قومی اسمبلی میں بجٹ پر عام بحث 10ویں روز بھی جا ر ی رہی

اسلام آ باد (نیشنل ٹائمز) قومی اسمبلی میں بجٹ پر عام بحث 10ویں روز بھی جا رہی ، اجلاس میں پینل آ ف چیئر کے رکن امجد علی خان نے وزارت خزانہ و متعلقہ محکموں کے افسران کی ایوان میں عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار کیا اور انکے خلاف کاروائی کی ہدایت کی جبکہ اپوزیشن ارکان رانا تنویر حسین، مریم اورنگ زیب،حنا ربانی کھر، پیر فضل حسین جیلانی ، ریاض احمد پیرزادہ و دیگر نے کہا ہے کہیہ خون چوس اور ہڈی توڑ بجٹ ہے، کوئی شعبہ ایسا نہیں جس کا خون نہ چوسا گیا ہو، یہ زکوٹا جن کا بنایا ہوا بجٹ ہے، کون سی مافوق الفطرت قوتیں ہیں جس کے ذریعے عمران خان نے اتنی تیزی سے بیڑہ غرق کیا ہے،عمران خان کرپٹ نہیں لیکن یہ سب زکوٹا جن کا کمال ہے جو ساڑھے چار سو ارب کی چینی ،122ارب روپے کی ایل این جی اور 250ارب روپے کا آ ٹا ، 1200ارب روپے کی ویکسین ، 23فارن فنڈنگ اکائونٹ سے زکوۃ کے پیسے کھا گیا،پاکستان کی عوام زکوٹاجنوں کو ووٹ نہیں دے گی، وزیر خارجہ کو بڑی مشکل ہوتی ہے کہ وہ اسامہ بن لادن کا بتا سکیں کہ وہ شہید ہے یا نہیں ہے، وزیر اعظم کے خواتیں کے لباس کے حوالے سے بیان سے ریپ کرنے والے مجرموں کی حوصلہ افزائی ہوئی، بجٹ ایک فریب اور جھوٹ کا پلندہ ہے،گدھوں کی تعداد بڑھنے کی بنیاد دیکھی جائے تو یہ جی ڈی پی چار فیصد ہوسکتی ہے،حکومت اپنا اصل وقت گزار چکی ہے،اب ان سے کچھ نہیں ہوگا،لاہور کی زرعی زمینیں لوگوں سے چھین رہے ہیں،اس سے وہاں خون خرابہ ہوگا،مہمند ڈیم کا ٹھیکہ ہم نے 280 ارب روپے میں فائنل کیاانہوں نے وہی منصوبہ رزاق دائود کو 320 ارب روپے میں دے دیا گیا،جب ایم این اے اور ایم پی اے کے ساتھ منشیات والے ہوں تو منشیات کیسے ختم ہوگی،ہمارے ہر سال گوشوارے چھاپے جاتے ہیں مگر ججز اور جنرلز کے بھی گوشوارے چھاپیں پتا چل جائے گا کہ کون چور اور ڈاکو ہے، چولستان اور گوجرانوالہ میں لوگوں سے زمین چھین کر ہائوسنگ سوسائٹیاں بن رہی ہیں جبکہ وزیر مملکت علی محمد خان ، شاندانہ گلزار، احمد حسن ڈیہرو دیگر حکومتی ارکان نے کہا کہ نے کہا کہ عمران خان کی کامیاب پالیسی کی وجہ سے معیشت ترقی کی طرف گامزن ہے،اگر اپوزیشن کے پاس بجٹ پر بات کرنے کیلئے کچھ نہیں تو گھر بیٹھیں، اس ملک کو یہ قیمہ بنا کر گئے اسکو ٹھیک کرتے کرتے ہماری کمر ٹوٹ رہی ہے،ملک کو سودی نظام سے باہر نکالا جائے، ملتا ن میں اقتصادی زون بنایا جائے، عمران خان کی ٹیم میں بھی کرپٹ لوگ بیٹھے ہیں اجلاس کے دوران جمیعت علما ء اسلام کے رکن مولانا عبد الشکور کی جانب سے کورم کی نشاندہی پر اجلاس کورم مکمل ہونے تک موخر کیا گیا۔