اسلام آباد ( نیشنل ٹائمز) جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ایک بار پھر عام انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ انتخابات میں مداخلت سے باز رہے، قوم کو ووٹ کا حق دیا جائے ، حکومت میں دم نہیں وہ ہمارے تحفظات دور کر سکے، ہمارے تحفظات دور کرنا چاہتے ہیں تو مناسب ماحول فراہم کرنے کے لیے ہم آمادہ ہیں، جب تک شفاف انتخابات کی ضمانت مہیا نہیں کی جاتی رابطے کوئی معنی نہیں رکھتے، اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس دو روزہ اختتام پذیر ہوا، 13، 14 فروی کے عاملہ کے اجلاس کی فیصلوں کی توثیق کردی گئی اور انتخابات کو مسترد کیا ہے، انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے خلاف تحریک جاری رکھیں گے، قوم کو ووٹ کاحق دیا جائے اور اسٹیبلشمنٹ انتخابات میں مداخلت سے باز رہے، مرکزی مجلس شوریٰ نے سیاسی جماعتوں کے رابطوں کو سیاسی عمل قراردیا۔
سربراہ جے یو آئی ف نے کہا کہ پی ٹی آئی کیخلاف ہمارا مؤقف اور تحفظات سنجیدہ ہیں لیکن ہم مذاکرات کو خوش آمدید کہتے ہیں، ہمارے تحفظات دور کرنا چاہتے ہیں تو مناسب ماحول فراہم کرنے کے لیے ہم آمادہ ہیں، ہم اپنے مثبت رویوں پر قائم ہیں، بصد احترام پاکستان تحریک انصاف کی قیادت میں یکسوئی کا فقدان ہے، پی ٹی آئی کے وفود معاملات طے کرنے کے لیے آتے ہیں لیکن انہوں نے کسی مذاکراتی ٹیم کا اعلان نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کے سربراہ نے کہا جے یو آئی کے ساتھ کسی طرح اتحاد نہیں ہوسکتا، اس متضاد ماحول میں ہم کوئی رائے قائم نہیں کرسکے، جمعیت علماء اسلام مذاکرات کرنا چاہتی ہے اور مسئلے کا حل چاہتی ہے، آئین تمام اداروں کے دائرہ کار کا تعین کرتا ہے تمام ادارے اپنے دائرہ کار سے وابستہ ہو جائیں، ملکی دفاع کے پوری قوم فوج کے ساتھ کھڑی ہے لیکن سیاسی معاملات میں مداخلت فوج کے حلف کے منافی ہے جسے ہم تسلیم نہیں کرتے۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ فاٹا کا انضمام کے موقع پر ہر سال سو ارب دینے کا وعدہ کیا گیا تاہم سات سال بعد بھی سو ارب روپے پورے ادا نہیں ہوئے، ریاست کب عوام کا احساس کرے گی اور کب عوام کی آرزؤں کو پورا کرے گی، جمعیت علما ئے اسلام پاک چائنا تعلقات کو مستحکم دیکھنا چاہتی ہے تاہم حکومت سرمایہ کاری کے لیے چائنا کا اعتماد بحال نہیں کرسکی، امریکی ایوان نمائندگان نے گزشتہ الیکشن کو مشکوک قراردیا ہے ہر چند ہم پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کو تسلیم نہیں کرتے لیکن کیا ایوان نمائندگان کی قرارداد پاکستان کی سفارتی ناکامی نہیں ہے لہذا ریاست کو اپنی پالیسیوں پر غور کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ کہا گیا ہم افغانستان کے اندر جاکر حملے کریں گے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، تم نے افغانستان پر امریکیوں کو حملے کی اجازت دی اور امریکی جہازوں کو بمباری کی اجازت دی، جب پاکستان میں دہشت گردی کو کنٹرول نہیں کرسکے تو افغانستان کے معاملے پر قوم کو بلیک میل مت کرو، چمن بارڈر، انگور اڈا ، جمرود، باجوڑ میں بارڈر پر آباد لوگوں پر وہ قدغنیں لگائی جارہی ہیں جو دنیا میں کہیں بارڈر پر آباد لوگوں پر نہیں لگائی جاتیں۔
عام انتخابات مسترد، اسٹیبلشمنٹ الیکشن میں مداخلت سے باز رہے، قوم کو ووٹ کا حق دیا جائے، مولانا فضل الرحمان



