پاکستان پیپلزپارٹی عوام دشمن بجٹ کی پارلیمان سے منظوری کی مخالفت کرے گی

اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی عوام دشمن بجٹ کی پارلیمان سے منظوری کی مخالفت کرے گی۔ حکومت کا پارلیمان کو بالائے طاق رکھ کر آرڈیننس کے ذریعے ریاستی امور چلانا افسوسناک طرز عمل ہے۔ منگل کے روز چیئرمین پیپلزپارٹی نے پارلیمنٹ میں پاکستان پیپلزپارٹی کے اراکین سینیٹ سے ملاقات کی۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے پارٹی سینیٹرز سے حکومتی بجٹ کے متعلق اپوزیشن کے لائحہ عمل کے متعلق گفتگو کی اور موجودہ حکومتی قانون سازی کے تناظر میں حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ سینیٹروں سے میٹنگ کے دوران چیئرمین پیپلزپارٹی کو پاکستان میڈیا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے آرڈیننس کے متعلق بریفنگ دی گئی۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے پارٹی کے اراکین سینیٹ کو ہدایت کی کہ وہ اظہار رائے کو کچلنے والی ہر قانونی سازی کی مخالفت کریں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی کے اداروں نجکاری کے ہر عمل کی بھی مخالفت کی جائے۔ دریں اثناءچیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آج انتہائی مصروف دن گزارا ۔ وہ صحافی اسد طور کی عیادت کے لئے ان کی رہائشگاہ پر ان سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ چیئرمین پی پی پی کے ہمراہ رضا ربانی، فرحت اللہ بابر، فیصل کریم کنڈی، سید ناصر شاہ، مرتضی وہاب اور نذیر ڈھوکی بھی ان کے ہمرا ہ تھے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے اس موقع پر اسد طور کی رہائشگاہ پر صحافیوں سے بھی گفتگو کرتے ہوئے صحافیوں پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو اغوا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اس قسم کے واقعات جمہوری اور ترقی یافتہ ممالک میں نہیں ہوتے۔ جس نے بھی اسد طور پر بزدلانہ حملہ کیا یہ غیرت اور بہادری کا پیغام نہیں دیتا۔ یہ آپ کا بزدل ہونے کا پیغام ہے، یہ آپ کی طاقت کا پیغام ہے، یہ آپ کی کمزوری کا پیغام ہے، کہ آپ اسد طور کا ایک وی لاگ بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ کون مانے گا کہ پاکستان میں صحافت آزاد ہے۔ یہاں اسلام آباد میں جتنے بھی واقعات ہوئے ہیں ان کو پارلیمان کی انسانی حقوق کی کمیٹی میں لایا جائے۔ پریس کے ادارے پی ایف یو جے سے درخواست کریں گے کہ وہ ہمارے ساتھ کام کرے تاکہ اس مسئلے کو پارلیمان میں اٹھایا جائے اور اس کا لائحہ عمل انشااللہ تعالیٰ بنائیں گے۔ اور یہ معاملہ قوم کے سامنے لایا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسد طور سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ وہ پی ایف یو جے کے ساتھ پارلیمنٹ میں آکر اس مسئلے کوپارلیمنٹ میں انسانی حقوق کے سامنے لیا جائے۔ جو بھی ایسے واقعات میں ملوث ہیں ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنا پڑے گی۔جب تک ان کا احتساب نہیں ہوگا تب تک یہ کوئی نہیں مانے گا کہ پاکستان میں صحافت آزاد ہے۔ ہمارے وزیراعظم کو شرمندہ ہونا چاہیے کہ وہ دنیا کے سامنے کہتا ہے کہ ہمارے ملک میں صحافت آزاد ہے۔ باقی صوبوں میں بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ اگر آپ اسلام آباد جو دارلخلافہ ہے جہاں دنیا بھر کے سفارتخانے ہیں اپنے صحافی کو تحفظ نہیں دے سکتے یہ سب پوری دنیا میں دیکھا جا رہا ہے کہ ہمارا وزیراعظم جھوٹ بول رہا ہے۔ہمارے وزرائءباہر جا کر جھوٹ بولتے ہیں کہ پاکستان میں صحافت آزاد ہے لیکن جن پر حملے ہو رہے وہ تو صحافی ہی نہیں ہیں۔ جان کا تحفظ ہر پاکستانی کا حق ہے اگر آج پاکستان کے عوام، پاکستان کے سیاستدان، پاکستان کی عدالتیں، پاکستان کی سول سوسائٹی، پاکستان کے وکلاء صحافیوں کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے ، ان کے حق میں آواز اٹھانے کے لئے تو کل ہم پر ظلم پر ہوتا ہے اور آپ پر ظلم ہوتا ہے تو کوئی آواز اٹھنے کے لئے کھڑا نہیں ہوگا۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جو بھی اس طرح کے واقعات کے ذمے دار ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ سندھ نے آزادی صحافت کا بل پاس کیا ہے ہم امید رکھتے ہیں کہ اس طرح کا بل دیگر صوبوں میں بھی پاس ہونا چاہیے۔ پی ڈی ایم کے متعلق ایک سوال کے جواب میں چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ یہ بڑی عجیب صورتحال بن رہی ہے کہ ہم نے اور ہمارے عہدیداروں نے اس اتحاد سے استعفے پیش کئے اور نہ ہم نے کوئی خواہش ظاہر کی ہے کہ ہم اس میں واپس جانا چاہتے ہیں ، نہ ہی ہم کسی بیٹھک میں بیٹھنا چاہتے ہیں تو پھر کیوں یہ ہم سے بار بار پوچھا جاتا ہے کہ ہم کب واپس جائیں گے اور کیا ہوگا۔ میں سجھتا ہوں دو اہم پوائنٹس ہے ایک پی ڈی ایم بنتے ہوئے ہمارا ایک ایگریمنٹ تھا ایک معاہدہ تھا اس معاہدے میں ایک ایکشن پلان تھا اس ایکشن پلان میں احتجاج بھی تھا، لانگ مارچ بھی ، عدم اعتماد بھی تھا اگر یہ سارے ناکام ہوتے ہیں تو استعفے بھی تھے۔ اگر ہم نہ لانگ مارچ کریں گے ، نہ پارلیمان میں ہم عدم اعتماد لائیں گے ، نہ ہم بزدار صاحب کو تنگ کریں گے اور نہ ہم عمران خان کو تنگ کریں گے تو آپس میں گپ شب کرنے کے لئے تو پی ڈی ایم نہیں بنایا تھا۔ ہم نے یہ کہا تھا کہ یہ جو ساری تنظیم نظر آرہی ہیں جو یہ شاہد خاقان عباسی کا عہدہ نظر آرہا ہے یہ سب عارضی تھے، تاحیات نہیں تھے۔ ہمیں مسلسل روٹیشن کی بنیاد جیسے ایم آرڈی کے دور میں روٹیشن کی بنیاد پرصلاح مشورے کی بنیاد پر فیصلے لئے جاتے تھے ویسے ہی فعال مایوس کلیئر اتحاد بنا سکتے ہیں۔ تو میں سمجھتا ہوں کہ جب کہ ان کا کنفیوزن چلے گا، جب تک ان کو پتہ نہیں ہوگا کرنا کیا ہے حملہ کب کرنا ہے ، کہاں کرنا ہے تو تب تک وہ آپس میں بیٹھتے رہیں بات کرتے رہیں، جب وہ تیار ہوئے کہ جو ایکشن پلان جس کی وجہ سے ہم نے بنیاد بنائی تھی پی ڈی ایم کی جس کے لئے میں نے پہلے حزب اختلاف کے پیچھے ان ساری جماعت کے پیجھے مہینوں پھرتا رہا کہ ملو اپوزیشن کو اکٹھا کرو جب تک ہم پوائنٹس پر واپس نہیں آتے تب تک پاکستان پیپلزپارٹی کلیر ہے ہمارا نظریہ کلکئر ہے ہمارا منشور کلیئر ہے ہماری حکمت عملی کلئر ہے ہم اپنے فیصلے پر چلتے رہیں گے۔ دریں اثناءچیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں زرداری ہاؤس میں پارٹی کا ایک مشاورتی اجلاس منعقد ہوا ۔ اجلاس میں شازیہ مری، فیصل کریم کنڈی، نوید قمر، پلوشہ خان، ناصر شاہ، مرتضی وہاب شریک تھے۔ اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کے معاملے کو پہلے بھی سید خورشید احمد شاہ پیپلزپارٹی کی طرف سے دیکھ رہے تھے اب خورشید شاہ کی رہائی کے بعد انتخابی اصلاحات کے حوالے سے وہی پارٹی معاملات دیکھیں گے۔



  تازہ ترین   
پاکستان نے متحدہ عرب امارات کا قرض واپس کرنے کا فیصلہ کرلیا
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی سطح پر بڑھ رہی ہیں اس میں حکومت کا قصور نہیں: رانا ثنا
پنجاب کے تمام شہروں کے اندر چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ فری کرنے کا اعلان
35 واں روز: پاسداران انقلاب نے امریکا کا ایک اور جدید ترین ایف 35 طیارہ مار گرایا
پٹرول و ڈیزل پر سبسڈی ختم، حکومت نے پٹرولیم لیوی 55 روپے فی لٹر بڑھا دی
حکومت نے پٹرول 137 روپے 23 پیسے، ڈیزل 184 روپے 49 پیسے فی لٹر مہنگا کردیا
آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے 40 سے زائد ممالک متحد ہو چکے، برطانوی سیکرٹری خارجہ
ایران کا بڑا پُل زمین بوس ہوگیا، ابھی اور بھی بہت کچھ ہونے والا ہے: ٹرمپ





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر