتے ہیں ۔ ایران کے متعصب صفوی حکمران ایک جانب خمس کے نام پر ان کا خون چوستے ہیں تو دوسری جانب انہیں کو استعمال کرکے سرزمین پاک پر خون ریزی کرتے ہیں ، شیعہ سنی تو یہاں صدیوں سے ہیں مگر ان میں خونیں تصادم ایران کے صفوی انقلاب کے بعد اس وقت شروع ہوا جب تہران نے اپنی سیاسی ضرورتوں کے تحت انقلاب برآمد کرنے کا نعرہ تخلیق کیا اور اولیں ہدف پاکستان قرار پایا ۔پاکستان میں حضرات صحابہ ؓ کی عزت وناموس پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوا تو جن ارباب علم ودانش نے دلیل کی بنیاد پر ردکیا اور صفویت کے اس سیلاب کے آگے بندھ باندھا ان میں سر فہرست علامہ احسان الٰہی ظہیر کا نام ہے ، آج بھی دنیا بھر میں جعلی انقلاب کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ علامہ شہید ؒکے دلائل ہیں ۔ یہ اس وقت کی آگ ہے جو صفویوں اور ان کے غلاموں کے سینوں میں دہک رہی ہے ۔ ان کی دوسری تکلیف آل ابن صبا کی جانب سے توہین صحابہ ؓ کی مہم کے دوران علامہ ابتسام کا جاندار اور جرأت مندانہ موقف ہے ، انہوں نے اپنے عظیم والد کے حقیقی جانشیں ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ، توہین بریگیڈ کو نہ صرف للکارا بلکہ ان کے پس پردہ حکومتی کارندوں کو بھی بے نقاب کیا ۔
علامہ ابتسام الٰہی ظہیر اور ان کے بھائی حشام الٰہی ظہیر کے خلاف منظم مہم کوئی اچانک سامنے آجانے والا معاملہ نہیں ہےکہ اسے وقتی اشتعال انگیزی قرار دے کر نظر انداز کردیا جائے ۔ اس کے پیچھے نفرت اور انتقام کی ایک طویل تاریخ ہے ۔ ورنہ معاملہ کیا ہے ؟ سیدنا علی ؓ سمیت تمام صحابہ ؓ صرف ابتسام ہی نہیں ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہیں ، وہ توہین کا سوچ بھی نہیں سکتے ، جس معاملہ کو بنیاد بنایا جارہا ہے ، اس سازش کے کسی ایک کردار کا بھی علامہ ابتسام سے دور کا بھی تعلق اب تک ثابت نہیں کیا جاسکا۔اس تمام تر قصہ میں حکومت اور حکومتی اداروں کا کردار انتہائی شرمناک دکھائی دیتا ہے ۔ الزام تراشی کے فوراً بعد ہی حقیقی ملزم کا علم سب کو ہوگیا تھا ، لیکن پولیس اور اداروں نے کارروائی میں دانستہ تامل کیا اور الزام تراشی کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا ۔سوال یہ ہے کہ کیوں ؟؟؟؟ ایک وجہ تو سرکاری اداروں میں غلامان آل ابن صبا کے کرداروں کی موجودگی ہے اور دوسری وجہ یہ کہ سب کو علم تھا کہ ذاتی منصب ومنفعت کے لئے علامہ احسان الٰہی ظہیر کا نام استعمال کرنے والی اہل حدیث قیادت کہیں وجود ہی نہیں رکھتی ، وہ اس معاملہ میں سامنے کبھی نہیں آئے گی ، اور ایسا ہی ہوا بھی ۔ یہی وجہ ہے کہ ملک بھر میں غلیظ پروپگنڈے اور بے بنیا دالزام تراشی کے بعد اب معاملہ سنگین صورت اختیار کرگیا ہے ،اور صفوی گماشتوں نے سیدھی قتل کی دھمکی دے ڈالی ہے ۔ یہی ان کی پرانی ریت وروائت ہے ، علامہ احسان الٰہی ظہیر کا علمی میدان میں مقابلہ ممکن نہ رہا تو شہید کردیا گیا ، لیکن آج ان کی جرأت کا اندازہ لگائیں کہ سر عام ملک بھر میں علامہ ابتسام الٰہی ظہیر اور ان کے بھائی کے سر کی قیمت مقرر کی جارہی ہے ، جس کا اس کے سوا کوئی مطلب نہیں کہ یہ اعلان کرنے والے ان کے قتل کی منصوبہ بندی کر رہے ہے ۔ ان میں اتنی جرأ ت کسی سر پرستی کے بغیر ممکن نہیں ۔ ان کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ سازشی ہیں چھپ کر وار کرنے اور اندھیرے میں فرار ہونے والے ، اگر یہ سروں کی قیمت مقرر کرنے تک آگئے ہیں تو یہ کسی سرپرستی اور ہلا شیری کے بغیر ممکن نہیں کیونکہ ملکی قانون کے مطابق کسی کے سر کی قیمت مقرر کرنا قتل عمد کی دھمکی ہے ، جو کہ قابل دست اندازی پولیس جرم ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ملک بھر کے امام باڑوں کے باہر قتل کی دھمکی کے بینر لگے ہیں اور پولیس سمیت تمام ادارے منقار زیر پر ہیں ، ملک کے کسی گوشے سے ، کسی ادارے کے متحرک ہونے یا کسی کی گرفتاری ،کسی کے خلاف مقدمہ کی کوئی اطلاع نہ ہونے کا اس کے سوا کیا مطلب لیا جائے کہ حکومت اور اس کے ادارے قتل کی اس دھمکی کی سرپرستی کر رہے ہیں ، اور حکومتی حلقوں میں شامل ایرانی لابی اعلیٰ ترین سطح سے اس بدمعاشی کی قیادت کر رہی ہے ۔ حکومت کی خاموشی قابل فہم ہے ، حکومتی اداروں کی مجبوریاں بھی مخفی نہیں ، یہ سب صفویوں کے بے دام غلام ہیں ۔ سوال تو یہ ہے کہ علامہ شہید ؒ کے سیاسی و مذہبی وارث کہاں ہیں ؟ ان کی کوئی خبر کیوں نہیں آرہی ؟ اہل حدیثوں کی دسیوں جماعتیں اور تنظیمیں کہاں ہیں ،؟ وہ چپ کا روزہ کیوں رکھے ہوئے ہیں ؟۔ان کی جانب سے احتجاج تو چلو مشکل کام سہی ، کم ازکم علامہ ابتسام کے ساتھ اظہار یکجہتی تو کیا جاسکتا تھا، مگر کیوں نہیں کیا گیا ؟ان کے ساتھ کھڑے نہ ہوں کہ اس کے لئے جس دل گردے اور ہمت کی ضرورت ہے، اگر وہ کسی کے پاس ہوتا تو دشمن کو اس دھمکی کی جرأت تک نہ ہوتی ، کم ازکم اتنا ہی کرلیتے کہ چھپ چھپا کرہی سہی علامہ ابن علامہ کو فون تو کیا ہوتا ، سوشل میڈیا پر ان کا دفاع تو کیا ہی جاسکتا تھا ۔ ہر سو خاموشی بتاتی ہے کہ
غیرت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے
علامہ ابتسام اور ان کے احباب جو اس معاملہ میں سنجیدہ ہیں ، ان کو چاہئے کہ وہ اس حرکت کو اس کے درست تناظر میں دیکھیں ، بلا شبہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے ، لیکن احتیاط اور دفاع بھی سنت رسول میں سے ہے ۔ اس لئے اول مکمل احتیاط اور دفاعی اقدامات کئے جائیں ، کسی قسم کی کوتاہی نہ کی جائے۔ خدارا اس معاملہ کو سنجیدہ لیں ، ہم کسی اور سانحہ کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔دوسرے یہ کہ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے از خود کسی کارروائی سے گریزاں ہیں تو آپ خود قانونی کارروائی کے لئے قدم بڑھائیں ، سوشل میڈیا پر سر کی قیمت والی پوسٹوں کے سکرین شارٹس لے کر سائبر کرائم ونگ ایف آئی اے اور پولیس کے پاس مقدمات درج کروائے جائیں ، جہاں جہاں بینر لگائے گئے ہیں ، ان کی تصاویر بنا کر پولیس میں ارادہ قتل اور بلوہ کی سازش کے مقدمات درج کروائے جائیں۔ ایک مقدمہ کافی نہیں ہوگا ، جس شہر یا تھانے کی حدود میں بینر دکھائی دے ،یا کوئی تقریر کی جائے اسی تھانے میں مقدمہ درج کروایاجائے ، تیسری جانب عدالت میں ارادہ قتل کے خلاف اور اپنے تحفظ کے لئے رٹ دائر کی جائے ۔ اس تمام عمل میں ایک چیز کاخیال رکھا جائے کہ مقدمہ جہاں بھی درج کروائیں ، اصل ملزم کے ساتھ ساتھ ملزموں کی قیادت کو ضرور سر پرستی کے طور پر نامزد کریں ۔
ہم اس موقع پرملکی سلامتی کے اداروں کو بھی متوجہ کرنا چاہتے ہیں کہ کہ اتنی خاموشی اچھی نہیں ہے ۔ ایران صفوی حکومتیں ہمیشہ سے اس ملک میں فسادات کرواتی آرہی ہیں ، اب پھر وہ ایک نئے فساد کی جانب بڑھ رہے ہیں ، اسی سلسلہ میں علامہ ابتسام الٰہی کو دھمکی دی گئی ہے ۔ حکومتی اداروں اور ملکی سلامتی کے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سازش کی گہرائی کا اندازہ کریں ، کیونکہ اگر خدانخواستہ کوئی نقصان پہنچا تو ہمیشہ سے امن کے داعی اہل حدیث مکتب فکر سے شدید رد عمل کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ، اگر سرکاری ادار ے اس تمام صورتحال کو اہل حدیثوں کی سیاسی قیادت کی کمزوری کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں تو یہ ان کی غلطی ہے ۔ ہر اہل حدیث کا دل علامہ ابتسام کے لئے دھڑکتا ہے ۔ دوسرے یہ کہ صرف اہل حدیث ہی نہیں پھر اہل تشیع کے سوا ہر مکتب فکر سے رد عمل آئے گا ۔ ملک کے امن وامان اور لاء اینڈ آرڈر کے پیش نظر حکومتی اداروں کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہئے ، ایسا نہ ہو کہ بہت دیر ہوجائے ۔



  تازہ ترین   
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز
سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور
عافیہ صدیقی کیس: آئینی عدالت نے ہائیکورٹ کو وفاقی حکومت کیخلاف کارروائی سے روک دیا
وزیراعظم شہباز شریف کے اہم غیر ملکی دوروں کا شیڈول تیار
کے پی اور وفاق میں اتفاق: مالا کنڈ میں فوج کی ذمہ داریاں صوبائی حکومت کو تفویض
وزارت خزانہ کی ورکنگ نامکمل، پانڈا بانڈز کے اجراء میں چوتھی بار تبدیلی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر