بیجنگ(نیشنل ٹائمز)چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے کہا ہے کہ چین اپنے داخلی معاملات میں کھلم کھلا مداخلت اور بین الاقوامی قوانین اور بین الاقوامی تعلقات کو چلانے والے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی پر مبنی ایسے اقدامات کی سخت مذمت کرتا ہے اور سختی سے مخالفت کرتا ہے. ان خیالات کا اظہار انہوں نے معمول کی بریفنگ کے دوران امریکہ کی جانب سے ہانگ کانگ کے ایک عدالتی فیصلے کے بعد مرکزی حکومت اور ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے کے عہدیداروں پر نئی ویزا پابندیاں عائد کرنے کے اعلان سے متعلق ایک سوال کا جواب میں کیا ۔
چینی نشریاتی ادارے کے مطابق ترجمان نے کہا کہ امریکہ نے دانستہ ایک ملک، دو نظام پر حملہ کیا ہانگ کانگ کے قومی سلامتی کے قانون کو بدنام کیا، ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے کی عدلیہ میں مداخلت کی اور اندھا دھند ویزا پابندیاں عائد کیں. ترجمان نے کہا کہ اس کیس میں شامل چین مخالف اور عدم استحکام پیدا کرنے والے عناصر نے ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے کے آئین کو شدید چیلنج کیا اور قومی سلامتی کے لیے شدید خطرات پیدا کیے جبکہ اس کیس کے دیگر 31 مدعا علیہان پہلے ہی اعتراف جرم کر چکے ہیں۔
ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ ہانگ کانگ کے معاملات خالصتاچین کے داخلی معاملات ہیں اور کسی بھی بیرونی طاقت کو مداخلت کی اجازت نہیں ہے۔
چین امریکی اقدام پر حوابی ردعمل ظاہر کرے گا. چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے فلپائن کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رین آئی ریف کی صورتحال کے حوالے سے چین نے کئی مواقع پر اپنا موقف واضح کیا ہے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ رین آئی ریف کے معاملے پر فلپائن مسلسل خلاف ورزی جاری رکھے ہوئے ہے، اشتعال انگیزی اور تنازعات میں تیزی لا رہا ہے ترجمان نے فلپائن پر زور دیا کہ وہ اپنے وعدے کی پاسداری کرے اور اشتعال انگیز کارروائیوں سے باز رہے۔



