اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)بغاوت پر اکسانے کے کیس میں شہباز گِل کی درخواست ضمانت بعد ازگرفتاری پر عدالت نے اسلام آباد پولیس کو کل تک ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دے دیا، ریمارکس میں کہا کہ کل ریکارڈ پیش نہ کیا تو آپ کے افسران کیلئے مسئلہ بن جائے گا۔شہباز گِل کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں سماعت ہوئی۔شہباز گِل کے وکلا فیصل چوہدری اور حفیظ اللّٰہ یعقوب عدالت میں پیش ہوئے۔پولیس افسر نے عدالت میں ریکارڈ پیش نہیں کیا اور وجہ بتائی کہ دوسرے ملزم کی گرفتاری کرنی ہے،تفتیشی افسر ریکارڈ کراچی ساتھ لے کر گیا ہے۔عدالت نے حکم دیا کہ 10 بجے تک کا وقت دیتا ہوں ریکارڈ یا تفتیشی افسر پیش ہوں، پولیس افسر نے جواب دیا کہ وہ کراچی سے اتنی جلدی نہیں آسکتے۔جج نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ میں نے تو نہیں کہا تھا تفتیشی افسر کراچی جائے، فون کرکے بلائیں، نہیں آتے تو ایس ایچ او کو بلائیں۔جج نے ریمارکس دیے کہ ریکارڈ نہیں آتا تو ایس ایس پی اور آئی جی اسلام آباد کو بلائیں گے جس کے بعد عدالتی کارروائی 10 بجے تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔جج نے پولیس افسر سے سوال کیا کہ اگر آپ کے کوئی تحفظات ہیں تو بتا دیں، پولیس افسر نے جواب میں کہا کہ تفتیشی افسر کل شام کو کراچی سے واپس پہنچے گا،پیر تک سماعت ملتوی کر دیں۔اس پر جج نے ملزم شہباز گِل کے وکلا سے مکالمہ کیا کہ آپ تفتیشی افسر کے لیے ٹکٹ کا بندوبست کر دیں، وکلا شہباز گل نے کہا کہ ہم تفتیشی افسر کو ایئر لائن کا ٹکٹ دینے کے لیے تیار ہیں۔جج نے پولیس حکام سے سوال کیا کہ آپ کو کتنے دن چاہئیں؟ پولیس افسر نے کہا کہ کل کا دن دے دیں، پیر کو عدالت کے روبرو ریکارڈ پیش کر دیں گے۔عدالت نے اسلام آباد پولیس کو کل تک ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دے دیا اور کہا کہ کل ریکارڈ پیش نہ کیا تو آپ کے افسران کیلئے مسئلہ بن جائےگا۔
شہباز گِل ضمانت کیس، پولیس کو کل تک ریکارڈ پیش کرنے کا حکم



