حقیقت خرافات میں کھو گئی

تحریر: عابد حسین قریشی

آج کا انسان حقیقت سے دور، حقیقی خوشیوں سے دور، تن آسان، تنگ دامان، ہر چیز کو فیس بک اور انسٹاگرام پر تلاش میں سرگرداں ،جب سوشل میڈیا کی دنیا کا یہ شاہسوار اپنے گر دو پیش سے لاتعلق ہو کر حقیقی خوشیوں سے کوسوں دور جا جچا۔ جو اسکے ساتھ بیٹھا ہے، وہ اسکا باپ ہے، دوست ہے، انیس و غمگسار بیوی ہے،دل و جان سے عزیز بچے ہیں، ان سے ہمکلام ہونے کی بجائے سوشل میڈیا پر chat میں مگن،اس حقیقی خوشی سے محروم، جو اسکی قربت میں بیٹھا شخص اسے پہنچا سکتا تھا۔ سوشل میڈیا کا استعمال ضرور ہونا چاہیے کہ یہ اب اس جدید دور میں ہماری ضرورت بن چکا ہے، مگر اس میں اتنا مگن ہونا کہ حقیقی زندگی سے ہی دور ہو جاؤ یہ سراسر خسارے کا سودا ہے ۔کسی بزرگ کے ہاتھوں کا شفقت بھرا لمس، اپنے کسی بچے یا عزیز کی قربت کا نشہ،کسی ہمدم دیرینہ سے بغل گیر ہونے کا سحر ، موبائل کی رنگا رنگ مصروفیات سے کہیں بہتر ، دلکش اور جاں فزا ہے۔ چلیں انسان کی فکر و نظر میں کچھ کوتاہی کا اندیشہ ممکن تھا، مگر وہ سوچ تو حقیقی تھی، وہ خیالات و نظریات محض مفروضوں پر تو نہ چلتے تھے، ان میں عمل اور کارکردگی کی رمک اور چاشنی تو تھی ، جو اب مصنوعی ذہانت Artificial intelligence نے چھین لی۔ اب تو ذہانت اور فطانت بھی اصلی نہ رہیں۔ اب تو سوچ بھی مصنوعی اور اس پر عمل پیرا انسان بھی مصنوعی ، نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں، نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں۔ ہم نے ترقی کے نام پر بہت سی قیمتی اور انمول روایات کا قتل کیا۔ بہت سے قیمتی رشتے کھو دیے ، ویسے علامہ اقبال نے تو بہت پہلے کہا تھا ، کہ احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات، ہم اس سوشل میڈیا کے نشہ میں اس بری طرح گرفتار ہیں، کہ ہمارے سامنے کوئی ڈوب رہا ہو، ہم اسے بچانے کی بجائے پہلے اسکی ویڈیو بناتے ہیں۔ کسی گاڑی کا حادثہ ہو، لوگ زخمیوں کو بچانے کی کوشش کرنے کی بجائے اپنے اپنے موبائل نکال کر ویڈیوز بنا کر سب سے پہلے کریڈٹ لینے کے چکر میں سوشل میڈیا پر ڈال رہے ہوتے ہیں۔ یہ کونسا کلچر ہے کہ پتنگ بازی کے ناروا جنون میں کٹی گردن کو بھی سوشل میڈیا پر وائرل کیا جاتا ہے۔ فوت شدہ بندہ کی تصویریں اور نومولود کی گیلی گیلی فوٹو شیئر کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ ہم نے اپنے ہاتھوں سے وہ سب کچھ ختم کر دیا ،جو کبھی ہمارے لیے باعث فخر و انبساط ہوا کرتا تھا۔ہماری بڑی خوبصورت اخلاقی اور معاشرتی روایات ہوا کرتی تھیں ۔ اب تو ہماری خوشیاں بھی مصنوعی اور ہمارے غم بھی غیر فطری۔ ہماری عبادات بھی روح سے خالی اور ہمارے معاملات بھی خالصتاً مادیت کی لپیٹ میں۔ ہماری سیاست تضادات کا شکار اور باہمی سر پھٹول میں مگن، ہماری اخلاقیات کا بھرکس سوشل میڈیا پر استعمال ہونے والی زبان سے مترشح۔ کچھ تو ہو، جو باعث وجہ اطمینان ہو، کچھ تو آسودگی کا سبب ہو۔ کبھی موسیقی سے دل بہل جایا کرتے تھے وہ بھی اب ٹک ٹاکرز کے ہاتھوں میں رسوا ہو رہی ہے۔رہی سہی کسر چاہت علی خاں کے سروں نے نکال دی ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ اسے موسیقی کہیں یا موسیقی کا نوحہ۔موسیقی کے ساتھ نو آموز گلو کاروں کی چھیڑ خوانی تو سنی تھی مگر کلاسیکل موسیقی کے ساتھ سوشل میڈیا پر یہ چاہت والی واردات بھی ہو جائے گی اسکا تصور بھی نہیں تھا۔ موجودہ دور کی ایک خوبی یا خامی یہ بھی ہے کہ اس میں ہر کوئی کسی نہ چیز کا ایکسپرٹ ہونے کا دعویٰ دار ہے۔ اپنے آپ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا ایک معمول نظر آتا ہے۔ لوگ زیادہ حساس ہو گئے ہیں۔ جلد ناراض اور دیر سے راضی ہوتے ہیں۔ اب تو دوستوں میں وہ قہقہے بھی ناپید ہوگئے یا ان کی گھن گرج ماند پڑ گئی ۔لوگ شاید ہنسنا بھی بھول گئے ہیں ، جزبوں میں وہ حرارت نہ رہی، تراوت نہ رہی، ملنساری نہ رہی، ملنے کی بے قراری نہ رہی، تعلقات میں گرمجوشی نہ رہی،دلوں میں وسعت نہ رہی, مسکراہٹوں میں اپنائیت نہ رہی، رویوں میں عاجزی ختم ہوگئی ، قریبی دوستوں اور عزیزوں کی وفات پر بھی انا للہ لکھ کر واٹس اپ گروپ میں ڈال کر فریضہ سے سبکدوش ہو جاتے ہیں۔ کسی کے پاس وقت نہیں اور کرنے کو کام بھی نہیں۔ سب کچھ تو سوشل میڈیا کی بھینٹ چڑھ گیا۔ سوشل میڈیا نے ہماری سوشل لائف کے تضادات کو ننگا کر دیا ہے۔ سچے جزبے ماند پڑ گئے ،معاشرہ کا مصنوعی پن غالب آ گیا۔ اور واقعی حقیقت خرافات میں کھو گئی ۔



  تازہ ترین   
پہلا سرکاری آٹزم سکول قائم، خصوصی بچوں کیلئے عالمی معیار کی سہولتیں میسر ہوں گی: مریم نواز
سہیل آفریدی جس دن پرامن احتجاج پر آئیں گے تب عمران سے ملاقات ہو گی: رانا ثنا اللہ
ترلائی امام بارگاہ کے واقعے سے پوری قوم سوگوار ہے: وزیراعظم
ڈی آئی خان : دہشت گردوں سے مقابلے میں ایس ایچ او سمیت 5 اہلکار شہید
300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر