افغانستان…. نیا منظر نامہ .

خامہ اثر.. قاضی عبدالقدیر خاموش
طالبان کی مرکزی کمان نے ایک مکمل جنگی منصوبہWAR PLANE تشکیل دے رکھا ہے ، اس کے تحت اگر کوئی عبوری سیٹ اپ بن جاتاہے تو بھی اگر نہیں بنتا تو بھی طالبان امریکی فورسز کے نکلنے کے ساتھ ہی باگرام ایئر پورٹ Bagram Airport کا کنترول سنبھالیں گے ، اس مقصد کی تمام تیاری مکمل ہے ۔ کابل کے ارد گرد کے علاقوں کو تین حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے ، کابل کے گرد 7مقامات پر بھاری ہتھیار اور بھاری مقدار میں طالبان جنگجو پہنچا دئے گئے ہیں ۔ اس طرح 7اڈوں کے ساتھ طالبان کابل کا مکمل محاصرہ کرچکے ہیں ۔
…صرف کابل کا محاصرہ کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ کابل کے مضافاتی علاقوں پر کنٹرول بڑھالیا گیا ہے ،اورایک طرح سے غیر علانیہ کٹرول کرلیا گیا ہے ، ان علاقوں میں سروبیsurubi،صوبہ پراوانparawan کے علاقے چاریکار charekar ،باگرامbagram،غوربند gourband،جبل السراجjabl alsiraj، سلانگsalang،سید خیل sayed kheel ،شنواری shenwari،دکنڈی dkandi،گڑاپgarap،کجرانkajran،صوبہ غورghur کے کابل سے ملحق علاقے دولیناdoleena، پاسندPASAND ، حراتJARAT کا علاقہ شین ڈھنڈSHEEN DAND،بلخ BALAKHکا علاقہ چہارآسیابCHAHAR ASYAB،بولاکBOLAK، چمٹال CHAMTAL،دولت آبادDOLAT ABAD،حیرتانHEERTAN ،کالادرKALADAR،شامل ہیں ۔
……کابل شہر کے اندر طالبان کے رابطے : طالبان جنگی شوریٰ کے ایک اہم رکن نے بتایاہے کہ طالبان کو اس بات کا پوری طرح سے احساس ہے کہ کابل انہیں لڑے بغیر نہیں ملے گا اس لئے وہ اپنی پوری تیاری کئے ہوئے ہیں اور کابل کے چاروں جانب شہر کے قریب خفیہ مقامات پر بھاری اسلحہ اور افرادی قوت کو جمع کیا جارہا ہے ، راز داری اور خاموشی کے ساتھ ہونے والی تمام تیاری کا مقصد یہ ہے کہ جیسے ہی امریکی نکلیںکابل پر حملہ کردیا جائے گا۔ اطلاعات ہیں کہ شہر کے اطراف میں افرادی قوت اور اسلحہ ہی جمع نہیں کیا جا رہا بلکہ دارلحکومت کے اندر اہم سرکاری محکموں کے عہدیداروں میں بھی طالبان اپنے وفادار تلاش کر لئے ہیں، طالبان کے ایک ذریعہ کا دعویٰ ہے کہ وہ اس حد تک تیاری کرچکے ہیں کہ کابل سرکاری فوج اور دیگر مسلح اداروں کے افسران کی بڑی تعداد حملہ ہوتے ہی طالبان کے ساتھ آن ملے گی ۔
……اس کے ساتھ ہی طالبان شمال میں مزار شریفmazar shareef اور تخارtakhar پر جنگی دباء بڑھا دیا ہے ، اب وہاں صرف مزار شریف شہر اور قندوز شہر حکومت کے پاس بچے ہیں۔
…… جنگ کے دوران خوراک ،جنگی سازوسامان کی نقل وحرکت کے روٹس مقرر کردئے گئے ہیں
شمال کی صورتحال یہ ہے کہ جون شروع ہوتے ہی طالبان کی شمالی کمان متحرک ہوئی اور صرف دو ہفتے میں تاجکستان کی پوری سرحدی پٹی پر قبضہ کرلیا ، اس سلسلہ کا آخری معرکہ 22 جون کو بندر شیر خان پر لڑا گیا ،جہاں سے فوجی لڑے بغیر یا تو طالبان سے آن ملے یا تاجکستان فرار ہوگئے ۔ 136 فوجی تاجکستان حکومت سے سیاسی پناہ طلب کرر ہے۔
