اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی اجلاس کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں۔ جس کے مطابق ملکی سلامتی سے متعلق معاملات پر سول اور عسکری قیادت ایک پیج پر ہیں۔ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے قبائلی علاقوں میں موجود فوج پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جہاں جاتے ہیں چیک پوسٹوں پر روکا جاتا ہے۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ مجھ سے علیحدگی میں بھی مل چکے ہیں، ہم نے ہمیشہ آپ کی بات سنی ہے، کیا آپ کبھی کسی شہید جوان کے گھر گئے ہیں، ہم شہادتیں دے رہے ہیں اور آپ فوج مخالف نعرے لگاتے ہیں۔آرمی چیف نے کہا کہ آپ کے علاقوں کو ترجیح سمجھ کر ترقیاتی کام کروائے، آپ کے علاقوں میں جوانوں کے سروں کو فٹ بال بنا کر کھیلا گیا، حال ہی میں ہمارے پانچ جوان شہید ہوئے، ہم بھی انسان ہیں، لوگوں کا دکھ درد محسوس کرتے ہیں۔پاک فوج کے سپہ سالار نے کہا کہ ہم نے ہزاروں لاپتا افراد کو بازیاب کروایا ہے، آپ کا کیا خیال ہے کہ ہم مسلمان ہوکر بے گناہوں کو پکڑیں گے، ہم کبھی نہیں چاہیں گے کہ آخرت میں ہمارے گلے میں پھندا ہو، آرمی چیف کے موقف پر اجلاس میں موجود ارکان نے ڈیسک بجا کر سراہا۔آرمی چیف کا امریکا کو اڈے دینے سے متعلق واضح مؤقفذرائع کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں آرمی چیف نے کہا کہ کسی کو اڈے نہیں دیں گے، ہماری سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، حکومتی پالیسی پر من و عن عملدرآمد کریں گے۔وزیراعظم اجلاس میں آنا چاہتے تھے ن لیگ ایسا نہیں چاہتی تھی، حکومتی ارکانچیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے اجلاس میں وزیراعظم کی عدم شرکت کا معاملہ اٹھایا جس پر حکومتی ارکان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم آنا چاہتے تھے مگر ن لیگ ایسا نہیں چاہتی تھی، ن لیگ نے اسپیکر کو کہا تھا اگر وزیراعظم آئے تو واک آؤٹ کریں گے۔شہباز شریف نے جنرل ضیا الحق کی افغان پالیسی پر تنقیدذرائع کا کہنا کہ ن لیگ کے ارکان اجلاس کے دوران آرمی چیف کے آس پاس کھڑے رہے، شہباز شریف بھی ان کے پاس جاکر کھڑے ہوگئے، شہباز شریف نے تقریر میں فوج کی قربانیوں کا اعتراف کیا۔اجلاس میں شہباز شریف نے جنرل ضیا الحق کی افغان پالیسی پر تنقید کی، اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ ہم جب آئے تو دہشت گردی عروج پر تھی، فوج نے قربانیاں دیں، 2001 تک حالات ٹھیک تھے بعد میں خراب ہوئے۔آرمی چیف نے شہباز شریف کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ حالات 2001 سے نہیں 1979 سے خراب ہونا شروع ہوئے تھے۔
’ہم شہادتیں دیتے ہیں اور آپ فوج مخالف نعرے لگاتے ہیں‘ آرمی چیف کا محسن داوڑ سے مکالمہ



