اسلام آباد( نیشنل ٹائمز) سینیٹ میںاپوزیشن ارکان نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کو غریب کش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر خزانہ نے ہندسوں کی جادو گری دکھائی ہے،ٹیکس فری بجٹ میں سے 383ارب کے نئے ٹیکس نکل آئے، دودھ اور دہی پر پندرہ فیصد سیلز ٹیکس لگا دیا ہے، وزراء کے بیانات ایک دوسرے سے نہیں ملتے، بارہ سو ارب کی سپلیمنٹری گرانٹس بھی منظور کرائی جا رہی ہیں، قرضے 45ہزار ارب پر چلے گئے ہیں، موجودہ حکومت نے پندرہ ہزار ارب کے قرضے لے کر ابھی تک اینٹ تک نہیں لگائی، مہنگائی میں تیس فیصد اضافہ ہوا ہے، متوسط طبقہ پس گیا ہے، حکومت سیاسی مخالفین کی زبانیں کھینچنے پر لگی ہے ، ان کی ساری توجہ اپوزیشن کو دیوار سے لگانے پر ہے ،انہوں نے پچاس لاکھ گھروں کا وعدہ کیا تھا تین سالوں میں ایک بھی گھر نہیں دیا ، تنخواہوں میں دس فیصد کا اضافہ بہت کم ہے۔ جبکہ حکومتی سینیٹرز نے کہا ہے کہ یہ بجٹ وقت کی ضرورت ہے، ہر کسی نے اتفاق کیا ہے کہ یہ درست سمت ہے، ہم نے معیشت کو مستحکم کر دیا ہے ،ہم نے ہنڈی حوالے کو کنٹرول کیا، یہ والا بجٹ ترقی کا بجٹ ہے، اس بجٹ نے مسائل کی نشاندہی کی ہے اور ان کا حل بتایا ہے، بجٹ سب کے لیئے ہے۔منگل کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی صدارت میں ہوا ، اجلاس کے دوران بجٹ پر بحث کرتے ہوئے مسلم لیگ(ن) کے سینیٹراعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اس حکومت نے ایک اور بجٹ پیش کیا،ٹیکس فری بجٹ میں سے 383ارب کے نئے ٹیکس نکل آئے، دودھ اور دہی پر پندرہ فیصد سیلز ٹیکس لگا دیا ہے، معیشت کی ریڑھ کی ہڈی زراعت ہے ، زراعت کے لیئے 12ارب روپے رکھے گئے ہیں، وزیر خزانہ نے ہندسوں کی جادو گری دکھائی ہے، اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وزراء کے بیانات ایک دوسرے سے نہیں ملتے، بارہ سو ارب کی سپلیمنٹری گرانٹس بھی منظور کرائی جا رہی ہیں، قرضے 45ہزار ارب پر چلے گئے ہیں، موجودہ حکومت نے پندرہ ہزار ارب کے قرضے لے کر ابھی تک اینٹ تک نہیں لگائی، مہنگائی میں تیس فیصد اضافہ ہوا ہے، متوسط طبقہ پس گیا ہے، حکومت سیاسی مخالفین کی زبانیں کھینچنے پر لگی ہے ، ان کی ساری توجہ اپوزیشن کو دیوار سے لگانے پر ہے ، اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ حکومت دعووں کے بجائے کام پر توجہ کرے، وزیر قانون سینیٹر فروغ نسیم نے کہا کہ بجٹ سب کے لیئے ہے ، پاکستان کے لیئے ہے ، انہوں نے اپوزیشن رہنمائوں پر کیسز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے کیسزاس حکومت کے آنے سے پہلے کے ہیں، یہ حکومت نے کیس نہیں بنائے، انہوں نے شہباز شریف کو ایف آئی اے کی جانب سے بھیجے گئے لیٹر کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کا حکومت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ، حکومت نے نہ لیٹر جاری کرایا ہے نہ حکومت کا اس سے تعلق ہے، فروغ نسیم نے کہا کہ مہنگائی بہت پیچیدہ مسئلہ ہے ، ہماری پوری معاشی ٹیم میسر ہے، اپوزیشن اپنی معاشی ٹیم لے کر آئے اور میڈیا پر براہ راست دکھاتے ہیں حقائق اور اعدادو شمار سے بات ہو گی، یہ چیلنج نہیں درخواست ہے اس کو قبول کریں تاکہ حقائق اور اعدادو شمار سے بحث کریں، پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر امام الدین شوقین نے کہاکہ یہ بجٹ بھی غریب کش بجٹ ہے،تین سالوں میں تین وزیر خزانہ تبدیل ہوئے، تین سال میں اتنے وزراء اور سیکرٹریوں کو تبدیل کیا گیا ، سینیٹر امام الدین شوقین نے کہا کہ ایک نوکری بھی کہیں دی گئی ہے؟ بجٹ میں کاریں سستی ہو گئیں، تجارتی خسارہ آج تاریخ کا بدترین تجارتی خسارہ ہونے جارہا ہے، ہم نے سندھ میں سڑکوں کا جال بچھایا انہوں نے پچاس لاکھ گھروں کا وعدہ کیا تھا تین سالوں میں ایک بھی گھر نہیں دیا ، زراعت میں اس مرتبہ کچھ بھی نہیں رکھا ، پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ یہ بجٹ وقت کی ضرورت ہے، ہر کسی نے اتفاق کیا ہے کہ یہ درست سمت ہے، ہم نے معیشت کو مستحکم کر دیا ہے ،ہم نے ہنڈی حوالے کو کنٹرول کیا، یہ والا بجٹ ترقی کا بجٹ ہے، اس بجٹ نے مسائل کی نشاندہی کی ہے اور ان کا حل بتایا ہے، عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر ہدایت اللہ خان نے کہا کہ مہنگائی روز بروز بڑھتی چلی جا رہی ہے، تنخواہوں میں دس فیصد کا اضافہ بہت کم ہے۔
سینیٹ میں اپوزیشن نے وفاقی بجٹ کو غریب کش قرار دیدیا، وزیر خزانہ نے ہندسوں کی جادو گری دکھائی



