کراچی (نیشنل ٹائمز) سندھ ہائی کورٹ نے فیصل واڈا کے وکیل کی حکم امتناع کی استدعا پھرمسترد کرتے ہوئے ان کے وکیل کو تیاری کی ہدایت کردی، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پرویز مشرف کیس کی مثال موجود ہے، یہ عدالتی حدود کا معاملہ اور ٹیکنیکل مسئلہ ہے،دو ہائی کورٹ الگ الگ نہیں جاسکتیں، اب تو چھٹیاں ہو رہی ہیں، کیس اگست میں سنیں گیاورفی الحال حکم امتناعی جاری نہیں کرسکتے۔جمعہ کو سندھ ہائی کورٹ میں فیصل واڈا کی الیکشن کمیشن کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیا یہ درخواست ہم سن بھی سکتے ہیں یا نہیں۔ الیکشن کمیشن کے وکیل نیعدالت کوبتایا کہ عدالت نے الیکشن کمیشن کوحقائق کا جائزہ لے کر فیصلے کاحکم دیا۔ درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصل واوڈا کے وکیل کومطئمن کرنا ہوگا۔ عدالت نے فیصل واڈا کے وکیل سے مکالمہ کیا کہ آپ کو اگر اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے سے اختلاف ہے تو اپیل دائر کرتے،ہم اسلام آباد ہائی کورٹ فیصلے کو کیسے کالعدم قرار دے سکتے ہیں،یہ درخواست عدالت کا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے،آپ نظر ثانی درخواست وہیں دائر کرتے،یہ عدالت اسلام آباد ہائی کورٹ فیصلے کو بائی پاس نہیں کرسکتی اوراسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ بہت واضح ہے،آپ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ کیسے آسکتے ہیں۔ بیرسٹر معیزاحمد نے عدالت کو بتایا کہ حلف نامہ چونکہ کراچی میں جمع کیا اس لیے یہاں کیس چلانا چاہتے ہیں۔عدالت نے کہا کہ پرویز مشرف کیس کی مثال موجود ہے، یہ عدالتی حدود کا معاملہ اور ٹیکنیکل مسئلہ ہے،دو ہائی کورٹ الگ الگ نہیں جاسکتیں۔ عدالت نے ریمارکس دئیے کہ اب تو چھٹیاں ہو رہی ہیں، کیس اگست میں سنیں گے اورفی الحال حکم امتناعی جاری نہیں کرسکتے۔ عدالت نے فیصل واڈا کیس کی سماعت 14 جون تک ملتوی کردی۔
سندھ ہائی کورٹ،فیصل واڈا کے وکیل کی حکم امتناع کی استدعا پھر مسترد،مزید تیاری کی ہدایت



