اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا دورہ ء ترکی اور خطے کی صورتحال کے حوالے سے اہم بیان ۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغان امن عمل نازک مرحلے ميں داخل ہوچکا ہے۔انطاليہ ميں مختلف وزرائے خارجہ موجود تھے۔افغانستان ميں امن کئي ممالک کي ترجيح ہے۔انطالیہ سفارتی فورم میں پاکستان کو اپنا نکتہ نظر پيش کرنے کا موقع ملا۔افغانستان کی اعلیٰ سطحی مفاہمتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ سے مفيد نشست رہی ۔ افغانستان کي اندروني صورتحال کا اندازہ ہوا۔پاکستان کا دوٹوک مؤقف پيش کرنے کا موقع ملا۔فلسطين کے وزير خارجہ سے بھي ملاقات ہوئی ۔ مسئلہ فلسطين پر تفصیلی تبادلہ خيال ہوا۔قطر کے وزير خارجہ سے مشرقِ وسطیٰ کي صورتحال پر بات ہوئی۔کویت کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کا موقع ملا ۔يمن کی صورتحال،سعودي عرب سے ہونیوالی گفت و شنید اور پيشرفت پر تبادلہ خيال کيا گيا۔پاکستان کے کردار کو آج ساری دنيا مثبت نگاہ سے ديکھ رہی ہے۔يورپی يونين کے وزير خارجہ سے بھی اہم ملاقات ہوئی ۔يورپي يونين کے وزير خارجہ نے دورہ برسلز کی دعوت دی۔يورپي يونين کے وزير خارجہ نے وزيراعظم کو دورہ برسلز کی دعوت دی ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مودی سرکار کے اجلاس ميں بہت سی چيزيں زير بحث آئيں گی ۔نريندر مودی کا اجلاس بلانا غير معمولی ڈيولپمنٹ ہے۔تمام کشمیری 5اگست کے فيصلے سے ناخوش تھے۔لیکن ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا۔ ترک صدر نے وزيراعظم عمران خان کو دورہ ترکی کي دعوت دی۔وزيراعظم عمران خان کے دورہ ترکی کے خدوخال تيار ہورہے ہيں۔وزيراعظم عمران خان نے دو ٹوک انداز ميں پاکستان کا نکتہ نظر پيش کیا۔واضح کہہ چکے کہ قیام امن کیلئے دنيا کے ساتھ تعاون جاری رکھيں گے۔ہم امن کی کوششوں ميں پارٹنر رہيں گے۔افغانستان ميں قیام امن کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا دورہ ء ترکی اور خطے کی صورتحال کے حوالے سے اہم بیان



