اثر خامہ قاضی عبدالقدیر خاموش
بدقسمتی سے مسلم دنیا کے دانش ور، سیاسی و مذہبی رہنما اور علما یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ مغرب اسلام اور امتِ مسلمہ کے خلاف جو جنگ برپا کئے ہوئے
ہے، اس میں اسلام اور اسلامی تہذیب پر دبائو بے انتہا بڑھ چکا ہے۔ہر گزرتے دن کے ساتھ لادینیت کی پیش قدمی ہی نہیںبڑھ رہی بلکہ وارثان منبر ومحراب کی بے حسی بھی بڑھ رہی ہے ۔ بلکہ خاتم الانبیاء ۖ نے جس وہن کی بیماری کی پیشین گوئی فرمائی تھی ، وہ ہمیں بری طرح سے گھیر چکی ہے ۔ چھوٹے چھوٹے کتنے ہی مورچے دشمن کے ہاتھوں فتح ہو چکے ، ہمیں اپنی اس قدم قدم شکست کا شائد احساس ہی نہیں ۔ بنگلہ دیش میں آئین کا اسلامی تشخص ختم کیا جاچکا،کسیننے پرواہ نہیں کی۔ تیونس کی اسلامی تحریک النہضہ نے دین اور سیاست کو ایک دوسرے سے جدا کرکے ان کی علیحدگی تسلیم کرلی ہے،ہمیں خبر بھی نہ ہو سکی ۔ طیب اردوان ایک سے زیادہ مرتبہ کہہ چکے کہ اسلام اور سیکولرازم میں کوئی تضاد نہیں، ہم اسے خلیفہ اسلام کی کی نظر سے دیکھنے میں مگن رہے۔ گلبدین حکمت یار افغانستان میں امریکی بندوبست کا حصہ بننا قبول کرچکے،ہم نے توجہ ہی نہ دی ۔ مغرب اور خود مسلم معاشروں میں توہینِ رسالت کی وارداتیں بڑھ رہی ہیں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان تک میں کوئی ریاستی ادارہ انہیں روکنے اور ذمے داروں کو سزا دینے کے لئے تیار نہیں، ہماری بلا سے۔ پاکستان ہی نہیں پوری مسلم دنیا کے ذرائع ابلاغ میں ایسے مواد کا سیلاب آچکا ہے جو ہماری اقدار کو تاراج کرنے والا ہے،ہمیں اس کی کوئی فکر تک نہیں ۔
مجھ کو تو سکھا دی ہے افرنگ نے زندیقی اس دور کے ملا ہیں کیوں ننگِ مسلمانی
معاملہ اب ان چھوٹے چھوٹے معرکوں سے بہت آگے بڑھ چکا ہے ،اقبال تو خوش تھا کہ ”پاسباں مِل گئے کعبے کو صنم خانے سے” مگر اب بات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ” کعبے کے پاسباں صنم کدے کے دربان ” بننے کو بے تاب دکھائی دیتے ہیں ۔ المیہ در المیہ تو یہ ہے کہ لادینی کی آگ ہمارے خرمن کو بھسم کرتے ہوئے قلب تک جا پہنچی اور ہم ہیں کہ” محو تماشہ لب بام ابھی تک ”کی کیفیت سے دوچار ، ”مست مے اقتدار ”اور فنا فی الدنیا کی کیفیت سے سرشار ، فکر فردا کے ادراک سے بے پروا ،اپنے انجام سے بے خبر ،محو استراحت ہیں ۔
آقا ۖ کا فرمان یاد آیا کہ “دجال مکہ مدینہ تک آجائے گا لیکن وہاں داخل نہیں ہوسکے کیونکہ مکہ مدینہ کی سرحدوں پر اللہ (عزوجل) نے فرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو دجال کو اندر داخل ہونے نہیں دیں گے۔( صحیح بخاری ( 1881 ) صحیح مسلم ( 2943 ) ”۔ سمجھتے رہے کہ وقت ابھی دور ہے ، لیکن موجودہ سعودی عرب کی صورتحال دیکھ کر دل بیٹھتا جارہا ہے کہ شائد وہ وقت آن تو نہیں پہنچا ؟کیونکہ دکھائی یہ دیتا ہے کہ آل سعود اپنی ہی نہیں دینی اقدار کی تباہی خود اپنے ہاتھوں سے کر نے میں مشغول ہیں ۔بات اگر سعودی شاہی خاندان کے اندر اقتدار کی رسہ کشی تک رہتی تو بھی خیر تھی لیکن کھلی آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے کہ دین متین سے بغاوت اور دین کی بنیادیں منہدم کرنے کا کام زوروں پر ہے ۔