…… دوسری جانب تاجک صدر کے دورہ پاکستان کے اثرات یوں سامنے آرہے ہیں کہ تاجک حکومت نے بھارتیوں سے کہہ دیا ہے کہ اڈے کی لیز تو ہم ختم نہیں کر رہے لیکن یہاں امریکیوں اور افغانیوں کی میزبانی کی اجازت نہیں دیں گے،افغانستان کی لڑائی میں کوئی کردار ادا نہیں کرو گے ۔تاجکستان کے ساتھ سرحد پربندر شیرخان سمیت پوری سرحد طالبان کے قبضہ میں آجانے سے بھارت سکتے میں ، اشرف غنی حیرت اور امریکہ اشتعال میں آگیا ہے ۔ بلخ میں استاد عطا دہائی دے رہا ہے کہ اکٹھے ہوئے بغیر طالبان کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا ، ویسے استاد عطا اسلام آباد اسلام آباد کا ایک اچھا اور مستقل مہمان بھی ہے ۔
قندوز میں صرف دارلحکومت کے سوا سب طالبان کے قبضے میں ہے ، اور دارالحکومت کا عالم بھی یہ ہے کہ غلام ربانی چیخ رہا ہے کہ شہریوں نے مدد نہ کی تو میرا ذمہ کوئی نہیں ، یعنی بھاگنے کو تیار۔۔۔ ۔مزار شریف بھی چہار جانب سے فتح ہوچکا ، شہر کے مضافات میں جنگ جاری ہے،افضل حبیب اور خیر اندیش سرکاری فورسز کے کماندان حضرات نے صاف کہ دیا ہے کہ ” سب طالبان سے جا ملے ہیں ، ہم اپنی آخری کوشش کر رہے ہیں” ۔
بغلان میں فیروز الدین عمیق کہتا ہے کہ طالبان کی آندھی نے تین ہفتے میں 6 اضلاع پر قبضہ کرلیا ہے ، ایسے میں اکیلا میں کیا کرسکتا ہوں ۔۔
……اس کا یہ مطلب نہیں کہ خانہ جنگی نہیں ہوگی ، البتہ شمال میں اس کی شدت اس لئے زیادہ نہیں ہوگی کہ طالبان نے وہاں راستے بند کردئے ہیں، لیکن کابل میں احمد شاہ مسعود کا بیٹا احمد مسعود اور بھائی احمد ضیا مسعود پوری تیاری میں ہیں۔ انہوں نے بہت پہلے سے کابل میں اپنی قوت جمع کر رکھی ہے ، طالبان کو بھی اس کا احساس ہے ، وہ بھی زیادہ تیاری ادھر ہی کے لئے کر رہے ہیں۔ احمد مسعود کا موقف دلچسپ ہے وہ کہتا ہے کہ “میں کابل بچانے کے لئے نہیں لڑ رہا صرف کابل میں اس لئے ہوں کہ یہاں لڑائی جم کے ہو سکتی ہے ،ہار جیت مقصد نہیں، میں نے تو بس لڑنا ہے،طالبان میرے باپ کے دشمن ہیں ”۔
مزے کی بات یہ ہے کہ استاد ربانی کے بیٹے صلاح الدین اور شمالی اتحاد کے کئی سابقون سمیت عبداللہ عبداللہ بھی اسلام آباد سے پیغام رسانیجاری رکھے ہوئے ہیں ۔
٭…… سیکیورٹی کے حوالہ سے افغانستان میں امن کی منزل دور دکھائی دے رہی ہے ، کیونکہ حکومت طالبان مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی دونوں صورتوں میں خونریزی کا ایک نیا دور دکھائی دے رہا ہے ۔امریکہ کے نکلنے کے بعد خانہ جنگی کے امکانات بہت واضع ہیں اور اس کی تیاریاں بھی دکھائی دے رہی ہیں اور بعض عسکری تجزیہ نگار یہ بھی کہ رہے ہیں کہ امریکی نکل ہی اس لئے رہے ہیں کہ ان کے جانے کے بعد انہیں یقین ہے کہ طالبان آسانی سے حکومت بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے ، انہیں ایک طویل جنگ لڑنا پڑے گی ، جس میں طالبان مخالف گروپس کو امریکہ اور دیگر طالبان مخالف قوتوں کی جانب سے اسلحہ اور مالی مدد دئے جانے کے بعد یہ جنگ شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے ۔
