اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)وزیراعظم عمران خان نے عوام سے کورونا ایس او پیز پر عمل کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماسک کے استعمال سے کورونا کے پھیلائو میں 50 فیصد کمی آئی ہے، وزیر خزانہ کو ہدایت کی ہے کہ مہنگائی اور اشیاء کی قیمتوں میں کمی کریں، جب تک بھارت مقبوضہ کشمیر کی پرانی حیثیت بحال نہیں کرتا، مذاکرات نہیں ہوں گے، ہماری حکومت مافیا اور طاقتور طبقے کے خلاف لڑ رہی ہے، کسی صورت این آر او نہیں دوں گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو ٹیلی فون پر براہ راست نشریات کے دوران عوام کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ قوم کے تعاون سے کورونا کی تیسری لہر سے بہتر طور پر نبردآزما ہو رہے ہیں، بھارت، بنگلہ دیش، نیپال اور خطے کے دیگر مملک میں کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے، بھارت میں کورونا کی صورتحال افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہاکہ جتنی احتیاط کریں گے اتنی ہی جلدی اس وبا پر قابو پا لیں گے، عوام کورنا ایس او پیز پر عمل کریں لوگوں سے اپیل ہے کہ عید کی چھٹیوں میں ماسک کا استعمال ضرور کریں ماسک کے استعمال سے کورونا کے پھیلائو میں 50 فیصد کمی آئی ہے، لاک ڈائون کا بڑا نقصان غریب طبقہ ہوتا ہے، کوشش کر رہے ہیں پاکستان میں کورونا ویکسین تیار کی جائے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ ترقی یافتہ قوموں کی ترقی کا راز قانون کی بالادستی ہے، تحریک انصاف کی بنیاد میں مساوی انصاف پر رکھی گئی، ریاست مدینہ میں قانون کی بالادستی کا قانون کارفرما تھا۔ انہوں نے کہاکہ غریب ملکوں میں طاقتور حکمران کرپشن اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں، غریب ممالک سے سالانہ ایک ہزار ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہوتی ہے، حکمرانوں کی کرپشن سے ملک تباہ ہو جاتا ہے، ہماری حکومت مافیا اور طاقتور طبقے کے خلاف لڑ رہی ہے۔ عمران خان نے کہاکہ میں نے ہمیشہ کہا این آر او نہیں دوںگا، مجھے خوف خدا ہے اس لئے این آر او نہیں دوں گا، چھوٹے ڈاکو سے لوگ تنگ ہوتے ہیں لیکن ملک تباہ نہیں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ شہباز شریف پر 700 ارب روپے منی لانڈرنگ کا کیس ہے، شہباز شریف پر کرپشن کے کئی کیسز عدالت میں زیرسماعت ہیں، چینی مافیا کو کسی صورت این آر او نہیں دیا جا سکتا، ملک کی تمام شوگر ملز طاقتور طبقے کی ہیں، شوگر ملوں کو عوام کی جیبوں پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ جہانگیر ترین کہہ رہے ہیں کہ ان کے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا، میں نے آج تک کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کی، قبضہ مافیا کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں، ماضی میں وزراء سرکاری زمینوں پر قبضے کرتے رہے، اب تک 21 ہزار ایکڑ سرکاری زمین واگزار کرا لی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے اقدامات کئے ہیں، دفتر خارجہ نے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کیا، جب تک بھارت مقبوضہ کشمیر کی پرانی حیثیت بحال نہیں کرتا، مذاکرات نہیں ہوں گے۔ وزیراعظم نے کہاکہ بڑے شہروں میں پینے کے پانی کا مسئلہ پیدا ہو رہا ہے، شہروں میں آبادی کا تناسب بڑھنے سے پانی کی طلب میں اضافہ ہوا، اسلام آباد میں پینے کے پانی کے منصوبے شروع کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ تنخواہ دار اور غریب طبقہ بینکوں سے قرض لیکر اپنا گھر بنا سکتا ہے، ان کو گھروں کیلئے قرضہ پر سبسڈی دے رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ ایمیزون پاکستان میں اپنی سروسز فراہم کرے گا، پاکستان میں صنعتی ترقی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، سمگلنگ کے باعث مقامی صنعت تباہ ہو رہی ہے، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سرحدی مارکٹس تعمیر کی جا رہی ہیں، وزیر خزانہ کو ہدایت کی ہے کہ مہنگائی اور اشیاء کی قیمتوں میں کمی کریں، حکومت ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے اقدامات کر رہی ہے، کورونا وائرس کی وبا کے باعث مہنگائی دنیا بھر کا مسئلہ ہے، دنیا میں اشائے خوردونوش اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، خطے کے دیگر ملکوں کی نسبت پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہیں، ماضی کی حکومت کے معاہدوں کے باعث بجلی مہنگی ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ سندھ میں وفاقی حکومت کئی ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب میں کاشتکاروں کیلئے کسان کارڈ کا اجراء کر دیا ہے، اس سے کسانوں کو براہ راست سبسڈی دی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ بیرون ملک پاکستان کے سفارتخانے پاکستانیوں کی معاونت کیلئے ہیں، وزیر خارجہ کو کہا ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی شکایات کے ازالہ کیلئے پورٹل قائم کریں۔
حکومت مافیا اور طاقتور طبقے کے خلاف لڑ رہی ہے، مقبوضہ کشمیر کی پرانی حیثیت بحال ہونے تک بھارت سے مذاکرات نہیں ہوں گے، وزیراعظم عمران خان



