اسلام آباد (نیشنل ٹائمز)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے مضاربہ آمدن پر انکم ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے انکم ٹیکس چھوٹ بحال رکھنے کی سفارش کردی جبکہ ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق معاملے پر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی حکام کو طلب کر لیا،وزارت تجارت حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ آئندہ مالی سال صنعتی شعبے کو مکمل پیداواری صلاحیت پر چلانے کیلئے اقدامات کیئے ہیں،کوشش ہے کہ خام مال کی درآمد ہو اور صنعتیں چلیں،ٹیکسٹائل انڈسٹری کو دی گئی مراعات سے برآمدات بڑھیں۔جمعرات کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سینیٹر طلحہ محمود کی صدارت میں ہوا، اجلاس کے دوران وزارت تجارت حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ آئندہ مالی سال صنعتی شعبے کو مکمل پیداواری صلاحیت پر چلانے کیلئے اقدامات کیئے ہیں،کوشش ہے کہ خام مال کی درآمد ہو اور صنعتیں چلیں،ٹیکسٹائل انڈسٹری کو دی گئی مراعات سے برآمدات بڑھیں۔کمیٹی اجلاس کے دوران فنانس بل کا جائزہ لیا گیا، ایف بی آر حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ فارما سیوٹیکل خام مال پر کسٹم ڈیوٹی صفر کرنے کی تجویز دی گئی ہے، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ادھر کچھ نظر ہی نہیں آرہا ادھر وہ ریٹ بڑھا رہے ہیں،ایف بی آر حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ادویات کی قیمتوں کو ڈریپ ریگولیٹ کرتا ہے، کمیٹی نے اگلے اجلاس میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی حکام کو طلب کرلیا،چیئرپرسن نیشنل ٹیرف کمیشن نے کمیٹی کو بتایا کہ ٹیکسٹائل سمیت مختلف برآمدی شعبوں کو دو سال میں نمایاں ریلیف دیا گیا،تمام خام مال پر ٹیکس ڈیوٹیز میں نمایاں کمی کی گئی ہے، ایف بی آر حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ایکسپورٹ سیکٹر کو بجٹ میں بہت سی مراعات دی گئی ہیں۔اجلاس کے دوران مضاربہ آمدن پر انکم ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا معاملہ بھی زیر غور آیا، کمیٹی نے مضاربہ آمدن پر انکم ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی مخالفت کردی اور مضاربہ آمدن پر انکم ٹیکس چھوٹ بحال رکھنے کی سفارش کردی،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ مضاربہ کو فروغ ملنا چاہیئے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کی مضاربہ آمدن پر انکم ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی مخالفت،بحال رکھنے کی سفارش