کابل کی متوقع جنگ اور فریقین کی تیاریاں:
کابل اس وقت جنگ بلکہ خونریزی کے دھانے پر کھڑا ہے ۔ مزاکرات کی کامیابی یا ناکامی دونوں صورتوں میں خونریزی کابل کا مقدر ہے، اور اس کے لئے صرف زیادہ سے زیادہ ایک ماہ کا وقت باقی ہے ۔ طالبان جنگی شوریٰ کے ایک اہم رکن نے بتایاہے کہ طالبان کو اس بات کا پوری طرح سے احساس ہے کہ کابل انہیں لڑے بغیر نہیں ملے گا اس لئے وہ اپنی پوری تیاری کئے ہوئے ہیں اور کابل کے چاروں جانب شہر کے قریب خفیہ مقامات پر بھاری اسلحہ اور افرادی قوت کو جمع کیا جارہا ہے ، راز داری اور خاموشی کے ساتھ ہونے والی تمام تیاری کا مقصد یہ ہے کہ جیسے ہی امریکی نکلیںکابل پر حملہ کردیا جائے گا۔ اطلاعات ہیں کہ شہر کے اطراف میں افرادی قوت اور اسلحہ ہی جمع نہیں کیا جا رہا بلکہ دارلحکومت کے اندر اہم سرکاری محکموں کے عہدیداروں میں بھی طالبان اپنے وفادار تلاش کر لئے ہیں ، طالبان کے ایک ذریعہ کا دعویٰ ہے کہ وہ اس حد تک تیاری کرچکے ہیں کہ کابل سرکاری فوج اور دیگر مسلح اداروں کے افسران کی بڑی تعداد حملہ ہوتے ہی کے ساتھ آن ملے گی ۔ لیکن اس کے باوجود انہیں ایک بڑی جنگ لڑنا پڑے گی کیونکہ سرکاری فوج کے علاوہ بھی عوامل موجود ہیں جو کابل پر طالبان کے قبضہ کی مزاحمت کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں ۔
کابل میں طالبان مخالف عناصر:
افغانستان کے سابق گوریلا لیڈر احمد شاہ مسعود کا چھوٹا بھائی احمد ولی مسعود اور احمد شاہ مسعود کا بیٹا احمد مسعود کابل پر طالبان کے خطرے کو دیکھتے ہوئے، مزاحمت کی تیاری کر چکے ہیں،احمد شاہ مسعود کا چھوٹا بھائی احمد ولی مسعود فائونڈیشن کا سربراہ اور احمد شاہ مسعود کا بیٹا احمد مسعود مسعود فائونڈیشن کا سی ای او ہے اور رائل ملٹری اکیڈمی سینڈھرسٹ کا گریجویٹ ہے ، گزشتہ سال ستمبر میں احمد شاہ مسعود کی برسی پر انہوں نے اپنے حامیوں کے ذریہ سے پورے کابل شہر پر قبضہ کی ریہرسل بھی کی اور پورا دن ہزاروں کی تعداد میں گولیاں فائر کیں ، کابل میں احمد شاہ مسعود کے پرانے ساتھی اور اس وقت کابل حکومت کے سیکیورٹی سیٹ اپ میں اہم ذمہ دار عطا ء الرحمٰن سلیم نے اس صورتحال کے حوالہ سے بتایا ہے کہ احمد ولی اور احمدمسعود نے پورے شہر میں اپنے حامیوں کو مسلح کیا ہے، نہ صرف یہ کہ انہیںمنظم کیا جارہا ہے بلکہ انہیں سرکاری بندوبست میں اسلحہ جمع کرنے کی بھی ترغیب دی گئی ہے ، ان کا کہنا ہے کہ کابل میں ان کے اتنے لوگ مسلح اور تیار حالت میں موجود ہیں کہ طالبان کے حملہ کا دفاع بخوبی کیا جا سکتا ہے ۔ اس تمام صورتھال کا ایک ہی مطلب ہے کہ کابل ایک نئی خونریزی کی جانب بڑھ رہا ہے۔
دوستم ملیشیا:
