سکھر (نیشنل ٹائمز )صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ امن و امان میں خلل کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، کچے کے علاقے ہوں یا شہری ہر حال میں امن کی فضا کو مکمل بحال رکھنا ہے،کچے میں ہتھیار ڈالنے والے ڈاکوں کو قومی دھارے میں شامل کیا جائے جبکہ دیگر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو سکھر میں امن و امان کے حوالے سے اعلی سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔ اجلاس میں وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ ،آئی جی سندھ پولیس غلام نبی میمن ، ڈی جی رینجرز سندھ نے بھی شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پولیس اور دیگر ادارے امن کی مکمل بحالی کے لیے کام کر رہے ہیں، ہم خوشحال پاکستان کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائیں گے۔صدر مملکت نے کہا کہ ریاست کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کچے کے جرائم پیشہ افراد کو بتدریج قومی دھارے میں لاا جائے جبکہ گھنائونے جرائم میں ملوث پیشہ ور مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔انہوں نے کہا کہ چھوٹے جرائم میں ملوث افراد کی بحالی کر کے ملک کا ذمہ دار اور کارآمد شہری بنانا چاہیے۔صدر مملکت نے کچے کے علاقے میں لوگوں کی سماجی و اقتصادی حالت بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علاقے میں سڑکیں، صحت اور تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کو ترجیحی بنیادوں پر بہتر بنایا جائے اور کچے کے علاقے کے قبائلی سرداروں پر مشتمل ایک قومی جرگہ بلایا جائے جو امن کے فروغ، سیکورٹی صورتحال بہتر بنانے کیلئے مقامی آبادی سے مذاکرات کرے۔آصف زرداری نے کہا کہ قومی جرگہ جرائم کی روک تھام ، علاقے کو ہتھیاروں سے پاک کرنے کیلئے کردار ادا کرے گا۔انہوں نے کہا گھوٹکی اور کرم پور برج کی تعمیر کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔آصف علی زرداری نے کہا کہ سکھر بیراج قیمتی اثاثہ ہے، بیراج کی بحالی اور اسے محفوظ بنانے کیلئے کوششیں تیز کی جائیں، کوئی کوتاہی قبول نہیں ہوگی، زراعت کے لیے سکھر بیراج انتہائی اہم منصوبہ ہے۔صدرت مملکت نے کہا کہ صوبے کی سیکیورٹی چیلنجز، ضروریات مثر طریقے سے پورا کرنے کیلئے پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا، سندھ پولیس کو جدید آلات ، ہتھیار، مناسب انسانی وسائل ، لاجسٹکس فراہم کر کے استعدادِ کار بڑھائی جائے۔انہوں نے کہا کہ فرائض کی احسن طریقے سے انجام دہی کیلئے پولیس اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے، سندھ پولیس میں خواتین کی شمولیت کیلئے انکی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے، سندھ پولیس کے شہدا کے خاندانوں اور بچوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جائے۔آصف علی زرداری نے سکرنڈ پولیس کمانڈو اسکول کی اپ گریڈیشن ، کیڈٹ کالج برائے پولیس کے قیام کیلئے اراضی کی فراہمی تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کیڈٹ کالج کے منتخب طلبا کو سندھ پولیس میں بھرتی ہونے کیلئے تعلیم و تربیت دی جائے۔صدر مملکت نے جرائم پر قابو پانے ، سیکیورٹی صورتحال بہتر بنانے میں سندھ حکومت، پولیس اور رینجرز کی کارکردگی کو بھی سراہا۔ ذرائع کے مطابقاجلاس میں صدر مملکت کو سندھ میں امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی جبکہ یکم مئی کے اجلاس کے دوران دی گئی ہدایات پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا گیا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ پولیس اور رینجرز کی موثر حکمت عملی کی وجہ سے سندھ بالخصوص کراچی اور کچے کے علاقوں میں جرائم اور تشدد میں کمی کا رجحان دیکھا گیا۔آئی جی سندھ نے بتایا کہ ڈاکوں کی سرگرمیوں میں خاطر خواہ کمی آئی ہے، گزشتہ دو ماہ کے دوران شاہرائوں سے متعلق کوئی جرم رپورٹ نہیں ہوا، ٹارگٹڈ آپریشنز اور اسمارٹ کیمروں کی تنصیب سے جرائم پر قابو پانے اور سہولت کاروں کی شناخت و گرفتاری میں مدد ملی ہے۔ڈی جی رینجرز نے بریفنگ میں بتایا کہ سندھ پولیس اور رینجرز کی جانب سے 133 مشترکہ آپریشنز کیے گئے، جس کے نتیجے میں سیکڑوں ڈاکوں اور جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کیا گیا، جرائم پر قابو پانے کیلئے کچے کے مختلف علاقوں میں اضافی چیک پوسٹیں قائم کی گئی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ صدر مملکت کی ہدایت پر منشیات فروشوں کے خلاف مہم تیز کر دی گئی ہے اور آپریشن کر کے 308 منشیات فروشوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے جبکہ صوبے کے داخلی راستوں کی نگرانی کیلئے اسمارٹ کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں۔ صدر مملکت کو بریفنگ دی گئی کہ کچے کے علاقوں میں ڈاکوئو ں نے عوام کوپریشان کررکھا ہے، ڈاکوئوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکے۔صدرمملکت آصف علی زرداری کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ کچے میں بھرپور آپریشن ناگزیرہے، پولیس اوررینجرزنے عوام کوتحفظ فراہم کرنے کی ہرممکن کوشش کی۔بریفنگ میں کہا گیا کہ ڈاکوئو ں کی سپلائی لائن مکمل طورپربند کرنے کے اقدامات کیے جائیں، گھوٹکی اورکرم پورکے درمیان برج کی تعمیربھی ضروری ہے۔صدر کو بریفنگ دی گئی کہ مکمل امن کے قیام سے حالات مزید بہترہوسکتے ہیں، آپریشن سے پہلے مختلف قبائل کے درمیان تنازعات کاخاتمہ بھی ضروری ہے۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ قبائل کے سرداراوروڈیرے بھی امن کے لیے آگے بڑھیں، سندھ سمیت پنجاب کے کچے کو بھی کارڈن آف کرنا پڑے گا۔قبل ازیں صدر آصف علی زرداری سکھر کے دورے پر پہنچے۔سکھر آمد پر صدر کا وزیراعلی مراد علی شاہ اور صوبائی وزرا کی جانب سے ایئرپورٹ پر استقبال کیا گیا جبکہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی صدر کے ہمراہ تھے ۔ اس موقع پر پر ائیر پورٹ تا کمشنر دفتر کی شاہراہ و دیگر اطراف کی سڑکیں عام ٹریفک کیلئے مکمل طور پر بند کر دی گئی جبکہ سڑک و شاہرائوں پر قائم دکانیں بھی بند کرائی گئی تھی جس کے باعث جہاں مسافر گاڑیوں کو تکلیف اٹھانا پڑی وہی مقامی دکانداروں و رہائشی افراد کو بھی پریشانی کا سامنا رہا ۔
امن و امان میں خلل برداشت نہیں کرینگے، آصف زرداری



