اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر عام بحث کے مسلسل تیسرے دن میں ہنگامہ آ رائی جاری رہی ، ایوان کا ماحول کشیدہ رہا اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف اپنی تقریر مکمل نہ کرسکے، ہنگامہ آ رائی کے باعث ایوان کی کارروائی تین دفعہ معطل کی گئی لیکن سپیکر ایوان کا ماحول ٹھیک کرنے میں ناکام رہے، شہباز شریف کی تقریر کے دوران حکومتی ارکان نے شور شرا با کیا اور چور ، ڈاکو کے نعرے لگائے، حکومتی رکن اکرم چیمہ سینٹائزر کی بوتل لگنے سے زخمی ہوگئے، پارلیمنٹ میں ہونے والے واقعات کی تحقیقات اور کاروائی کے لئے پارلیمانی کمیٹی کا حصہ بننے کے لئے اپوزیشن ارکان نے انکار کردیا، سپیکر اسد قیصر نے کہاکہ جس نے بھی یہ بوتل پھینکی ہے اس کے خلاف کاروائی کروں گا،14اور 15جون کو جو ایوان میں ہوا ،افسوسناک ہے، اس سے پارلیمنٹ کی تضحیک ہو ئی، اس پر تحقیقات اور کاروائی کے لئے پارلیمانی کمیٹی بنانے کی تجویز مسلم لیگ (ن) کے راہنمارانا تنویر حسین نے دی تھی،جن ارکان نے پارلیمانی ارکان نے روایات کو مسخ کیا ہے، ان کے خلاف جو کمیٹی سفارش دے گی اس پر عمل کروں گا، حکومت اور اپوزیشن ارکان کمیٹی کے لئے اپنے نام دیں جبکہ قائد حزب اختلا ف شہباز شریف نے کہاکہ گزشتہ روز ہماری پارلیمانی تاریخ کا سیاہ دن تھا، عمران نیازی کے حکم پر غلیظ گالیاں دی گئیں، پارلیمنٹ کی روایات کی دھجیاں اڑائی گئیں، بد زبانی کی گئی ، ایسے الفاظ بول گئے جو زبان پر لانا مشکل ہے، سپیکر کا فرض تھا کہ آپ اس طوفان بدتمیزی کو روکتے، اور ایوان کا تقدس کا برقرار رکھتے ، بدقسمتی سے آپ نے نہیں روک سکے، اب بھی دھینگا مشتی جاری ہے ، سپیکر نے سینٹائزر کی بوتل سے حکومتی رکن کے زخمی ہونے کے بعد اجلاس کی کاروائی جمعرات دن بارہ بجے تک ملتوی کردی۔ بدھ کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت تقریباً 2گھنٹے تاخیر سے شروع ہوا، شہباز شریف اور بلاول بھٹو جب ایوان میں آئے تو اپوزیشن ارکان نے ڈیسک بجا کر اور نعرے لگا کر ا ن کا استقبال کیا۔ سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ 14اور 15جون کو جو ایوان میں ہوا ،افسوسناک ہے، جن ارکان نے غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کئے اور غیر پارلیمانی رویہ استعما ل کیا اس سے پارلیمنٹ کی تضحیک ہو ئی، اس حوالے سے تحقیقات کے لئے پارلیمانی کمیٹی بنائی جا رہی ہے، اس کی تجویز مسلم لیگ (ن) کے راہنمارانا تنویر حسین نے دی تھی،کمیٹی کے لئے اپوزیشن اپنے نام دے، جن لوگوں نے پارلیمانی ارکان نے روایات کو مسخ کیا ہے، ان کے خلاف جو کمیٹی سفارش دے گی ،اس پر عمل کروں گا، اگر اس حوالے سے رولز میں کوئی کمی ہے تو اس کو بھی پارلیمانی کمیٹی دیکھ لے، اجلاس اس وقت تک نہیں شروع کروں گا جب تک حکومت اور اپوزیشن معاملات پر اتفاق نہیں کرتے۔سپیکر نے حکومت اور اپوزیشن ارکان دونوں کو کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کیلئے اپنے نام دیں، سپیکر نے مشاورت کیلئے اجلاس کی کارروائی ملتوی کر دی، اس دوران اپوزیشن ارکان نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر شہباز شریف کو تقریر کے لئے فلور دینے کا کہا، وقفہ کے بعد جب دوبارہ اجلاس شروع ہوا تو سپیکر نے شہباز شریف کو تقریر جاری رکھنے کیلئے کہا لیکن وہ اسمبلی میں موجود نہیں تھے، سپیکر نے شہباز شریف کے ایوان میں آنے کا انتظار کیا، اس دوران مرتضی جاوید عباسی نے کہا کہ مجھے پوائنٹ آف آرڈر پر فلور دیں، آپ نے جو لیٹر لکھا ہے یہ غیر قانونی ہے، کوئی ایسا رول نہیں ہے، اس پر بات کرنے دیں، اس دوران شہباز شریف ایوان میں آئے تو اپوزیشن ارکان نے ان کا استقبال کیا، شہباز شریف نے کہا کہ کل ہماری پارلیمانی تاریخ کا سیاہ دن تھا، آپ اس ہائوس کے