افغانستان کے نائب صدر رشید دوستم بھی مستقبل کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اپنی ملیشیا کو تیار کر چکے ہیں ، جوزنجان سے تعلق رکھنے والا رشید دوستم پہلے بھی طالبان کے خلاف شدید لڑائیاں لڑ چکا ہے ، اس کی ملیشیا جسے ماضی میں گلم جم کہا جاتا تھا اسے افغان نیشنل آرمی میں ضم نہیں کیا گیا تھا اب جوزنجان میں متحرک ہے ، اور بلخ میں استاد عطا کی ملیشیا سے اس کی جھڑپین بھی ہو چکی ہیں ۔ کابل میں ذرائع کا دعویٰ ہے کہ دوستم کو بھی احمد ولی کی طرح امریکی ّشیرباد حاصل ہے اور وہ بھی اس تیاری میں ہے کہ امریکیوں کے نکلنے کی صورت میں طالبان کے خلاف جنگ کی جائے گی ۔ کابل کی طرح جوزنجان میں بھی خون ریزی کا خطرہ پوری شدت سے موجود ہے ۔ استاد عطا کی ملیشیا : بلخ کے گورنر استاد عطا بھی طالبان دشمن اتحاد شمالی اتحاد کے اہم کمانڈر رہے ہیں ، اس وقت وہ بھی اپنی قوت جمع کرکے آنے والے حالات کا انتظار کر رہے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں بلخ طالبان کو نہیں لینے دینگے ۔
جنگ کی زمینی صورتحال:
طالبان کے خلاف اگر کوئی حقیقی لڑائی شروع ہونے والی ہے یا جس کو خانہ جنگی کا خطرہ کہا جاسکتا ہے تو وہ شمال میں فارسی(دری) بولنے والوں کا علاقہ ہے جہاں عبدالرشید دوستم عطا محمد نور اور اور استاد محقق مل کر ایک عسکری اتحاد قائم کرنے لگے ہیں۔ عبدالرشید دوستم ترکی میں ہیں اور ترکی حکومت کی اشیر باد سے پیغام پر پیغام دے رہے ہیں کہ عنقریب آئیں گے اور طالبان سے اپنا علاقہ جوزجان خالی کروائیں گے۔ان تین بندوں کے پاس مزارشریف کا مرکزی علاقہ، بامیان اور فاریاب کے علاقے ہیں ان سے آگے ان کا کوئی اثر ورسوخ نہیں۔ البتہ پنجشیر میں احمد مسعود جنگ کو پرتول رہا ہے۔ نقشے میں دیکھ سکتے ہیں پنجشیر کا اپنا رقبہ کتنا ہے۔پشتون علاقوں میں اب تک فوٹو سیشن کی حد تک بھی کوئی نمایاں بغاوت نظر نہیں آتی۔ جبکہ طالبان کے قبضے کی زیادہ خبریں شمال سے آرہی ہیں۔ طالبان شمال میں زیادہ تیزی آگے بڑھ رہے ہیں۔
وسری طرف افغان حکومت اپنے تربیت یافتہ کمانڈوز، آرمی اور پولیس کی کارکردگی سے مایوس ہونے کے بعد عوام کو طالبان سے لڑانے کی کوشش کررہی ہے۔ عوامی تحریک کے عنوان سے کچھ تصویریں زیر گردش ہیں جن میں لوگوں کو ہتھیار اٹھائے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس فوٹو سیشن کی مصنوعیت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ ان میں کچھ خواتین بھی نظر آرہی ہیں۔ جن کے اجھلے استری لباس اور اسلحہ پکڑنے کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کتنا لڑنے کو آمادہ ہیں۔ پھر اگر بات خواتین سے اپنا دفاع کروانے تک پہنچ گئی ہے تو اس سے بہتر ہے صلح کرلی جائے۔طالبان کے خلاف سول لباس میں ہی سول لوگ بھی لڑ رہے ہیں یہ سچ ہے۔ مگر ان کو لڑانے کا منصوبہ ابھی کا نہیں۔ اس کا آغاز امریکہ نے خود 2012 میں صوبہ غزنی ضلع شلگر سے کیا تھا۔ شلگر میں بڑے پیمانے پر ہتھیار اور ڈالر تقسیم کیے گئے۔ یہ غیر منظم اور قاعدہ قانون سے ماورا جنگجو طالبان کے لیے ابتدائی سالوں میں لوہے کے چنے ثابت ہوئے۔ امریکہ نے غزنی کے بعد یہ سلسلہ پورے ملک میں پھیلادیا۔ ہر علاقے میں ان کے کمانڈرز اور جنگجو سامنے آنے لگے۔ افغان حکومت کی بجائے ان کمانڈروں کا رابطہ براہ راست امریکی افسروں سے تھا اسلیے اسلحہ اور پیسے کی وصولی میں انہیں مشکلات پیش نہیں آتی تھیں۔ اس لیے یہ ادارہ بہت پلا پھولا۔ بعد میں ایک طرف امریکیوں کی نقل وحرکت محدود ہونے لگی دوسری طرف طالبان نے ان سول جنگجووں کو قابو کرنا شروع کیا۔ یوں اس کی جو ابتدائی دھاک تھی وہ ختم ہونے لگی۔ اب یہ افغان حکومت ہی کے ماتحت ادارہ ہے جو پولیس آرمی کے ساتھ انہیں کے مراکز میں کام کرتاہے۔ اب بھی افغان حکومت جن سول جنگجووں کی تصاویر شائع کرتی ہے تو یہ انہیں جنگجووں کی ہیں جن کو دوہزار بارہ سے طالبان اربکی کے نام سے جانتے ہیں۔
افغان فوج کی صورتحال :
افغانستان میں اضلاع پر طالبان کا قبضہ بڑھ رہا ہے۔ جس تیزی سے افغان آرمی کے اہلکار اور کمانڈوز سرنڈر کررہے ہیں اتنا تو شاید طالبان کو بھی اندازہ نہیں تھا۔ اس وقت جرنیلوں سمیت 80فیصد افغان جوج سرنڈر کر چکی ہے یا کرنے کو تیار ہے ۔ اس کا ندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ تاجک بارڈر پر سب سے اہم اڈہ بند شیر خان صرف 90منٹ میں فتح ہوگیا ۔ طالبان ہتھیار ڈالنے والوں کو معاف کررہے ہیں شاید یہ ان کی مزید کامیابی کا ذریعہ ثابت ہورہا ہے۔ جہاں جہاں آرمی کو مشکلات کا سامنا ہونے لگتا ہے وہ طالبان کے آفر سے فائدہ اٹھانا شروع کردیتے ہیں۔ایسی بے شمار ویڈیوز گردش میں ہیں جن میں آرمی اہلکار ہتھیار ڈال رہے ہیں۔ کئی دنوں کے محاصرے اور شدید جنگ کے بعد زندگی سے مایوس سپاہی کو جب اس کا دشمن گرفتاری کے بعد اعزاز واکرام دیتا ہے تو اس کے احساسات کیا ہوتے ہیں یہ ان ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے۔
سیاسی صورتحال :
دوسری طرف سیاسی صورتحال یہ ہے کہ طالبان کی سیاسی قیادت کے نام تین ماہ کے لیے اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ سے نکال دیے گئے ہیں۔ اس میں مزید پیش رفت بھی ہوسکتی ہے اگر افغان مذاکرات آگے بڑھیں۔ امریکہ کی جانب سے سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے یہ اقدام کیا گیا ہے۔ کیوں کہ اقوام متحدہ سے خود کو تسلیم کروانا ان کے لیے بہرحال اہمیت رکھتا ہے۔



  تازہ ترین   
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز
سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور
عافیہ صدیقی کیس: آئینی عدالت نے ہائیکورٹ کو وفاقی حکومت کیخلاف کارروائی سے روک دیا
وزیراعظم شہباز شریف کے اہم غیر ملکی دوروں کا شیڈول تیار
کے پی اور وفاق میں اتفاق: مالا کنڈ میں فوج کی ذمہ داریاں صوبائی حکومت کو تفویض
وزارت خزانہ کی ورکنگ نامکمل، پانڈا بانڈز کے اجراء میں چوتھی بار تبدیلی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر