اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) مفتی عزیز الرحمان ویڈیو سیکنڈل،طالب علم سے بدفعلی کیس ،فرانزک رپورٹ موصول،ویڈیو کا اصلی ہونا ثابت ہو گیا ۔طالب علم سے بدفعلی کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے،طالب علم سے بدفعلی کی آڈیو ویڈیو فرانزک تجزیے کے لیے جمع کروائی گئی تھی،ڈی آئی جی انویسٹی گیشن شارق جمال خان کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں ویڈیو کے ساتھ کسی قسم کی ایڈیٹنگ نہیں پائی گئی، شارق جمال خان۔ویڈیو میں موجود طالب علم صابر شاہ اور ملزم عزیز الرحمن دیکھے جاسکتے تھے،ویڈیو میں موجود اشخاص کے شخصی خدوخال طالب علم صابر اور ملزم عزیز الرحمن سے مطابقت رکھتے ہیں، وقوعہ کافی پرانا ہونے کی وجہ سے ڈی این اے تجزیہ نہ ہو سکا، بدفعلی جیسے سنگین جرائم میں ملوث افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں، مفتی عزیز الرحمان کوپولیس نے میانوالی سے گرفتار کیا تھا، ،وہ پولیس کے پاس ریمانڈ پر تھے اب ریمانڈ میں مزید توسیع کر دی گئی ہے دوران تفتیش گرفتار مفتی عزیز الرحمان نے پولیس کے سامنے اعتراف جرم کرلیا دورانِ تفتیش مفتی عزیز الرحمان کا کہنا تھا کہ ویڈیو میری ہی ہے جو صابر شاہ نے چھپ کربنائی طالبعلم صابر کو پاس کرنے کا جھانسہ دیکر اپنی ہوس کانشانہ بنایا ویڈیووائرل ہونے کے بعد خوف کا شکار ہوگیا تھا بیٹوں نے صابر شاہ کو دھمکی دی تھی اور اسے اس بات کو آگے کسی کو بتانے سے روکا تھا لیکن ویڈیو وائرل ہو گئیپاکستان کے مدارس میں زیادتی کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے. ان واقعات سے مدارس کی ساکھ بری طرح سے متاثر ہوگئی ہے. ہر آنے والے دن بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں مسلسل اضافے کی وجہ سے معاشرے کا ہر فرد پریشان ہے ۔
مفتی عزیز الرحمان ویڈیو سیکنڈل، طالب علم سے بدفعلی کیس ،فرانزک رپورٹ میں ویڈیو اصلی ثابت ہو گئی



