اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ آپریشن عزم استحکام شروع کیے جانے سے قبل اس کے بارے میں ان کیمرا میٹنگ میں بحث کرائی جائے گی اس کے بعد یہ آپریشن شروع کیا جائے گا۔وزیر قانون نے حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی منگل کو چئیرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی صدارت ہونے والے ایوان بالا کے اجلاس میں کرائی۔اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا کہ آپریشن کے حوالے سے حکومت کی جانب سے ایک ادن پہلے بھی وضاحت آچکی ہے۔انہوں نے کہا کہ آپریشن پر پہلے کابینہ اور پھر قومی سلامتی کمیٹی کے بند کمرہ اجلاس میں بحث کی جائے گی۔ وزیر قانون نے کہا کہ مجھے گزشتہ روز ڈانٹا گیا، عزم استحکام آپریشن کے بارے میں قرارداد پر میں نے چھپ کر تو دستخط نہیں کرائے، میں نے انھیں کہا بے ضرر سی قرارداد ہے، آپریشن پر ایک دن پہلے بھی وضاحت آچکی، میں نے قومی اسمبلی میں بھی کہا تھا آپریشن پہلے کابینہ اور قومی سلامتی کمیٹی کے بند کمرہ اجلاس میں زیر بحث لایا جائے گا۔ اس سے قبل اپوزیشن لیڈر سینیٹر شبلی فراز نے پیپلز پارٹی اور حکومت کی جانب سے سینیٹ کمیٹیوں سمیت دیگر معاملات میں نظر انداز کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا اور چیئرمین سینیٹ سے نظرثانی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں ایک قرارداد پیش کی گئی یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ کثرت رائے کی بنیاد پر ایک قرار داد منظور کرالی مگر ہمیں دکھایا تک نہیں۔ درخواست ہے کہ اگر اس ایوان کو بیلنس طریقے سے چلانا ہے تو چلائیں۔جس پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ہم اپوزیشن کو اپنے ساتھ لیکر چلیں گے۔
آپریشن عزم استحکام کے آغاز سے قبل اِن کیمرا میٹنگ میں بحث کرائی جائے گی، حکومت کی یقین دہانی



