اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے جمعرات کو قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی تقریر کے جواب میں کہا کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اپنی زندگی غریب، یتیموں کی مدد سیاست میں آنے سے پہلے بھی کی ہے۔لنگر خانے میں غریب لوگوں کو عزت کیساتھ کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔108 ارب روپے سے وزرائ� کے اخراجات کم کر کے یہ کام کیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ لیڈر آف اپوزیشن خود اپنی ڈینگی کی کارکردگی سنارہے تھے۔پاکستان کا کرونا پر قابو پانے پر دنیا خود کہتی ہے کہ پاکستان سے سیکھو کامیابی سے سمارٹ لاک ڈاؤن سے کرونا کا مقابلہ کیا انہوں نے کہا کہ لیڈر آف اپوزیشن نے کہا کہ کرپشن ہوئی ہم چاہتے ہیں کہ قوم کا پیسہ قوم پر لگنا چاہیے لوگ پیسا چوری کرکے باہر لیگئے تو حکومت بھی یہی کہتی ہے کہ پیسے لائو اور عدالت اور عوام کو حساب دو انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے صرف پنجاب کا ذکر کیا جبکہ ان کی حکومت پورے پاکستان میں تھی پورے ملک میں بار بار حکومت ملنے کے باوجود ایک نیا ہسپتال پاکستان میں نہیں بنایا کہ نواز شریف کا علاج پاکستان میں کروایا جاتا، کاش! وہ ایک ایسا اسپتال بنا لیتے جس پر خود انہیں یقین ہوتا ۔اسد عمر نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان ایوان میں کم آتے ہیں لیکن سابقہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کو بھی کہیں کہ وہ ملک میں واپس آجائیں انہوں نے کہا کہ ن لیگ ، اے این پی ، جے ئو آئی ف سب کی حکومت پشاور میں رہ چکی ہے لیکن صرف ایک موقع ملا کیونکہ کارکردگی نہیں دکھائی۔کے پی کے کی عوام معتبر ہیں پی ٹی آئی کو کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دے کر دوبارہ منتخب کیا گیا تو تسلیم کر لیا جائے کہ کے پی کے میں کارکردگی دکھائی گئی ہے۔ایل این جی کے پر قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے صنعتی منصوبے بنائے تو ہمیں قوانین میں ترمیم کی کیوں ضرورت پڑی؟ اب 140 ارب روپے کا فائدہ ہوگا جب ترمیم کی گئی تو اب تمام معاہدے جو انہوں نے کئے تھے نقصان ہی نقصان تھا۔پاکستان کی زرمبادلہ کے ذخائر 3.5ارب روپے تھے صرف دو ہفتے کے ذخائر چھوڑ کر گئے تھے عمران خان نے بطور وزیر اعظم مشکل فیصلے کئے ہیں کہتے وہ سیاست دان نہیں ہیں۔پی ٹی آئی حکومت نے زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھا دیا ہم سرپلس میں ہوں گے۔ ہم نے کرونا کے باوجود اقتصادی کامیابی بڑی کامیابی ہے یورپی دنیا کی معیشت بیٹھ گئی انڈیا کو دیکھیں ان کا کیا حال ہوچکا ہے کرونا پر این سی او سی نے 24 گھنٹے کام کیا جس سے نا صرف معیشت بہتر ہوئی بلکہ دنیا مان گئی کہ پاکستان نے سمارٹ لاک ڈاؤن سے کرونا پر کنٹرول حاصل کیا انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام دنیا کے پانچ بڑے پروگراموں میں شمار کیا جاتا ہے 200 ارب روپے کے ذریعے 9 کروڑ افراد کو امداد فراہم کی گئی 435 ارب روپے قرضے دئے گئے تاکہ روزگار اور کاروباری طبقہ متاثر نہ ہو کنسٹرکشن انڈسٹری پر ٹیکس چھوٹ دیکر کرونا کے باوجود ریکارڈ تجارت ہوئی۔کرونا کے باوجود 2020 جون سے 2021 جون 12.8 فیصد اضافہ ہوا صنعتی شعبے میں مسلم لیگ نواز کی حکومت 2013 میں جو ایکسپورٹ ملی 2018 میں ایکسپورٹ کم کردی گئی تھی 11 سال کے بعد گزشتہ جولائی میں 14 فیصد ایکسپورٹ اضافہ کیا پی ٹی آئی حکومت نے ایکسپورٹ میں اضافہ کر دکھایا۔پوری دنیا میں عمران خان کو اس وقت ایمان دار وزیراعظم تسلیم کر رہے ہیں اوورسیز پاکستانیوں کے ذریعے پاکستان میں بھیجے گئے روپے کی قدر میں 29 فیصد اضافہ ہوا ہے ن لیگ کہتی ہے کہ اوورسیز کو ووٹ کا حق نہ دو پی ٹی آئی اپنے وعدے کو پورا کریگی اور اوورسیز کو ووٹ کا حق فراہم کر ے گی۔