جینوا(نیشنل ٹائمز) غزہ میں انسانی بنیادوں پر خوراک اور امداد کی ترسیل میں غیر معمولی کمی ہو گئی ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اس کمی کی وجہ رفح پر اسرائیلی حملہ اور رفح راہداری کی بندش بنی ہے۔ جس کے نتیجے میں امدادی سامان کی فراہمی اور خوراک کی ترسیل رواں ماہ کے دوران کم از کم دو تہائی تک کم ہو گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق اس سے پہلے بھی غزہ کی پٹی میں انسانی بنیادوں پر فراہم کیا جانے والا سامان اور خوراک بے گھر فلسطینیوں کی ضروریات کے لیے انتہائی ناکافی تھا۔ تاہم اب اس میں مزید کمی ہو گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ7 مئی کے بعد سے امدادی سامان کی مقدار اور خوراک کی ترسیل سکڑ کر رہ گئی ہے۔ سات مئی سے اب اوسطا 58امدادی ٹرک غزہ کی طرف روانہ ہو پا رہے ہیں۔ جبکہ یکم اپریل سے چھ مئی تک یہ اوسط 176امدادی ٹرک روزانہ کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق یہ کمی 67فیصد بنتی ہے۔اقوام متحدہ واضح کر چکا ہے کہ غزہ میں 500ٹرکوں پر آنے والا امدادی سامان یومیہ بنیادوں پر ضروری ہے ۔ جس سے 23لاکھ سے زائد افراد کی ضروریات پوری ہو سکیں۔ لیکن اسرائیلی فوج کی موجودگی میں ایسا ایک دن بھی ممکن نہیں ہو سکا ہے۔واحد راہداری جو سب سے زیادہ بروئے کار رہی ہے رفح پر حملے کے بعد سے وہ بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اسرائیلی فوج نے رفح پر اپنا زمینی حملہ شروع کرنے کے بعد رفح راہداری کو بھی اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا۔کرم شالوم راہداری اسرائیل نے پہلے ہی بند کر رکھی تھی۔ یوں اب کوئی بھی راہداری اسرائیلی کنٹرول سے باہر نہیں رہی ہے اور اسرائیلی فوج ایک حکمت عملی کے تحت خوراک کی ترسیل کو روکنے کی کوشش میں رہتی ہے۔
راہداریوں کی بندش سے غزہ میں خوراک فراہمی دو تہائی کمی واقع ہو گئی، اقوامِ متحدہ