کسٹوڈین ہیں، ہائوس کو قانون کے تحت ہائوس چلانا ہے، کل عمران نیازی کے حکم پر غلیظ گالیاں دی گئیں، پارلیمنٹ کی روایات کی دھجیاں اڑائی گئیں، بد زبانی کی گئی ، ایسے الفاظ بول گئے جو زبان پر لانا مشکل ہے، آئین اور قانون کی دھجیاں اڑائی گئیں، سپیکر کا فرض تھا کہ آپ اس طوفان بدتمیزی کو روکتے، اور ایوان کا تقدس کا برقرار رکھتے ، بدقسمتی سے آپ نے نہیں روک سکے، یہ ہمارا فیصلہ تھا کہ اگر اپوزیشن کی تقریروں کو امن سے سنا گیا تو ہم بھی قائد ایوان کی تقریر کوامن سے سنیں گے، دو دن گزر گئے جس طرح گالم گلوچ ہوا، اس کو آ پ نے نہیں روکا ، جس طرح مائوں اور بہنوں کو رگیدا گیا ، آ پ نے نہیں روکا، جس طرح بد زبانی کی گئی اور غلیظ زبان استعمال کی گئی، آپ نے نہیں روکا۔ اب بھی دھینگا مشتی جاری ہے ، کل کو اگر قائد ایوان آئے تو اورپھر اپوزیشن نے اس حوالے سے اس بات کا مظاہرہ نہیں کیا جس کی آ پ کی توقع ہے تو پھر مجھ سے آپ نے نہیں کہنا، اگر آپ اتنے بے بس ہیں تو مجھے افسو س ہے، سپیکر نے کہا کہ میں نے سب کو روکا، میرے لئے سب قابل احترام ہیں، ان کی تقاریر کے دوران حکومتی ارکان نے شور کیا اور چور چور کے نعرے لگائے، مسلم لیگ نون کے حکومت کے خلاف پلے کارڈ اٹھا کر لائے ،اپوزیشن ارکان نے یا اللہ نشی سے ہماری جان چھڑا کے پلے کارڈ لہرائے، پی ٹی آئی کے رکن عطاء اللہ نے چور چور کے نعرے لگائے تو مسلم لیگ نون کے رکن کھل داس نے ان کو مکے دکھائے ، سپیکر نے ایوان میں صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کیلئے سارجنٹ ایٹ آرمز کی اضافی نفری طلب کر رکھی تھی ، جس نے حکومتی اور اپوزیشن بینچوںکے درمیان دیوار بنائی تھی اور شہباز شریف کو حصار میں لیا تھا۔شہباز شریف کی تقریر کے دوران حکومتی رکن اکرم چیمہ کو کوئی چیز آنکھوں پر ماری گئی، سپیکر نے کہاکہ جس نے بھی یہ کاروائی کی اس کے خلا ف کاروائی کروںگا،سپیکر نے پوچھا یہ کن نے مارا، حکومتی ارکان نے کہا کہ یہ اپوزیشن کے لوگوں نے ماری ہے، اس پر سپیکر نے اجلاس پندرہ منٹ کے لئے ملتوی کر دیا۔ اس دوران مسلم لیگ (ن) کی رکن مائزہ حمید کی پی ٹی آئی رکن کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی، ، پی ٹی آئی کے رکن سیف الرحمان نے بتایا کہاکرم چیمہ کو سینٹائزر کی بوتل ماری گئی ہے۔وقفے کے بعد اجلاس شروع ہوا تو اسپیکر نے کہا کہ میں نے کوشش کی تھی اور میاں شہباز شریف کو بلایا ، رانا تنویر حسین کی تجویز پر واقعات کی تحقیقات کے لئے پارلیمانی کمیٹی بنانے کیلئے کہا تھا لیکن اپوزیشن اس کیلئے نام نہیں دے رہی ہے ، بوتل پھینکنے سے ایک حکومتی رکن زخمی ہوا ہے ۔ اس سے افسوس ہوا، دونوں جماعتوں سے درخواست ہے کہ ایک دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام کریں اور ایوان کے تقدس کا اخیال رکھیں ۔ اس واقعہ کے بعد ایوان کی کاروائی ملتوی کرتا ہوں ، انہوں نے اجلا س کی کاروائی بروز جمعرات دن 12بجے تک ملتوی کردی۔بعد ازاں اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ(ن)کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی خود اجلاس نہیں چلانا چاہتے، اجلاس بلا کر حکومتی بینچز کی طرف سے اپوزیشن کو گالیاں دی گئیں،جسکے ہمارے پاس ثبوت موجود ہیں،یہ لوگ نہیں چاہتے کہ پارلیمنٹ چلے،یہ نظام پر حملہ کرنا چاہتے ہیں،یہ سپیکر کی کرسی اور پارلیمنٹ پر حملہ کرنا چاہتے ہیں،اپوزیشن لیڈر کی تقریر شروع ہوتے ہی حکومت کی طرف سے اپوزیشن پر بوتلیں پھینکی گئیں اور گالیاں دینا شروع کر دی گئیں،یہ لوگ اس نیت سے آتے ہیں کہ اجلاس نہیں چلنے دینا،اس نیت سے آتے ہیں کہ اپوزیشن لیڈر بات نہیں کرے گا۔
قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے مسلسل تیسرے دن بھی شدید ہنگامہ آرائی ، ایوان کا ماحول بدستور کشیدہ



