اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ جس حکومت کو یہ نہیں معلوم کہ ٹیکس کیسے اکٹھا کرنا ہے وہ بجٹ کیسے بنائے گی تین سال سے بجٹ کاپی پیسٹ ہوتا آرہا ہے کابینہ کی منظوری کے بغیر بجٹ پیش کر دیا گیا ہے،پیٹرولیم کی مصنوعات پر ٹیکس لگانے سے ان کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوجائے گا اور عوام 20 روپے فی لیٹر اضافہ برادشت کرنے کے لیے تیار ہو جائے،وزیر خزانہ نے یہ عتراف کیا ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدے غلط طے پائے تھے ،آئی ایم ایف کے لوگ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں،ائی ایم ایف کی بورڈ میٹنگ سے پاکستان کا ایجنڈا ڈراپ کر دیا گیا ہے ان خیالات کا اظہار سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سینٹر سلیم مانڈوی والا،پیپلز پارٹی کے فنانس سیکرٹری حیدر زمان قریشی اور فیصل راٹھور نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا پیپلز پارٹی کے چیف میڈیا کوآرڈینیٹر نذیر ڈھوکی بھی ان کے ہمراہ تھے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ آن لائن کپڑے لوگ بہت منگواتے ہیں اس پر بھی ٹیکس لگا دیا گیا ہے،چینی پر جی ایس ٹی اور لگ گیا ہے چینی اور مہنگی ہو گی، یہ تمام چیزیں ہم سینیٹ خزانہ کمیٹی میں لے جائیں گے، عام آدمی کے لئے بجٹ میں کچھ نہیں ہے،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی بات کرتے ہیں وہ ہم نے شروع کیا تھا،صوبوں سے سرپلس واپس مانگا ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے،یہ مطالبہ حکومت کا ناجائز ہے صوبے وفاقی حکومت کو پیسے واپس نہیں کرتے،2013 میں ایکسپورٹ ہم 25 بلین کی کر گئے تھےآج تک سات سال میں ملک کی ایکسپورٹ نہیں بڑھ سکی ہماری حکومت ہوتی تو آج پچاس بلین تک کے ایکسپورٹ ہوتی پاکستان سو بلین کی بھی ایکسپورٹ کر سکتا ہے جس کے لئے پلاننگ ضروری ہے،بیرون ملک مقیم پاکستانی زیادہ پیسے بھیج رہے ہیں جبکہ ایکسپورٹ کم ہیں،اس پر شرم کرنی چاہئے اور سنجیدہ ہونا چاہئے،انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف بورڈ میٹنگ میں پاکستان کا ایجنڈا نکال دیا گیا ہے، یہ آج کی بریکنگ نیوز ہے آئی ایم ایف نے اپنی بورڈ میٹنگ سے نکال دیا ہے،وزیر خزانہ کو سلام پیش کرتا ہوں انہیں نے تسلیم کیا ہے آئی ایم ایف سے معاہدہ غلط ہوا ہے،فیٹف میں ہم گرے لسٹ میں ہیں ہر دفعہ ہمیں بلیک لسٹ کرنے کی بات کی جا رہی ہے تین سال گزرنے کے باوجود ہم بہتر نہیں کر سکے،ہر کاروبار میں پاکستانی افراد کو مسائل ہیں فیٹف کی وجہ سے،گرے لسٹ سے نکلنے کی بات نہیں ہوتی، این ایف سی ایوارڈ شوکت ترین نے متعارف کروایا تھا،این ایف سی سے صوبے میں بھائی چارے کی فضا آئی تھی،سات سال گزرنے کے باوجود این ایف سی ایوارڈ کی بات نہیں ہو رہی،انہوں نے کہا کہ کروڈ آئل پر سترہ فی صد ٹیکس عائد کردیا ہےحکومت لگائے گئے ٹیکس کا جائزہ لے ایل این جی پر بھی ٹیکس لگا دیا ہے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے کے امکانات ہیں بجٹ میں عام آدمی کے لیے کوئی ریلیف نہیں ہے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی بات کرتے ہیں وہ بھی پیپلز پارٹی کا پروگرام ہےصوبے کیسے وفاق کو سرپلس واپس کریں گے صوبے وفاق کو پیسے واپس نہیں کرتے ملک کی ایکسپورٹ سات سال میں نہیں بڑھی پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو ہم ایکسپورٹ بڑھائیں گے آئی ایم ایف کی بورڈ میٹنگ سے پاکستان کا ایجنڈا ڈراپ کر دیا ہےوزیر خزانہ خود کہ رہے ہیں آئی ایم ایف سے غلط معاہدے ہوئے ہیں ایف اے ٹی ایف سے نکلنے کے لیے چار پوائنٹ کو فوکس کرنا چاھیے گرے لسٹ سے باہر نکلیںسلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ہر سال ٹیکس کلکشن کی تباہی کی گئی2019 میں 5.5 ٹیکس کلکشن کی گئی تین سال بجٹ کاپی پیسٹ ہوتا رہابجٹ پیش کر دیا مگر کابینہ نے بجٹ پیش ہی نہیں کیا گیایہ 727 بلین کے نئے ٹیکس لگائے جا رہے ہیں وزیر خزانہ نے انڈائیرکٹ ٹیکس لگا کر تباہی کر دیآن لائن