اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) حکومت پاکستان، مقامی قرض دہندہ بینکوں اور ڈی ایف آئیز کے درمیان نجکاری کے لئے پی آئی اے کی ری سٹرکچرنگ کے حصہ کے طور پر پی آئی اے کمپنی لمیٹڈ کے تجارتی قرضوں سے متعلق مذاکرات کامیابی سے مکمل ہوگئے۔
ان مذاکرات کی کامیابی کے بعد ایس ای سی پی کے ساتھ پی آئی اے کمپنی لمیٹڈ کی قانونی علیحدگی کیلئے سکیم آف ارینجمنٹ فائل کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
وفاقی کابینہ نے 6 فروری 2024ءکو پی آئی اے سی ایل کے قانونی علیحدگی کے منصوبے کی منظوری دی تھی
پی آئی اے کی نجکاری وفاقی حکومت کے ترجیحی ایجنڈے میں شامل ہے
مذکورہ پالا پیشرفت نیشنل کیریئر کو نجکاری کے لئے تیار کرنے کیلئے کی جانے والی سب سے پیچیدہ مشقوں میں سے ایک ہے
یہ انتظام نجی شعبے کے قومی ادارے میں سرمایہ کاری کے لئے ایک قابل عمل کاروباری کیس بنانے میں مدد دے گا
ملکی بینکوں اور مالیاتی اداروں نے حکومت کی نجکاری کی کوششوں کے لئے پختہ عہد کا مظاہرہ کرتے ہوئے پی آئی اے سی ایل کے تجارتی ملکی قرض کے لئے انتظام کو حتمی شکل دینے میں اپنا بھرپور تعاون فراہم کیا ہے۔
اس انتظام کے تحت پی آئی اے سی ایل کا تجارتی ملکی قرض پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ میں منتقل کر دیا جائے گا
اس قرض کو وفاقی حکومت نے پی آئی اے سی ایل کی قانونی ری سٹرکچرنگ کے حصے کے طور پر قائم کیا ہے۔
پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کے معاملات کو دیانتداری سے چلانے کے لئے وفاقی حکومت نے رواں ہفتے سابق گورنر اسٹیٹ بینک سمیت بینکنگ اور دیگر شعبوں کے ماہرین پر مشتمل سات رکنی آزاد بورڈ کا اعلان کیا
نئے بورڈ نے اسلام آباد میں منعقدہ اپنے افتتاحی اجلاس میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی نجکاری کے لئے پی آئی اے سی ایل اور پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی بورڈ سے سکیم آف ارینجمنٹ کے مسودے کی منظوری حاصل کی
جس کے بعد یہ مسودہ قرض کی ری سٹرکچرنگ کے لئے سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے پاس داخل کر دیا گیا ہے۔
اس اہم سنگ میل کے بعد پی آئی اے کی نجکاری کے لئے ممکنہ سرمایہ کاروں سے اظہار دلچسپی آنے والے دنوں میں طلب کئے جانے کا امکان ہے۔



