اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے غوری ٹائون کو غیر قانونی ہائوسنگ سکیم قرار دیتے ہوئے وزارت داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ معاملہ تحقیقات کے لئے فوری طور پر نیب کو ارسال کیا جائے‘ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے کمیٹی کو بتایا کہ غوری ٹائون کی انتظامیہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 14مقدمات درج کئے گئے ہیں اور سوسائٹی کے مالک کو گرفتار کرکے اس کا نام فورتھ شیڈول میں ڈال دیا گیا ہے‘ سی ڈی اے کی طرف سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ سال 2005ء سے غوری ٹائون کو غیر قانونی قرار دے کر اس کے دفاتر سیل کردیئے گئے تھے تاہم وہاں کے رہائشیوں کی طرف سے احتجاج پر یہ دفاتر کھولے گئے۔ منگل کو سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس کمیٹی چیئرمین سینیٹر محسن عزیز کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں سی ڈی اے کی طرف سے غوری ٹائون کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ سی ڈی اے حکام نے بتایا کہ غوری ٹائون ایک غیر قانونی ہاوسنگ سکیم ہے، 2005 سے سی ڈی اے یہ کہہ رہا ہے کہ غوری ٹائون غیر قانونی ہے۔2014 میں سی ڈی اے نے غوری ٹائون کے دفتر کو سیل کیا۔غوری ٹائون کے رہائشیوں نے ایکسپریس وے کو بلاک کیا جس کے بعد غوری ٹائون کو کھول دیا گیا۔ رکن کمیٹی اعظم تارڑ نے کہا کہ غوری ٹائون کے ہزاروں متاثرین ہیں۔ رہائشیوں نے اس حوالے سے گھر بنا لئے ہوں تو ان کو گرا کیسے سکتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے کمیٹی کو بتایا کہ اسلام آباد کے اندر 3 سوسائٹیز ہیں۔ بحریہ ٹائون، غوری ٹائون شاداب ٹائون جیسے سوسائٹیاں ہیں ان کو ایس ای سی پی کے پاس رجسٹر ہوتی ہیں۔کواپرٹیو ہاوسنگ سوسائٹیز کا معاملہ ضلعی انتظامیہ کے ماتحت آتا ہے۔یہ سارا معاملہ فیک الاٹمنٹ لیٹر کا ہے ۔ ابھی جو شخص غوری ٹائو ن کے امور کو دیکھ رہا ہے اس کے خلاف 24 مقدمات درج کئے ہیں۔ہم نے تھری ایم پی او کے تحت گرفتار بھی کیا اور اس کا نام فورتھ شیڈول میں بھی ڈالا ہے ۔ ارکان کمیٹی نے سفارش کی کہ غوری ٹاون کا کیس کو نیب کو بھیجا جائے جس پر چیئرمین کمیٹی نے اتفاق کرتے ہوئے وزارت داخلہ کو ہدایت کی کہ غوری ٹائون کا کیس تحقیقات کیلئے نیب کے سپرد کیا جائے گا۔
سینٹ قائمہ کمیٹی داخلہ نے غوری ٹائون کو غیر قانونی ہائوسنگ سکیم قرار دیدیا