مصطفٰے کمال نے صرف خلافت کی قبر کھودی تھی محمد بن سلمان اس سے بھی چار ہاتھ آگے جا کر سر زمیں حرمین کو لبرل ازم کے گڑھے کی جانب دھکیلنے کی کوشش میں ہے ۔وہ اس راہ پر کس قدر تیزی سے بھاگ اٹھا ہے اس کا اندازہ 27 اپریل کو العربیہ ٹی وی سے محمد بن سلمان کے ایک انٹرویو سے لگایا جا سکتا ہے ، جس میں وہ کہتا ہے کہ” ہمیں قانون سازی کے لئے احادیث کی بجائے قرآن پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ احادیث نبوی ۖ کو قانون سازی میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ محمد بن سلمان جو خود کو ایم بی ایس کہلوانا پسند کرتا ہے ، نے کہا کہ ” حدیث رسول صل اللہ علیہ وسلم دین کا ماخذ نہیں ہے۔ خبر واحد ہی نہیں بلکہ خبر متواتر تک کو قانون کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا ۔اس نے کہا قرآن سے صراحت کے ساتھ کسی باب میں حکم موجود ہو یاسنت متواترہ ہو تو ٹھیک وگرنہ اجتہاد کے ذریعے معاملات طے کئے جائیں گے۔انھوں نے کہا کہ اب سنگساری، کوڑے مارنا ، مرتد کے قتل اور ہم جنسیت پر کوئی سزا نہیں ہوگی،کیونکہ اس کے بقول یہ سب ایک جانب خبر احاد کی بنیاد پر ہے اور دوسرے دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق نہیں ۔” اس کا یہ مطلب نہیں کہ موصوف حدیث کے بجائے قرآن کو فوقیت دے رہے ہیں ، بلکہ وہ اس سے بھی آگے چھلانگ لگا چکے ہیں ، اپنے اسی انٹرویو میں کہتے ہیں ۔”بلکہ قرآن کی بھی عصر حاضر کے مطابق تشریح ضروری ہے۔”
خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق!
ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب کہ سکھاتی نہیں مومن کو غلامی کے طریق!
ایم بی ایس نے بہت بڑی بات کی ہے اگر کوئی پاکستان میں ایسی بات کرتا تو شاید اب تک قتل ہوچکا ہوتا۔۔ اس نے صریحا احادیث کی اہمیت سے ناصرف انکار کیا ہے بلکہ بخاری و مسلم کی صحت پر بھی سوال اٹھادیا ہے۔اول تو یہ کہ اس معاملہ میں محمد بن سلمان تنہا نہیں ، بلکہ شیخ الازہر نے بھی ان کی حمایت کرتے ہوئے لکھا کہ” فقہی آرا مقدس اور ناقابل ترمیم ہرگز نہیں ہیں، فقہی آرا کی تقدیس سے فکری جمود پیدا ہوتا ہے۔ قدیم فقہی مسائل و فتاوی جات دراصل مخصوص دور میں فقہا کے اجتہاد و تجدید کی کاوشیں ہی تو تھیں۔ محمد بن سلمان اپنی طرز کے جدید اسلامی قانون کے نفاذ کی بات کر رہے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ تمام مسلمان فقہا اور دانشور قرآن اور سنت کی روشنی میں اجتہاد کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ لہذا میرا نہیں خیال کہ میں کوئی انوکھی بات کررہا ہوں۔”
دوسرے یہ کہ یہ کوئی اچانک درپیش آجانے والا سانحہ نہیں بلکہ محمد بن سلمان 2017سے اسی سمت میں سفر جا ری رکھے ہوئے ہے اور المیہ یہ ہے کہ عالم اسلام کے کسی ادارے ، کسی جماعت نے توجہ ہی نہیں دی ۔ معاملہ کوئی اتنا خفیہ بھی نہیں بلکہ وہ 24 اکتوبر 2017 کو ریاض میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپنے مقاصد کا علان کر چکا تھا کہ” ہم اپنے اسی تشخص کی طرف لوٹ رہے ہیں، جو کبھی ہماری پہچان تھا، یعنی ایک میانہ رو یا” ماڈریٹ اسلام ”جو دنیا کے کسی مذہب یا کسی روایت کے لئے اپنے دروازے بند نہیں کرتا۔