ہنر مند نوجوان پروگرام کے تحت ہنر سیکھنے والے نوجوان کو اس پروگرام کے ذریعے روزگار فراہم کئے جائیں گے۔پی ٹی آئی اپنے منشور کے مطابق معیشت بڑھانے اور عام آدمی کو فائدہ پہنچانا انصاف اور کسان کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنا تھا کسانوں کو سب سے پہلے فائدہ پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں ہم تین بڑے ڈیم بنا رہے ہیں اسکے علاوہ وہ سندھ ، کے پی کے اور بلوچستان میں چھوٹے ڈیمز بنا رہے ہیں اور یہ سارے منصوبے پی ایس ڈی پی میں شامل ہیں اسکے علاوہ کسانوں کو کنال بنا کر دیئے جائیں گے تاکہ پانی کی قلت ختم ہو اور زمین سیراب کی جاسکے۔کسان کو صرف گندم کی قیمت 500 روپے مقرر کی گئی۔ پانچ سال میں صرف 100 روپے کا اضافہ کیا گیا پی ٹی آئی حکومت نے 3 سالوں میں 500 روپے اضافہ کیا گیا گنے کی قیمت 130 روپے مقرر کی جاتی رہی اس سال پہلی مرتبہ 225 روپے سے 25پ روپے کردی گئی، عمران خان نے مافیا کیساتھ ٹکر لی اور کسان کے جائز حق کے مطابق قیمت مقرر کردی ایس سال کی گندم ،مکئی ، گنے کی تاریخی پیداوار ہوئی ہے۔ مسلم لیگ نواز کے دور میں فصلوں کی ٹوٹل ریونیو 700 ارب روپے رہی پانچ سال میں 30 ارب کا اضافہ ہوا پی ٹی آئی حکومت کے 3 سالوں میں 500 ارب روپے کا اضافہ ہوا فصلوں کی مد میں جو کہ ریکارڈ ہے انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ میں وہ انصاف ہے جو کہ طاقتور کے مقابلے کمزور کو فراہم کیا جائے صحت مند ماں اور بچے احساس پروگرام کے تحت لایا جارہا ہے جوکہ امیر اور غریب بچے کے درمیان غذا کا فرق ختم کیا جاسکے۔صحت سہولت کارڈز کے ذریعے وفاق اور پنجاب حکومت دسمبر تک سب کو 8 لاکھ 50 ہزار روپے تک مفت علاج کروا سکیں گے اگلا پروگرام نوجوان پاکستان کے مستقبل میں خواتین اور نوجوان کیلئے 10 ارب روپے قرضے فراہم کئے جائیں گے۔انٹرنیشنل سرٹیفکیٹ کے ذریعے دنیا میں باعزت روزگار فراہم کیا جارہا ہے تعلیمی بجٹ 42.5 ارب روپے کردیا گیا ہے ماحولیات پر تیزی سے کام جاری ہے ماحولیات کیلئے 16 گنا اضافہ کیا گیا ہے وہ پروگرام جس پر بڑی تنقید کی گئی لیکن دنیا بلین ٹری پروگرام کو سراہا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی سب سے زیادہ ریونیو دینے والا شہر ہے،کراچی کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے، اندرونی سندھ اور بلوچستان میں 1739 ارب روپے کی ذمہداری وفاق لے رہا ہے۔ خیبر پختون خواہ کے ضم شدہ قبائلی علاقہ جات ہیں جنہوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔انکے لئے خصوصی فنڈ 24 ارب روپے سے بڑھا کر 54 ارب روپے کر دیا گیا ہے کرونا ویکسین پر تنقید ہوئی لیکن سندھ اور کشمیر میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومت ہے انہوں نے کتنی ویکسین خریدی ہیں؟ انکی اربوں روپے کی جائیدادیں ہیں لیکن 20 ویکسین بھی اپنی جیب سے خریدی؟ یہ محبت ہے عوام سے اب تک وفاق نے 50 ارب روپے پنجاب میں کرونا کی مد میں 25ارب روپے سندھ اور 15 ارب روپے کے پی کے اور 111.9 ارب روپے بلوچستان کو فراہم کئے گئے ہیں 46 ارب روپے کی ویکسین وفاق خرید چکا ہے۔ٹوٹل 193 ارب روپے کی ویکسین خریدی گئی ہے انہوں نے کہا کہ ہر شخص کو 5 لاکھ روپے کاروبار کیلئے بلا سود قرضہ دیا جائے گا کسان کیلئے 2 لاکھ 50 ہزار روپے قرضہ دیا جائے گا ہر آمدنی والے شخص کو گھر بنانے کیلئے 20 لاکھ روپے بلا سود قرض دیا جائے گا اور ہر شخص کو مفت ہنر سیکھنے کا موقع بھی دیا جائے گا۔
کرونا پر قابو پانے پر دنیا خود کہتی ہے پاکستان سے سیکھو کامیابی سے سمارٹ لاک ڈاؤن سے کرونا کا مقابلہ کیا، اسد عمر