جمعرات کو قومی اسمبلی کا اجلاس پینل آ ف چیئر کے رکن امجد علی خان کی صدارت میں ہوا،بجٹ پر عام بحث 10ویں روز بھی جاری رہی ۔ بجٹ پر عام بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہاکہ اس ایوان نے اسلامی سزاؤں کی اور خاتم النبین کی قرارداد پاس کی، یہ ملک صدا رہنے کیلئے بنا ہے، موٹرویز کا کریڈٹ میاں صاحب کو جاتا ہے، بھٹو صاحب کو قادیانیت کے خلاف کام کرنیکا کریڈٹ جاتا ہے، اگر بھٹو نے غریب کی زبان کو آواز دی تو عمران خان یوتھ کو سیاست میں لائے، عمران خان نے احتساب کا پیغام دیا، ہم نے اپنے ہی لوگوں کیخلاف احتساب شروع کرایا، احساس پروگرام کے ذریعے کوشش کر رہے ہیں کہ مزدور کو کھانا مل سکے، اس ملک نے ایدھی بھی پیدا کیا اور عرفہ کریم بھی پیدا کی، اس ملک نے بے نظیر بھی پیدا کی، احتساب کو کبھی کمپرومائز نہ کریں اپنی لیڈر شپ سے سوال کریں، اس پاکستان کو مضبوط کریں گے، آئیں اپنی زراعت کو مضبوط کریں، مہمند ڈیم کا کام شروع ہو چکا، میں نہیں کہتا ہم نے شروع کیا یہ ایک لمبا منصوبہ ہے، یہ ڈیم پی ٹی آئی نہیں پاکستان کے کھیت کو سیراب کریگا، پرویز خٹک نے صوبائی بجٹ سے پہلی موٹروے بنائی،آئیں اپنے تعلیمی اداروں پر انوسٹ کریں، ہم آئین، ختم نبوت، حرمت رسول اور پاکستان پر ایک ہیں،عمران خان نے کہا کہ کسی مسلم ملک کیخلاف میری زمین نہیں ملے گی۔نبی پاک نے ساڑھے 14 سو سال پہلے کہا تھا مجھے ہند سے ٹھنڈی ہوائیں آتی ہیں،جب تک دنیا ہے تب تک کلمہ طیبہ رہیگا پاکستان زندہ رہیگا، قائد اعظم نے پاکستان کیلئے مدنی ریاست کا خواب دیکھا،جب بچوں کی ریپ کی آواز آئی تب اس ایوان میں سرعام پھانسی کی قرارداد آئی ،عمل چاہے جب بھی ہو،میں ہر بجٹ سپیچ میں رونا روتا ہوں سودی نظام سے نکلو۔سروسز، انڈسٹری کا ٹارگٹ حاصل کیا ۔مریم اورنگزیب نے کہاکہ کوئی شعبہ ایسا نہیں جس کا خون نہ چوسا گیا ہو۔ یہ خون چوس اور ہڈی توڑ بجٹ ہے۔ یہ زکوٹا جن کا بنایا ہوا بجٹ ہے۔ پیٹرول بجٹ کے اگلے دن ہی مہنگا ہو گیا۔ میں مانتی ہوں عمران خان کرپٹ نہیں ہے، یہ سب زکوٹا جن کرتا ہے۔ایک انا کا جن بھی ہے جس نے نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ عمران خان نے نظام کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے۔ انا کا جن انہیں شہباز شریف سے مشاورت نہیں کرنے دیتا اعلی عہدوں پر تقرر کیلئے۔ عمران خان کا انا کا جن صرف دو مرتبہ چھٹی جاتا ہے۔ ایک تب جب نواز شریف کے منصوبوں پر تختی لگانی ہو۔ دوسرا تب جب نواز شریف کے بنائے منصوبے گروی رکھنے ہوں۔ آج جس پر پاکستان چل رہا ہے وہ بجلی نواز شریف نے بنائی۔ انتخابی اصلاحات وہ ہوتی ہیں جو اسحاق ڈار کی سربراہی میں کمیٹی نے کیں۔ قانون سازی کو بلڈوز کر کے انتخابی اصلاحات نہیں ہوتیں۔پاکستان کے ووٹ پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے۔ہمیں سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹ سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا بھی مسئلہ نہیں ہے۔الیکشن کمیشن سے اس کی خودمختاری چھینی گئی ہے۔الیکشن کمیشن کے اختیارات نادرا کو دیے جا رہے ہیں۔ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ہم بھولنے نہیں دیں گے ۔کیونکہ یہ تسلسل ہے 2014 میں تین دفعہ کے منتخب وزیراعظم کے خلاف امپائیر کی انگلی کی مدد سے دھرنے کی سازش کی۔تین دفعہ کے منتخب وزیراعظم کو 2017 میں اْس قانون پہ نااہل کیا جو 10 جون 2021 میں پاس کیا ۔چیف جسٹس ثاقب نثار کا دفتر استعمال کر کے نواز شریف کو اْس کی جماعت کی صدارت سے ہٹایا گیا ۔چیف جسٹس ثاقب نثار کے دفتر کو استعمال کر کے آر ٹی ایس کو بٹھا کر مسلم لیگ ن کو ہرایا گیا اور سیلیکٹڈ ، جھوٹے نالائق اور نااہل کرپٹ ٹولے کو مسلط کیا گیا ۔ارشد ملک کی ویڈیو ہم بھولنے نہیں دیں گے ۔شہباز شریف سمیت تمام اپوزیشن کو سزائے موت کی چکیوں میں ڈالا ۔سیاسی انتقام کی بدبودار چکی سے گزر کے آپ کے سامنے بیٹھیں ہیں۔ دو سال 10 ماہ سات دن کی حکومت کمال کی کارکردگی ہے ۔سچ پوچھیں تو کسی انسان کی بس کی بات ہی نہیں ۔ایوان اِس بات پہ غور کرے یہ کون سی غیر مرئی طاقتیں ہیں۔یہ کون سی مافوق الفطرت قوتیں ہیں جس کے ذریعے عمران خان نے اتنی تیزی سے بیڑہ غرق کیا ہے۔ بجٹ کی کتابوں کی مار کھا کے گالیاں کھا کے مجھے یقین ہو گیا ہے کہ نہ تو یہ فلاپ فلموں کی طرح روز اتر جانے والی کابینہ کا کمال ہے اور نہ ہی یہ بدلتے ہو خزانہ کے وزیروں کا کمال ہے ۔کوئی شعبہ ایسا نہیں چھوڑا جس کا خون نہ چوس لیا ہو ۔کوئی شعبہ ایسا نہیں چھوڑا جس کی لاغر ہڈیوں کو نچوڑا نہ گیا ہو ۔ہمیں یقین ہو گیا یہ زکوٹہ جن بجٹ ہے۔ یہ سب بھول گئے ہیں۔30 ء اکتوبر2011کی شام لاہو رمیں نئے پاکستان کا چن چڑھاتے وعدے سب بھول گئے ۔30 مئی 2017 میں 200معاشی ماہرین کی دنیا کی مانی ہوئی ٹیم سب بھول گئے ۔100 دن میں ریاستِ مدینہ بنانے کے دعوے سب بھول گئے ۔17اگست2018 کو قوم کے دماغ چھوٹے رہ گئے ہیں کے دہائی سب بھول گئے ۔ایک کڑوڑ نوکری پچاس لاکھ لوگھرسب بھول گئے ۔کشمیر کا سودا ہو گیا ۔انہوں نے کہاکہ تھاجنوبی پنجاب بنے گا ۔وزیراعظم ہاؤس سے گورنر ہاؤس تک بنے گی یونیورسٹی ۔ ٹیکس نہیں لگاؤں گا ۔350 ڈیم بناؤں گا اور پورا پاکستان بجلی استعمال کرے گا ۔لْٹ جاؤں گا ۔مر جاؤں گا۔خود کشی کر لوں گا ۔آئی ایم ایف نہیں جاؤں گا سب بھول گئے ۔سب بھول جائیں گے لیکن ہم بھولنے نہیں دیں گے۔