اس سے ٹھیک ایک ہفتے بعد یعنی نومبر 2017 میں ”انتہا پسندانہ متن یعنی ایکسٹریمسٹ ٹیکسٹ کی روک تھام کے لئے اسلامی سینٹر” کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا گیا ،جس کی بنیادی ذمہ داری یہ بتائی گئی کہ یہ سنٹر یہ فیصلہ بھی کرے گا کہ” کون سی حدیث مستند ہے اور کون سی حدیث مستند نہیں ہے۔ ” اس سنٹر میں کون لوگ کام کرتے ہیں ، ان کا دین کا مطالعہ کیا ہے ؟ کتنا ہے ؟ کوئی نہیں جانتا ، اور اب ایم بی ایس نے جو کچھ اپنے انٹر ویو میں کہا یہ سب اسی مرکز الحاد میں تیار کردہ منصوبہ دکھائی دیتا ہے ۔2017سے اب تک سعودی عرب میں ماڈریٹ اسلام کی ایجاد اور فروغ کی رفتاراندازوں سے کہیں زیادہ تیز ہے۔ نہ صرف یہ کہ علمائے حق کوگرفتار کیا گیا بلکہ درباری علما کی پوری فوج تیار کرکے میدان میں اتاری جا چکی ہے ۔
عقل عیار ہے سو بھیس بدل لیتی ہے عشق بیچارہ نہ زاہد ہے نہ ملا نہ حکیم
جہاں تک سعودی عرب کا تعلق ہے تو وہ اسلام کا روحانی، تہذیبی اور علمی مرکز ہے۔ سعودی عرب میں اسلام وہابی تو ہوسکتا ہے۔ لیکن ماڈریٹ اسلام نہیں ہوسکتا، بلکہ سعودی عرب کی فضائوں میں ماڈریٹ اسلام کی اصطلاح کی گونج بھی نامحمود ہے، اور مغرب زدہ اسلام کا تصور لے کر کوئی شخص خانہ کعبہ یا روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کیسے حاضری دے سکتا ہے؟ لیکن یہ تو اس مسئلے کا محض ایک پہلو ہے۔ سعودی ولی عہد کا اصرار ہے کہ وہ ماڈریٹ اسلام کے راستے سے اپنی اصل کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ کون سی اصل ؟
میر کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ان نے تو قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک اسلام کیا
ایم بی ایس ایک بار بار کہ رہا ہے کہ ” ہم معمول کی زندگی یا Normal Life بسر کرنا چاہتے ہیں” یہ نارمل لائف ہے کیا ؟۔ مغربی ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق اس سے ولی عہد کی مراد ایسی زندگی ہے جس میں موسیقی ہو، فلم ہو، فیشن کرتی ہوئی خواتین ہوں، کھیل کود ہو، ایسے سرکس ہوں جن میں خواتین بھی کام کرتی ہوں۔ ہمیں یقین ہے Normal Lifeکا یہ تصور مزید ترقی کرے گا، یعنی زندگی جب مزید Normal ہوگی تو اس میں رقص گاہیں، جوا خانے اور طوائفیں وغیرہ بھی شامل ہوجائیں گی۔ اقبال تو پہلے ہی کہ گیا ہے کہ :
محکوم کے حق میں ہے یہی تربیت اچھی موسیقی و صورت گری و علم نباتات
سوال یہ ہے کہ اتنا کچھ گزر جانے کے بعد بھی پاکستان کا اہل حدیث چپ کیوں ہے ؟ حجیت حدیث سے ہی انکارپر اہل حدیث مسند شیخ سے کوئی صدا بلند کیوں نہیں ہوئی ؟ صدائے احتجاج کا اگر یارا نہیں تو صدائے افسوس ہی بلند کرو ، یارو کچھ تو بولو کہ صرف قبر پرستی ہی نہیں شاہ پرستی بھی شرک ہے ۔یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ شاہو ں کے آگے کورنش بجا لانے والے دین کے ترجمان ہرگز نہیں ہوسکتے ،دین کی ترجمانی کے لئے جس غیرت و حمیت کی ضرورت ہے وہ صرف نبی کریم علیہ السلام سے سچی محبت اور وفا داری سے ملتی ہے۔جو حدیث کی بنیاد پر حملہ ہونے پر بھی چپ کا روزہ نہ توڑیں ،وہ سوچ لیں کہ کس منہ سے خود کو آقا ۖ کا وفا دار کہلوائیں گے ؟ اقبال نے انہی کے بارے میں کہا تھا کہ :
فتنہ ملت بیضا ہے امامت اس کی جو مسلماں کو سلاطین کا پرستار کرے
محمد بن سلمان مصطفٰے کمال کے نقش قدم پر



