اسلام آباد (نیشنل ٹائمز)امریکی ریاست مینیسوٹا کے مزید 2 سابق پولیس افسران کو سینٹ پال کی ڈسٹرکٹ عدالت نے سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کے قتل میں شامل ہونے کا الزام ثابت ہونے پر سزا سنا دی ہے۔فروری کے مہینے میں فیڈرل جیوری کی جانب سے میں ٹاو تھاؤ اور جے الیگزینڈر سمیت تھومس لین نامی تین افسران کو جارج فلائیڈ کے شہری حقوق سلب کرنے اور سفید فام افسر ڈیرک شاوین کی جانب سے 9 منٹ تک جارج فلائیڈ کی گردن پر گھٹنا رکھ کر اسکے قتل کی کوشش کے دوران اسے بچانے کی کوشش یا اسکی مدد نہ کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔مینیسوٹا کے اٹارنی نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ عدالت نے جرم ثابت ہونے پر 36 سالہ ٹاو تھاؤ کو ساڑھے 3 سال، 28 سالہ جے الیگزینڈر کو 3 سال قید کی سزا سنائی ہے۔مینیسوٹا کے سینٹ پال کی عدالت کی جانب سے کچھ روز قبل ہی 39 سالہ پولیس افسر تھومس لین کو ڈھائی سال جیل کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ جارج فلائیڈ قتل کیس کے مرکزی مجرم پولیس افسر ڈیرک شاوین کو فرروری میں ہی ساڑھے 22 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔مینیسوٹا کے اٹارنی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ دونوں افسران پر انفرادی طور پر یہ فرض تھا اور دونوں ہی کے پاس یہ موقع بھی موجود تھا کہ وہ آفیسر ڈیرک شاوین کی جانب سے جارج فلائیڈ پر طاقت کے استعمال کے خلاف مداخلت کرتے اور اسکی جان بچا لیتے لیکن دونوں افسران اپنے فرائض منصبی ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔خیال رہے کہ مئی 2020 کو امریکی ریاست مینیسوٹا میں سفید فام پولیس افسر ڈیرک شاوین کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں وہ ہتھکڑی لگے ہوئے ایک سیاہ فام شخص کو زمین پر گرا کر اسکی گردن پر گھٹنے کا زور دے رہے ہیں اور سیاہ فام شخص انہیں کہہ رہا ہے کہ اسکی سانس گھٹ رہی ہے۔ اس واقعے میں سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی پولیس افسر ڈیرک شاوین کے ہاتھوں موت ہو گئی جس کے بعد امریکا بھر میں پولیس کے روییے اور نسل پرستی کے خلاف عوامی احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔
امریکی عدالت نے جارج فلائیڈ قتل کیس میں مزید 2 پولیس افسران کو سزا سنادی