یہ حکومت تسلسل ہے منتخب وزیر اعظم کو گھر بھیجنے کا۔ چھ مرتبہ کابینہ بدلی، چار بار وزیر خزانہ بدلا۔مہنگائی، بے روزگاری بڑھ گئی۔سات سو روپے کلو تک ہم نے ٹماٹر خریدے، بھولنے نہیں دیں گے۔ان لوگوں سے پاکستان کی عوام کو کوئی امید نہیں ہے۔انہوں نے ہمیں بجٹ کی کتابیں اس لیے ماریں تاکہ غریبوں کی چیخیں دب جائیں۔یہ زکوٹا جن صرف بجٹ نہیں بناتا ، یہ پارلیمنٹ اور صحافیوں پر حملہ کرتا ہے، سنسرشپ کرتا ہے۔یہ صیح ہے کہ عمران خان نہ ناہل ہیں، نا کرپٹ ہیں، نہ چور ہیں، نہ بد دیانت ہیں اور نہ یو ٹرن لیتے ہیں، یہ تمام شعبے انہوں نے زکوٹا جن کو دئیے ہیں،زکوٹاجن نے عمران خان کو کہا کہ مجھے کام بتائومیں کیا کروں ،کس کو کھائوں،تو پھر زکوٹا جن ساڑھے چار سو ارب کی چینی ،122ارب روپے کی ایل این جی اور 250ارب روپے کا آ ٹا ، 1200ارب روپے کی ویکسین ، 23فارن فنڈنگ اکائونٹ سے زکوۃ کے پیسے کھا گئے ہیں۔عمران خان کرپٹ نہیں یہ سب زکوٹا جن کا کمال ہے۔ حنا ربانی کھر نے کہاکہ موجودہ حکمرانوں کے قول و فعل میں تضاد ہے۔ اس حکومت نے عوام سے صرف جھوٹ بولا ہے۔ پالیسی یہ نہیں ہوتی کہ آپ غربت میں اضافہ کر کے لنگر خانے کھول دیں۔ نئے ٹیکسز میں سے 70 فیصد ٹیکس براہ راست عوام کو متاثر کریں گے۔ ہمارے وزیر خزانہ سترہ سال سے موجود سیکریٹریز کی لکھی ہوئی بجٹ تقریریں پڑھ رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے دور میں برآمدات 25 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھیں۔اسوقت بنگلہ دیش کی برآمدات 39 ارب ڈالر اور پاکستان کی 24 ارب ڈالر ہیں۔ کیا ہم اس بجٹ میں حکومت کو مبارک دیں۔ہمارے ملک کا ایک حصہ الگ ہوا ہے، اس کے اسباب کچھ بھی ہوں لیکن ہمارے بچوں کو اس کا علم ہونا چاہیے۔برآمدات کی بات پر ہرکوئی یہ کہتا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار 25 ارب ڈالرز کی بات ہوئی ہے۔ چور چور کے نعروں سے ملکی ترقی نہیں ہوتی۔ ہم نے اسٹینڈنگ کمیٹی میں حکومت کو کہا ہے کہ آپ ہمیں افغان صورتحال پر بریفنگ دیں۔ افغانستان میں بارڈر کے تمام شہروں پر طالبان کا قبضہ ہو چکا ہے۔ہم اس صورتحال پر بھی خاموش ہیں، کیا ہم پشاور آرمی اسکول کے سانحے کو بھول گئے ہیں۔یہ بجٹ اس نے بنایا تھا جو 2002 میں سیکریٹری تھے آج بھی اس نے بنایا ہے۔وزیر خارجہ کو بڑی مشکل ہوتی ہے کہ وہ اسامہ بن لادن کا بتا سکیں کہ وہ شہید ہے یا نہیں ہے۔القاعدہ نے اور اسکے رہنما نے پاکستان کے جوانوں کو مارا ہمارے جوان شہید ہیں یا اسامہ شہید ہے۔ سیمی بخاری نے کہاکہ عمران خان کی پوری دنیا میں پہچان ہے۔عمران خان کی کامیاب پالیسی کی وجہ سے معیشت ترقی کی طرف گامزن ہے۔