نیو یارک(نیشنل ٹائمز) فلسطین کی حمایت میں امریکی یونیورسٹیوں سے شروع ہونے والے مظاہرے دنیا بھر کی یونیورسٹیز تک پھیل گئے،7اکتوبر سے غزہ پر جاری حملوں کے خلاف نیو یارک کی سٹی یونیورسٹی کے طلبا غزہ پر اسرائیل کے حملوں پر ردعمل ظاہر کرنے کے لیے یونیورسٹی کے گریجویٹ سینٹر میں داخل ہوگئے۔طلبا نے لائبریری کی دیوار پر “ال اقصی یونیورسٹی لائبریری” کا بینر لٹکا دیا۔ احتجاجی دھرنا دینے والے گروپ نے “آزاد فلسطین” کے نعرے لگائے۔ آس پاس کے لوگوں نے بھی طلبا کا ساتھ دیا۔ہارورڈ یونیورسٹی کے طلبا بھی غزہ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔ یونیورسٹی میں یکجہتی کیمپ لگانے والے گروپ نے اپنا مقصد حاصل کرتے ہوئے اسکول انتظامیہ کے ساتھ معاہدہ کرلیا ہے ۔طلبا نے یونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھ اسرائیل میں اپنی سرمایہ کاری واپس لینے پر بات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔اس کے علاوہ فلسطین اسٹڈیز سینٹر کے قیام کے لیے اسکول انتظامیہ کے ساتھ اجلاس بھی منعقد کیا جائے گا۔برطانیہ میں لندن سکول آف اکنامکس کے طلبا بھی اسرائیل کے ساتھ تعاون ختم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ تاہم انتظامیہ کی جانب سے تاحال طلبہ کو کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ اس کے بعد طلبا نے کیمپس میں فلسطین کے لیے ایک امدادی کیمپ قائم کیا۔آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن میں کالج ڈبلن یونیورسٹی میں فلسطینی طلبا کی حمایت کرنے والے بھی مظاہرے منعقد کر رہے ہیں جس میں یونیورسٹی انتظامیہ سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔طلبا نے کیمپس میں لگائے گئے خیموں پر’’ صہیونی حکمرانوں بربریت ختم کرو ‘‘ اور’’فلسطین کا استحصال بند کرو ‘‘کے جملے لکھے گئے ہیں ۔اٹلی کے دارالحکومت روم کی سیپینزا یونیورسٹی کے طلبا نے بھی غزہ میں اسرائیل کے حملوں پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ریکٹریٹ کی عمارت کے قریب خیمے لگانے والے طلبا نے مارچ کا اہتمام کیا اور یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اپنا تعاون ختم کرے۔جرمنی میں فلسطینی حامیوں کے ایک گروپ نے برلن ٹیکنیکل یونیورسٹی کے کیمپس میں فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کا مظاہرہ بھی کیا۔مظاہرے میں ہم سب فلسطینی ہیں اور فلسطین کی آزادی جیسے نعرے لگائے گئے۔سویڈن کی سٹاک ہوم یونیورسٹی کے طلبا بھی کیمپس میں احتجاج کر رہے ہیں اور اسرائیلی یونیورسٹیوں اور اداروں سے تمام تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔طلبا نے دارالحکومت سٹاک ہوم کے ضلع فریسکاتیواگن میں کیمپس میں 20خیمے لگائے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا “نسل کشی ختم کرو” اور “اسرائیل کا بائیکاٹ کرو”۔ سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ نے بھی اس کارروائی کی حمایت کی۔فلسطین کی حمایت میں 7مئی کو سوئٹزرلینڈ کی یونیورسٹی آف زیورخ میں شروع ہونے والا اور پولیس کی مداخلت کے بعد ختم ہونے والا احتجاج دوبارہ شروع ہوگیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم فلسطین کے ساتھ پرامن یکجہتی کی بین الاقوامی تحریک میں شامل ہیں۔ڈنمارک کی کوپن ہیگن یونیورسٹی کے طلبا، جو 2ہفتوں سے غزہ کے حق میں مظاہرے جاری رکھے ہوئے ہیں کا خیال ہے کہ وہ یونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھ اسرائیل سے متعلقہ کمپنیوں کے ساتھ تعاون منقطع کرنے کا معاہدہ کر لیں گے۔لیبیا میں طرابلس یونیورسٹی کے طلبا نے بھی غزہ کی حمایت میں مظاہرے کا اہتمام کیا۔
دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں فلسطین کے حق میں مظاہرے جاری



