قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جناب جسٹس جاوید اقبال نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلا س کی صدارت کر رہے ہیں۔ چئیرمین نیب کا کہنا ہے کہ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ اور بدعنوان عناصر سے قانون کے مطابق لوٹی گئی رقوم کی واپسی نیب کی اولین ترجیح ہے۔ شوگر، آٹا، منی لانڈرنگ، جعلی اکاؤنٹس، اختیارات کا ناجائزاستعمال، آمدن سے زائد اثاثے، غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز اور مضاربہ سکینڈل کے ملزمان کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے کو شاں ہے۔ نیب نے 2020 میں 323 ارب روپے بلواسطہ اور بلاواسطہ طور پربدعنوان عناصر سے برآمد کئے جو کہ ایک ریکارڈ کامیابی ہے۔ نیب بزنس کمیونٹی کی ملک کی ترقی کیلئے خدمات کو قدر کی نگاہ سےدیکھتا ہے۔ پلی بارگین کی حتمی منظوری معزز احتساب عدالت دیتی ہے۔ پلی بارگین میں ملزم نہ صرف اپنے جرم کا اعتراف کرتا ہے بلکہ ملک و قوم کی لوٹی گئی رقوم کی واپسی پر بھی آمادہ ہوتا ہے۔ نیب کی کارکردگی کو معتبر قومی اور بین الا قوامی اداروں نےسراہا خصوصاَ َ ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل پاکستان، پلڈاٹ اور مثال پاکستاننے نیب کی کارکردگی کو سراہا ہے۔ جو نیب کیلئے اعزاز ہے۔
قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹیو بورڈ کا اجلاس جاری



