این ایف سی ایوارڈ کے بغیر یہ بجٹ اور یہ بجٹ سیشن دونوں ہی غیرقانونی ہیں، بلاول بھٹو کی شدید تنقید

اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے جمعہ کے روز قومی اسمبلی میں بجٹ پر تقریر کرتے ہوئے بجٹ پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے بغیر یہ بجٹ اور یہ بجٹ سیشن دونوں ہی غیرقانونی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ اجلاس میں شرکت کرنے کا حق ہر رکن کو حاصل ہے لیکن خورشید احمد شاہ، علی وزیر اور خواجہ آصف کو اس حق سے محروم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان اراکین کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے جائیں۔ انہوںنے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر اپوزیشن نے اپوزیشن کرنا ہے اور حکومت نے بھی اپوزیشن کا کردار ادا کرنا ہے تو حکومت کون کرے گا؟ جو لوگ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمران ہیں، ان کا رویہ اسکول کے بچوں کی طرح ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جو آئندہ آپ لوگوں نے اس ناکام اور نااہل حکومت کے لئے ریاست مدینہ کا لفظ استعمال کیا۔ یہ چاہتے تھے کہ اپوزیشن کو موقع نہ دے کر پی ٹی آئی ایم ایف بجٹ بے نقاب نہ ہو۔ یہ سمجھتے تھے کہ جی ڈی پی کی غلط شرح نمو اور جھوٹی معاشی ترقی کو اپوزیشن کی آواز دبانے سے چھپالیا جائے گا۔ ان کو پتہ نہیں تھا کہ عوام کو اپوزیشن کی تقریروں سے بجٹ کا علم نہیں ہوگا بلکہ انہیں پہلے سے علم ہے کیونکہ وہ مہنگائی کا سامنا کررہے ہیں۔ وہ شخص جو اپنی ماں کے لئے دوائی نہیں خرید سکتا، اسے علم ہے کہ چار فیصد شرح نمو کا دعوی غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مزدور جو عمران خان کی مہنگائی کی وجہ سے اپنے بچوں کو اسکول نہیں بھیج سکتا، اسے پتہ ہے کہ عمران خان کی معاشی ترقی کے دعوے جھوٹے ہیں۔ پاکستان میں مہنگائی افغانستان، بنگلہ دیش اور بھارت سے زیادہ ہوچکی ہے۔ پی پی پی دور میں بھی مہنگائی تھی، عالمی معاشی بحران تھا، دو بڑے سیلاب آئے مگر ہم بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام لائے اور عوام کو لاوارث نہیں چھوڑا۔آپ احساس احساس کہتے ہو، آپ کو کوئی احساس نہیں۔ مہنگائی، غربت، بے روزگاری میں تاریخی اضافہ مگر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں معمولی اضافہ کیا گیا۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ جب ہمارے دور میں مہنگائی ہوئی تو ہم نے تنخواہوں کی مد میں اضافہ کیا۔ہم نے مجموعی طور پر تنخواہوں میں 120 فیصد اضافہ کیا، آپ نے تنخواہوں میں کتنا اضافہ کیا؟ جب کرونا وائرس کی وبا وجہ سے عوام پریشان تھے تو آپ نے تنخواہوں میں بالکل اضافہ نہیں کیا۔ ہم نے تو ملکی ترقی کے لئے ساری زندگی محنت کرنے والے بزرگ پنشنرز اور دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے والے سپاہیوں کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کیا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت نے احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین سے تنخواہ میں اضافے کا معاہدہ کیا اور ان کو بھی دھوکا دے دیا۔ آپ اس بجٹ میں بلاواسطہ ٹیکسوں کا ایک طوفان لائے ہیں۔ اگر معاشی ترقی ہورہی ہے تو ملک میں تاریخی غربت کیوں ہے؟ نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لے کر روزگار کے لئے دھکے کھارہے ہیں۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پنجاب میں چار فیصد اور بلوچستان میں دو فیصد غربت میں کمی ہوئی ہے، خیبرپختونخوا میں 8.9 فیصد غربت میں اضافہ ہوا ہے، سندھ میں غربت کی شرح میں 7.6 فیصد کمی ہوئی ہے۔ پی ٹی آئی کے اراکین اپنے انتخابی حلقوں میں منہ دکھانے کے قابل نہیں ہیں۔ ملتان میں ایک خاتون نے مہنگائی کی وجہ سے اپنے بچوں کے قتل کے بعد خودکشی کرلی اور ایسے موقع پر ملتان کے ایک رکن قومی اسمبلی معاشی ترقی کے راگ الاپ رہے تھے۔ عمران خان اس لئے پریشان ہوئے کہ انہیں کسی نے ڈونکی کہا اور پھر انہوں نے قومی اسمبلی میں اپنے دوستوں کو بھیج کر انتشار پیدا کیا۔ پارلیمان میں پی ٹی آئی نے جو کیا، اس کی سیاسی قیمت ادا کرنی ہوگی، ہم اس دن کو بھولنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ میری تقریر کو سنسر کرکے وزیراعظم کی پسند کے مطابق نہیں بناسکتے۔کشمیر پر سودا کرنے والوں اور کلبھوشن کو این آر او دینے کی کوشش کرنے والوں نے اپوزیشن لیڈر کو بجٹ کی کتاب مارنا مناسب سمجھا۔ پارلیمان میں جو ہوا، اس کے بعد پاکستان کی حکومت کے بارے میں اسلام آباد میں موجود ہر سفارت خانہ اپنے مشاہدات لکھ رہا ہے۔ چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے اسپیکر سے مخاطب ہوئے کہا کہ اسپیکرصاحب! آپ کے بچوں نے آپ سے دریافت نہیں کیا کہ کیا یہ طریقہ ہے ملک کو چلانے کا؟جب بھی ہم 18ویں آئینی ترمیم اور این ایف سی کی بات کرتے ہیں، ہمیں سندھ کارڈ کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ 18ویں آئینی ترمیم اور این ایف سی پر عمل درآمد ایک آئینی ذمہ داری ہے، یہ کوئی آپشن نہیں ہے۔آئینی فرائض تو دور کی بات، آپ تو صوبوں سے اپنے وعدوں کی تکمیل تک نہیں کرپارہے۔ یہ معاملہ صرف سندھ کا نہیں بلکہ پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے فنڈز روک کر بھی ان کے حق پر ڈاکا مارا جارہا ہے۔ اب سندھ کا وزیراعلی جرمنی اور جاپان کی تو بات نہیں کرے گا۔ انہوں نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ اگر صوبے سے زیادتیوں پر وزیراعلی تنقید نہیں کرے گا تو کیا ٹرمپ تنقید کرے گا؟ گیس کہیں اور فراہم کرنے سے قبل آپ کو سوئی اور گھوٹکی کے رہنے والوں کو پہلے گیس فراہم کرنا ہوگا۔وفاقی حکومت کے سندھ سے تعلق رکھنے والے وہ ایف آئی اے ملازمین جن کی بھرتیاں نوے کی دہائی میں ہوئیں، ان کو فارغ کردیا گیا۔سندھ پبلک سروس کمیشن کو بند کرکے سندھ کے نوجوانوں کو روزگار سے محروم رکھا جارہا ہے، اسٹیل ملز کو بند کرکے ہزاروں گھرانوں کو بے روزگار کیا گیا۔ وزیراعظم نے ایک کھرب روپے کے کراچی پیکج کا اعلان کیا مگر بجٹ میں ایسا کوئی پیکج نہیں رکھا گیا۔ سابق قبائلی علاقوں کا کاغذی انضمام کرکے ان پر ٹیکس لگادیا، کشمیری حیران ہیں کہ ان پر بھی ٹیکس لگادیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اس مد میں بجٹ کے اندر محض 12 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ کسانوں کو بجٹ میں سبسڈی تک نہیں دی گئی اور آپ چاہتے ہیں کہ پنجاب کا کسان بھارت کے کسان سے مقابلہ کرے۔