بشکیک (نیشنل ٹائمز) کرغزستان کے نائب وزیراعظم نے اعتراف کیا ہے کہ غیر ملکی طلبا کو سکیورٹی فراہم کرنا کرغز حکومت کی ذمہ داری تھی جس میں بری طرح ناکام ہوئے، حملہ آوروں کی شناخت کرلی گئی ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق کرغزستان میں پاکستانی سفیر حسن ضیغم نے بشکیک میں کرغز نائب وزیراعظم کے ہمراہ غیرملکی طلبا کے ہاسٹل کا دورہ کیا جس پر حملہ کیا گیا تھا ۔ وہ طلبا کے پاس گئے اور ان سے ملاقات کی ، کرغز لوکل کمیونٹی بھی وہاں موجود تھی۔ بشکیک میں پاکستانی طلبا سے گفتگو کرتے ہوئے کرغزستان کے نائب وزیراعظم نے کہا کہیہاں آپ کو یہ بتانے آئے ہیں کہ پریشان نہ ہوں، حالات کو نارمل ہونے دیں، جو ہوا ہم اس پر شرمندہ ہیں، یہاں پر ہمارے مہمانوں پر حملہ کیا گیا، پاکستانی سفیر نے یہاں پر ہر فورم پر آواز اٹھائی ہے۔انہوں نے کہا غیر ملکی طلبا کو سکیورٹی فراہم کرنا کرغز حکومت کی ذمہ داری تھی جس میں بری طرح ناکام ہوئے۔ کرغزستان کے نائب وزیراعظم نے بتایا کہ حملہ آوروں کی شناخت کرلی گئی ہے۔ پاکستانی طلبا سے گفتگو میں پاکستانی سفیر نے بتایا کہ ایک پرواز پاکستانی طلبا و طالبات کو مفت پاکستان لے کر جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرین چینل کھولنے کے لیے بھی کرغز حکام سے درخواست کی ہے۔پروپیگنڈہ سے متعلق سوال پر سفیر پاکستان نے کہا کہ یہ بات صرف زیادتی، قتل اور اغواکی افواہوں سے متعلق کی گئی ہے۔
کرغزستان کے نائب وزیر اعظم اور پاکستانی سفیر کا متاثرہ ہوسٹل کا دورہ، طلبا سے ملاقات