عمران خان نے کوئی کیمپ آفس نہیں بنایا ۔ٹیکسٹائل انڈسٹری کئی سالوں سے بند تھی وہ چل پڑی ہے۔کورونا پر بڑی اچھی طرح قابو پایا جس کی دنیا میں مثال نہیں ملتی ہے۔عمران خان مبارکباد کے مستحق ہیں،عوام پرور بجٹ پیش کیا ہے ۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں دس فیصد بڑھائی ہیں۔بجلی پر ٹیرف نہیں بڑھائے۔کسانوں کو سبسڈائز بجلی فراہم کی جائے گی۔عمران خان اپنی حکومت کی نہیں عوام کی سوچتا ہے۔ اپوزیشن لیڈر کو بتاوں گی کی آپ کی وجہ سے لوگوں کی جیب خالی ہے۔ یہ عوام پرور بجٹ ہے، کم از کم تنخواہ بیس ہزار رپے ہے۔ قرضوں کے لیے بڑی رقم رکھی گئی ہے، بجلی کی قیمت نہیں بڑھائی۔غریب کسان کو رعایت دی گئی ہے، مھمد ڈیم بھاشا ڈیم کی تعمیر کا آغاز ہوگیا ہے۔ عمران خان جنریشن کا سوچتا ہے،وہ عوام کا سوچتا ہے۔ڈاکٹر رمیش کمار نے کہاکہ میں بجٹ سیشن میں ہنگامہ آرائی اور کتابوں کی بے حرمتی کی مذمت کرتا ہوں، سینئر سیاست دان کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ پارلیمنٹ کا تقدس پامال نہ کرنے دے، آج ان گیلریز میں کم سے کم فنانس سیکرٹری و ایف بی آر کے بندے ہونے چاہیے،پاکستان کی معیشت کافارن پالیسی پر انحصار ہے ،دوسرے ممالک اپنی خارجہ پالیسی کو چلاتے ہیں اس وقت ہمیں اختیاط سے چلنا ہوگا،فیٹف، آئی ایم ایف ہمارے لیے چیلنج ہیں جو عالمی زیر اثر ہیں۔بجٹ کتابوں پر بسم اللہ اور پاکستان کا نقشہ دیکھا تو میں نے پہلے ہی دن پائوں میں رکھنے کے بجائے اپنی گاڑی میں رکھا۔ جو کچھ ایوان میں ہوا میں نے بیس سالوں کی سیاسی زندگی میں نہیں دیکھا، تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔ سینئر سیاستدانوں کو کہنا چاہیے تھا کہ آپ غلط کر رہے ہیں، یہ نہیں ہونا چاہئے کہ تماشہ دیکھتے رہیں۔پینل آ ف چیئرپرسن کے رکن امجد نیازی نے سرکاری اداروں کے افسران کی ایوان میں عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار کیا، انہوں نے کہاکہ بجٹ تقاریر میں سب وزارتوں کے نمائندے ہوتے ہیں ،سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سے پوچھا جائے اور وجوہات بتائی جائیں، جو نہیں آئے انکے خلاف کاروائی کی جائے ۔رانا تنویر حسین نے کہا کہ بجٹ ایک فریب اور جھوٹ کا پلندہ ہے۔یہ تین سال میں تیرہ ہزار ارب روپے قرضوں میں اضافہ کیا ہے۔قرضے ہر حکومت واپس کرتی ہے۔ حکومت نے 10 کلومیٹر تک کی موٹروے تک نہیں بنائی۔ ڈاکٹر وقار مسعود جعلی اعدادوشمار بناتا ہے۔ایسے لوگوں کو نوکری چاہیے۔ یہ دانشورانہ طور پر بددیانت ہیں۔حکومت نے کس فارمولے کے تحت جی ڈی پی 4 فیصد کی ہے۔ گدھوں کی تعداد بڑھنے کی بنیاد دیکھی جائے تو یہ چار فیصد ہوسکتی ہے۔