گندم کاشت کرنے والے اگر آج خوش ہیں تو اس کا کریڈٹ آپ نہیں لے سکتے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کہا کہ وزیراعظم گندم کی امدادی قیمت 1600 روپے رکھنا چاہتے تھے، سندھ نے دوہزار روپے مقرر ک ±ی تو پنجاب میں 1800 روپے امدادی قیمت رکھی گئی۔ جب ہم حکومت میں آئے تو پاکستان گندم بیرون ملک سے خرید رہا تھا اور ایک سال میں ہم بیرون ملک کو گندم بیچ رہے تھے۔ ہم نے اپنے دور میں سالانہ ایک ارب ڈالر اضافے کے ساتھ ایکسپورٹ کو 25 ارب ڈالر تک پہنچایا۔ عالمی اداروں کے مطابق دیہی و شہری سندھ کی فی کس آمدنی پورے پاکستان میں سب سے زیادہ ہے۔پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا کہ جب تک بلوچستان کے عام آدمی کو اس کا فائدہ نہ ہو۔بجٹ جھوٹ کا مجموعہ ہے، یہ بجٹ جعلی اعدادوشمار کا ایسا پلندہ ہے کہ جسے فیس بک اور ٹویٹر صارفین کو متاثر کرنے کے لئے بنایا ہے۔اگر معاشی ترقی ملک میں زیادہ ہوچکی ہے تو کیوں عمران خان آئی ایم ایف کے آگے کشکول لے کر کھڑے ہیں۔ انہوں نے انتخابی عمل کے حوالے سے کہا کہ آپ کی قانون سازی دراصل ایک بار پھر عوام کے ووٹ پر ڈاکے کی کوشش ہے۔افغانستان سے متعلق حکومتی پالیسی پر ہمارے کچھ خدشات ہیں، ہم دیکھ چکے ہیں کہ آمر ضیا اور مشرف نے افغان جنگ سے ذاتی فائدے اٹھائے۔ہم یہ اجازت نہیں دیں گے کہ جب افغانستان کا معاملہ ایک نئے فیز میں داخل ہورہا ہے تو عمران خان اس کو ملکی فائدے کے بجائے اپنے ذاتی فائدے کے لیے استعمال کریں۔ بلاول بھٹو زرداری میں نے بہت کوشش کی کہ میں عمران خان کا اچھا کارنامہ تلاش کرلوں تاکہ پاکستان کے عوام کو کوئی خوش خبری بھی دے سکوں۔میں نے صنعتی سیکٹر کو دی جانے والی ایمنسٹی کا معاملہ دیکھا مگر اس میں عام آدمی کو کچھ نہیں ملا،۔اس بجٹ میں امیروں کے لئے ریلیف اور عام آدمی کے لئے تکلیف ہے۔ اکنامک سروے کے مطابق ملک میں گھوڑوں کی تعداد میں اضافہ نہ ہوا مگر گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور میں عمران خان کی حکومت میں ایک یہی کارنامہ ڈھونڈ سکا ہوں۔



  تازہ ترین   
امید ہے امریکا، ایران امن کیلئے بات چیت اور جنگ بندی جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
ایران کے ساتھ کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے: جے ڈی وینس، امریکی وفد واپس روانہ
ایک نشست میں معاہدے کی توقع نہیں کرنی چاہئے، متعدد نکات پر اتفاق ہوا: ایران
مذاکرات کا نتیجہ جو بھی ہو، حکومت اپنے عوام کے ساتھ کھڑی ہے: ایرانی صدر
وزیراعظم سے ایرانی وفد کی ملاقات، شہباز شریف کا خطے میں امن کیلئے بامعنی ثالثی کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ
امریکا جنگ جیت چکا، مذاکرات کامیاب ہوں نہ ہوں فرق نہیں پڑتا: ٹرمپ
ایران کے خلاف اسرائیل کی مہم ابھی ختم نہیں ہوئی: نیتن یاہو
امریکہ-ایران مذاکرات کا ایک اور دور شروع، نتیجہ خیز ہونے کا امکان





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر