اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) مرکزی اطلاعات سیکریٹری پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز و رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے کہا کہ آج ایک بار پھر اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے نیب ترمیمی آرڈیننس میں کورم پورا نہ ہونے کے باوجود توسیع کی قرارداد منظور کرکے آئین کی خلاف ورزی کی ہے اس طرح کی توسیع غیر آئینی اور غیر قانونی عمل ہے جس کی ہم پرزور مذمت کرتی ہے ۔ ان باتوں کا اظہار آج انہوں نے اپنے ایک جاری کردہ ویڈیو پیغام میں کیا ہے۔ شازیہ مری نے کہا کہ حزب اختلاف کا اعتراض تھا کہ کورونا وائرس کے دوران اجلاس بلائے جانے کے حوالے سے یہ طے پایا تھا کہ کوئی اہم قانون سازی نہیں کی جائے گی جب تک کہ اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں نہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج اپوزیشن کو اعتماد میں لیے بغیر نیب ترمیمی آرڈیننس میں توسیع کو ایجنڈا میں رکھا گیا اس ضمن میں پی پی پی رہنما نوید قمر نے اس پر اعتراض کیا اور بتایا کہ تین روز کے نوٹس کا بتایا گیا کہ وہ ہمیں دیا جائے گا مگر وہ بھی نہیں دیا گیا باوجود اسکے جب اس پر کوئی بھی خاطرخواہ رولنگ نہیں آ ئی تو اپوزیشن کے ایک رکن قومی اسمبلی نے کورم پورا نہ ہونے کی نشاندھی کی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس طریقے سے نیب ترمیمی آرڈیننس کی توسیع کی اجازت نہیں دے سکتے جب تک اس پر کوئی سحر حاصل بحث نہ ہو، شازیہ مری نے کہا کہ جب ایک رکن قومی اسمبلی نے کورم پورا نہ ہونے کی نشاندھی کی تو بھی اسپیکر قومی اسمبلی نے گنتی کے عمل کو شروع نہیں کروایا اور کاروائی کو جاری رکھا کیونکہ کہ وہ جانتے تھے کہ حکومت کے پاس وہ عددی اکثریت نہیں ہے جس سے یہ نیب ترمیمی آرڈیننس پاس کرایا جاسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہت افسوس کے ساتھ آج ایک بار پھر پاکستان کے آئین اور قومی اسمبلی کے رولز کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور نیب آرڈیننس میں جس طریقے سے توسیع دی گئی وہ غیر قانونی اور غیر آئینی قدم ہے اور حزب اختلاف اس عمل کی مذمت کرتی ہے ۔
پیپلزپارٹی کی خاتون رہنما شازیہ مری نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر پرآئین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر دی