ملک خطرات میں گھرا ہوا ہے لیکن وزیر اعظم نے قوم کو تقسیم کردیا ہے۔یہ ریاست مدینہ کا مذاق بند کریں۔ ان کے اندر انا بھری ہوئی ہے۔سمجھ نہیں آتی ایسے لوگ کہاں سے بیٹھا دیے ہیں۔حکومت اپنا اصل وقت گزار چکی ہے۔ اب ان سے کچھ نہیں ہوگا۔ سپیکر نے کرسی کے ساتھ سمجھوتہ کیا۔چھے دفعہ بجلی مہنگی کی لیکن گردشی قرضے 2600ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔پتا چلے گا جب مالم جبّہ اور دوائیوں کا حساب ہوگا۔ٹریکٹر پانچ لاکھ سے 15 لاکھ تک ہوگیا ہے۔ یوریا 1200 سے بڑھا کر 2400 ہوگء ہے۔صیح زرعی پالیسی اپنائیں۔لاہور کی زرعی زمینیں لوگوں سے چھین رہے ہیں۔ لوگوں سے سستی زمینیں لے رہے ہیں۔اس سے وہاں خون خرابہ ہوگا۔ وہاں نئے 9 ملک ریاض پیدا کررہے ہیں۔وزیراعظم کا نام ایماندار عمران خان ہونا چاہیے۔یہ ایک ایسا بجٹ جس میں اچھے کام کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں ۔عوام بری طرح مشکلات میں پھنسی ہوئی ہے ۔مجھے بجٹ میں کوئی ایسی چیز نظر نہیں آئی ۔اگر ہم اپنی گورنمنٹ کی بات کریں اگر جی ڈی پی کی بات کریں ۔کسی بھی شعبے کی بات کریں اس میں ترقی نظر آئے گی ۔تین سال میں اپکو کوئی نئی چیز نظر آئی،کوئی موٹر وے کوئی ڈیم بنایا ۔میاں نواز شریف کا کمال ہے کہ انہوں نے بھاشا ڈیم کی زمین کا مسئلہ حل کیا۔قرضے لے کر انہوں نے ملک میں کیا کیا ہے۔ڈیموں کے منصوبے گزشتہ دور میں شروع ہوئے۔مہمند ڈیم کا ٹھیکہ ہم نے 280 ارب روپے میں فائنل کیا۔انہوں نے وہی منصوبہ رزاق دائود کو 320 ارب روپے میں دے دیا۔وزیر اعظم ہائوس میں کرسی گھماتے ہیں اور پہاڑوں کا نظارہ کرتے ہیں ۔اسپیکر نے کرسی کا پی ٹی آئی کے ساتھ سمجھوتا کیا لیکن وہ پھر بھی اسپیکر کی نہیں مانتے۔ اس کابینہ میں مشرف سے لیکر پیپلز پارٹی کی کابینہ کے لوگ بیٹھے ہیں ۔جب ایم این اے اور ایم پی اے کے ساتھ منشیات والے ہوں تو منشیات کیسے ختم ہوگی۔ میں نے خود سیکریٹری کو لسٹیں فراہم کی ہیں لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ آپ کی خارجہ پالیسی کیا، چین میں گرم جوشی نہیں، سعودی کہہ رہا ہے پیسے واپس کرو۔ افغانستان کی صورتحال آپ کے سامنے ہے، آمریکہ نے نواز شریف کو پانچ ارب ڈالر آفر کی تھی۔ نواز شریف نے جوتے کی نوک پر رکھ کر دھماکے کر دکھایے آج کشمیر کا سودہ ہو رہا ہے۔پی ٹی آئی کے احمد حسن ڈیہرنے کہا کہعمران خان کی ٹیم میں بھی کرپٹ لوگ بیٹھے ہیں۔عمران خان اکیلا چل رہا اسے اللہ کی مدد حاصل ہے۔مینگو پراسسنگ پلانٹ کراچی کے بجائے ملتان میں لگایا جائے۔پاکستان کا سب سے بہترین آم ملتان اور رحیم یار خان میں ہوتا ہے۔جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ میں تقرریوں کے لیے وزیراعلی پنجاب دستخط نہیں کر رہا۔گیلانی اور بوسن کے مقابلے میں عمران خان نے مجھے ٹکٹ دیا ۔ملک میں سچے آدمی کو چلنے دیں،ملک کو آگے بڑھنے دیں ۔ملتان میں غریبوں کی زمینوں کو ہھتیایا جا رہا ہے ۔وزیر اعظم اور وزیر اعلی کو بھی بتایا ،افسران براہ راست رشوت وصول کر رہے ہیں ۔وزیر اعلی کے نوٹس میں بھی لایا گیا مگر مافیا کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوئی ۔ملتان میں اکنامک زون کی اشد ضرورت ہے۔ ملک میں زراعت پر ریسرچ کی اشد ضرورت ہے، بیرون ملک سے جو ڈی اے پی منگوائی جاتی ہے وہ پاکستانی زمین کیلئے نقصان دے ہے، ہمارے ماہرین اسلئے اس بارے کسانوں کو نہیں بتاتے کہ انکی بیرونی ڈی اے پی پر کمیشن ہے۔پیر فضل حسین جیلانی نے کہا کہ جب تک ہم زندہ ہیں ختم نبوت پر سمجھوتا نہیں کریں گے، اس ایوان کی چھت پر اللہ تعالٰی کے 99 نام ہیں مگر افسوس کی بات ہے کہ اس چھت کے نیچے کھڑے ہو کر جھوٹ بولتے ہیں،وزیر خزانہ نے کچھ دن سچ بولا کہ روپے کے مقابلے میں ڈالر آئی ایم ایف کے کہنے پر مہنگا نہیں کیا گیا تھا۔ اس حکومت نے عوام کی جیبوں پر سب سے بڑا ڈاکہ ڈالر مہنگا کر کے ڈالا، وہ عمران خان کہاں ہے جس نے کہا تھا کہ مر تو سکتا ہوں مگر بھیک نہیں مانگوں گا، وہ عمران جان کہاں ہے جس نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاؤں گا، سول نافرمانی کا اعلان اور بجلی کے بل جلانے والے عمران خان کہاں ہیں آج تو ہر مہینے 2 بار بجلی مہنگی ہوتی ہے، 3 وزیر صحت کرپشن کی بنیاد پر تبدیل کئے کیا وہ گرفتار ہوئے؟ خان صاحب آپ نے اللہ کو جوب دینا ہے، عمران خان غریبوں سے جو وعدہ کیا تھا وہ پورے کریں، ملک میں گیس 500 فیصد مہنگی ہوئی، بیرون ملک سے جتنی امداد ملی اس پر حکمرانوں نے ڈاکہ ڈالا، عوام کو لنگر خانے نہیں چاہیں بلکہ آٹا، چینی دالیں سستی چاہیے۔پارلیمانی سیکرٹری شندانہ گلزار نے کہا کہ اپوزیشن آج ہمیں نہ سمجھائے بلکہ اپنی اپنی پارٹی کو سمجھائیں، اگر آپکے پاس بجٹ پر بات کرنے کیلئے کچھ نہیں تو گھر بیٹھیں، اس ایوان کو تماشہ مت بنائیں، یہ سینما حال نہیں قومی اسمبلی کا ایوان ہے،اس ملک کو یہ قیمہ بنا کر گئے اسکو ٹھیک کرتے کرتے ہماری کمر ٹوٹ رہی ہے، جو بات کرنی ہے حقائق پر کریں، بغض عمران خان میں اندھے نہ ہوں، میرا مطالبہ ہے کہ ایف بی آر کی جانب سے ایمزون اور دراز ڈاٹ پی کے پر اپنی مصنوعات بیچنے والوں پر 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کر دیا ہے جس سے لوگ اس کاروبار کو دبئی اور سری لنکا منتقل کر دیں گے، میرا مطالبہ ہے کہ اس کو ختم کیا جائے۔