چیزیں خریدنے پر ایلس ٹیکس لگا دیا گیا، حکومت نے اس پر بھی ٹیکس لگا دئیے جس پر پہلے ٹیکس نہیں لگائے گئےکروڑ تیل پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لگا دیا، اس کا مطلب تیل کی قیمت میں بھی اضافہ ہوگاگیس اور پیٹرول مہنگا ہو رہا ہےجب تک کورونا رہے گا آن لائن نظام چلتا رہے گا،انٹرنیٹ اور فون کالز پر ٹیکس سے ڈھائی سو ارب کا ٹیکا عوام پر لگنا تھا،انہوں نے کہا کہ ہر سال تحریک انصاف کا جو بھی ٹارگٹ رہا ہے ٹیکس کلیشکشن کی تباہی ہی کی ہے،جس حکومت کو یہ نہیں معلوم کہ ٹیکس کیسے کلیکٹ کرنا ہے وہ بجٹ کیسے بنائے گی، کابینہ کی منظوری کے بنا بجٹ پیش ہوگیا، حکومت کہتی ہے کوئی ٹیکس نہیں لگایا، 27 بلین ان ڈائریکٹ ٹیکس لگا دیئے گئے ہیں پٹرولیم لیوی میں اضافے کی بات کی گئی ہے،آپ بیس روپے فی لیٹر پٹرول کی قیمت میں اضافے کے لئے تیار ہوجائیں،ان ڈائریکٹ ٹیکس لگا کر تباہی کردی گئی ہے،سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ کوویڈ کے دور میں جن آن لائن خریداری والی چیزوں پر ٹیکس نہیں وہ نہ لگایا جایےفون کالز, ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ پر اگر ٹیکس واپس نہ لیا جاتا تو عوام کو اڑھائی ارب روپے کا ٹیکہ لگتاخام تیل پر 17 فیصد ڈیوٹی اور ایل این جی پر سیلز ٹیکس لگانے سے یپ سب مہنگے ہونے جا رہے ہیں گیس اوت ایل این جی بھی مہنگے ہونے جا رہے ہیں چینی پر حکومت نے جی ایس ٹی لگا دیا ہےہم پہلے ہی چیخ رہے ہیں کہ چینی مہنگی ہو گیی عام آدمی کے لیے. مجھے بجٹ میں کوئی چیز کہیں دکھائی نہ دی وہ اگر بات کرتے ہیں تو صرف بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی بات کرتے ہیں جو ہم. نے شروع کیاسلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ایل این جی بھی 17 فیصد مہنگی ہونے جا رہی ہے، گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے،چینی کی قیمت پہلے ہی ایک سو روپے تک پہنچ چکی ہے، چینی کی قیمت میں 7 روپے جی ایس ٹی لگا دیا گیا ہے، صوبوں سے پیسے واپس نہیں لیئے جا سکتے، ہم نے 25 بلین کی ایکسپورٹ کی تھی، 7 سال ہوگئے ہیں یہ ملک وہی ہی کھڑا ہے، حیدر زمان قریشی نے کہا کہ زراعت کے لیے صرف 12 ارب روپے رکھے گئےکسانوں کو کہا گیا کہ وہ 5 پانچ لاکھ کا قرض لے لیں ڈی اے پی کی قیمٹ گذشتہ ایک برس میں 5600 روپے ہےبھارت میں ڈی اے پی قیمت 2600 روپے ہےبجلی ٹیوب بے ویل یونٹ کو 5 روپے کا تھا آج وہ 12 روپے کا ہےاگر زراعت کا پہیہ چلانا ہے تو پیپلز پارٹی اور آصف زرداری سے سیکھیں پاکستان میں ایک ہی شاید کمپنی ہے جو کہ 800 سی سی گاڑیاں بناتی ہےالیکٹرک کار پت اقدامات سے قبل پورا نظام چارجنگ, ٹائر, بیٹریز ہونے چاہئیں الیکٹرک کار پر ڈیوٹی کرتے ہقیے اس کے ٹائر بیٹریاں و فیگر لوازمات مہنگے کر دئیے گیےکیا پورے پاکستان کی موٹر ویز بی او ٹی پر بنائی گئیں ہیں باقی پاکستان کی موٹر ویز پر کیا نجی شعبہ نے پیسے لگائے انہوں نے کہا کہ سندھ کو 85 ارب روپے نہیں ملے سندھ کے ساتھ دوہرا معیار ختم ہونا چاھیے خطے کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ملک کے دفاعی بجٹ کو بڑھانا چاھیے: فیصل راٹھور نے کہا کہ25 جولائی کو آداز کشمیر الیکشن کا اعلان ہوا10 جون کو ووٹرز لسٹیں آویزاں کی گئیں ووٹرز لسٹوں سے ہمارے ووٹرز کے نام بھی ہٹا دیے گئےایک نشست پر 5000 ووٹرز کے نام کاٹ کر 2300 کر دیا گیاجموں 6 کے. لیے ایک ایسا سافٹ وئیر متعارف کرایا گیا کہ وہاں بھی بہت سے ووترز کا نام کاٹ دیا گیاپیپلز پارٹی چونکہ آزاد کشمیر میں حکومت سازی کی پوزیشن میں ہے لہذا حکومت اس کو چوری کر رہی ہےدو گھنٹے لگتے ہیں آزاد کشمیر اے آ کر یہاں دھرنا دینے میں شوکت ترین نے جو چیزیں پیپلز پارٹی کے دور میں کیں اگر وہ اب بھی وہی کریں گےتو کامیاب ہوں گےہر چیز پیپلز پارٹی قیادت کی نگرانی میں شوکت ترین اچھے انداز سے کر چکے ہیں قجو کام اچھا ہو گا ہم کرتے رہیں گے۔
جس حکومت کو یہ نہیں معلوم کہ ٹیکس کیسے اکٹھا کرنا ہے، وہ بجٹ کیسے بنائے گی، پیپلزپارٹی کی شدید تنقید



