لاہور(نیشنل ٹائمز) لاہور ہائیکورٹ ماحولیاتی آلودگی کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔دوران سماعت جسٹس شاہد کریم نے پنجاب حکومت کو ہر تعمیراتی منصوبہ کے دوران درخت کاٹنے سے روکتے ہوئے حکم دیا کہ درخت کاٹنے کی بجائے دوسری جگہ منتقل کیے جائیں ۔ چئیرمین ماحولیاتی کمیشن جسٹس ریٹائرڈ علی اکبر قریشی کی جانب سے رپورٹ عدالت میں جمع کروا دی گئی ۔چیرمین ماحولیاتی کمیشن جسٹس ر علی اکبر قریشی کی جانب سے سید کمال حیدر ایڈووکیٹ نے 4 صفحات پر مشتمل رپورٹ عدالت میں جمع کروائی۔کمیشن نے شیخوپورہ میں 11 بھٹوں کی نشاندہی کی جو پرانی ٹیکنالوجی پر چل رہے تھے۔کمیشن نے 9 بھٹوں کو سیل کردیا جبکہ مزید کاروائیاں جاری ہیں۔رپورٹ تھی کہ ایل ڈی اے کی 122 اسکیموں میں سے 73 اسکیمیں سیوریج ٹرنک چارجز ادا نہیں کیے۔جوڈیشل کمیشن کی ہدایات پر 5 صنعتی یونٹس کے نمونے لیے گیے ہیں۔رپورٹس میں دیکھا جائے گا کہ صنعتی یونٹس میں گندے پانی کو صاف کرنے والے یونٹس کی ضرورت ہے کہ نہیں۔ جسٹس شاہد کریم نے جوڈیشل ایکٹو ازم پینل کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے اس حوالے سے رپورٹ بھی طلب کرلی۔عدالت نے جی پی او کے سامنے سڑک کی ٹوٹ پھوٹ پر جواب طلب کرلیا ۔عدالت نے سڑک تعمیر کرنے اور پودے لگانے کا حکم دے دیا۔ سڑک پر سے کوڑا کرکٹ صاف کرکے رپورٹ پیش کی جائے۔عدالت نے موٹروے پر دھوئیں کی وجہ سے گاڑیاں ٹکرانے کے واقعہ کی ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ سے رپورٹ طلب کرلی ہے ۔عدالت نے بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی پالیسی کے. حوالے سے رپورٹ طلب کرلی ۔پالیسی پر عمل درآمد کس حد تک عمل ہوا؟عدالت کا استفسار ۔واٹر کمیشن کی جانب سے اینٹوں کے بھٹہ کے حوالے سے رپورٹ جمع کروائی گئی۔عدالت نے سماعت جمعرات تک ملتوی کردی۔
لاہور ہائیکورٹ میں ماحولیاتی آلودگی کے خلاف کیس کی سماعت،عدالت نے پنجاب حکومت کو ہر تعمیراتی منصوبہ کے دوران درخت کاٹنے سے روک دیا