مسلم لیگ (ن) کے ریاض احمد پیرزادہ نے کہا کہ زراعت کیلئے بجٹ میں کھ نہیں رکھا گیا، بہاولپور میں ریسرچ سینٹر بند کئے جا رہے ہیں، کاٹن کا ریسرچ سینٹر امریکیوں کو دے دیا گیا،آئین پاکستان میں گنجائش ہی نہیں کہ مزید صوبے بن سکیں اسلئے نئے صوبے بنانے کا جھانسہ نہ دیا جائے،کردار سب سے بڑی چیز ہے دربار نہیں، میں سیاست میں صرف نواز شریف کے ساتھ دینے کیلئے ہوں، اللہ دعا ہے کہ جب تک زندہ ہوں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ رہوں، میں غریب کی بات کرنے کیلئے یہاں کھڑا ہوں،ہم حق کی بات کریں تو تھرڈ ڈگری برداشت کرنی پڑتی ہے، ملک میں صحافیوں، ججز اور پارلیمنٹرینز کیساتھ جو ہو رہا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں،ہمارے ہر سال گوشوارے چھاپے جاتے ہیں مگر ججز اور جنرلز کے بھی گوشوارے چھاپیں پتا چل جائے گا کہ کون چور اور ڈاکو ہے، میری دعا ہے کہ اللہ تعالی اس ایوان کو اتنا طاقتور بنائے کہ وہ باقی تمام اداروں کا احتساب کر سکے۔ چولستان اور گوجرانوالہ میں لوگوں سے زمین چھین کر ہائوسنگ سوسائٹیاں بن رہی ہیں۔ دو کروڑ روپے ریٹ والی زمین زبردستی لوگوں سے دو لاکھ روپے میں لے رہے ہیں۔ لوگوں کی زمینوں سے اداروں کے قبضے چھڑائے جائیں۔قومی اسمبلی خزانہ کمیٹی کے چیئرمین اور پی ٹی آئی کے فیض اللہ خان کموکا نے کہا کہ فنانس بل کو قومی اسمبلی خزانہ کمیٹی سے محروم رکھا گیا ہے یہ بل خزانہ کمیٹی میں نہیں جاتا، ریونیو سے متعلق ریفارمز کی ضرورت ہے، ریونیو کولیکشن کیلئے مختص بجٹ ناکافی ہے، اداروں میں بالخصوص پارلیمانی ریفارمز کی ضرورت ہے۔ ان کے تقریر کے دوران جمیعت علماء اسلام کے رکن مفتی عبد الشکور نے کورم کی نشاندہی کردی، انہوں نے کہاکہ حکومت کے ارکان کو زیادہ وقت دیا جا رہا ۔ پینل آ ف چیئرپرسن کے رکن امجد علی نے کورم پورا ہونے تک اجلاس کی کاروائی موخر کردی۔



  تازہ ترین   
سکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں کارروائیاں، 32 دہشت گرد ہلاک
بلاول بھٹو زرداری کا آزاد کشمیر الیکشن کے نتائج تسلیم کرنے سے انکار
پیپلزپارٹی دھاندلی کے رونے رو رہی ہے، قیامت کتنے بجے ہے؟ مریم نواز
ایران نے چین سے سیکڑوں فضائی دفاعی میزائل خریدنے کا معاہدہ کر لیا، رائٹرز کا دعویٰ
ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے انتظام سے متعلق عمان کی تجویز مسترد کردی
آبنائے ہرمز کے انتظام پر صرف ایران اور عمان کا حق ہے: سینئر ایرانی عہدیدار
روزگار کیلئے جامع حکمت عملی پر بھرپور انداز میں کام کیا جائے: وزیراعظم
سعودی عرب اور سینٹ کام کے عراق میں ایران نواز گروپوں کے ٹھکانوں پر حملے





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر