اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)پاکستان پیپلزپارٹی کی کور کمیٹی کے رکن سینیٹر تاج حیدر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ بات ناقابل یقین ہے کہ کونسل آف کامن انٹریسٹ (سی سی آئی) نے 2017ءکی مردم شماری کی توثیق کر دی ہے جبکہ ایک بہت بڑا فراڈ ہے اور سندھ کے لوگوں کو صحیح طور پر نہیں گنا گیا ہے۔ سینیٹر تاج حیدر نے یاد دلایا کہ سینیٹ میں تمام پارٹیوں نے تحریری طور پر یہ تسلیم کیا تھا کہ 5فیصد آبادی کی مردم شماری کا آڈٹ کرایا جائے گا۔ اس دستاویز پر پی ٹی آئی کے اس وقت کے پارلیمانی لیڈر اعظم سواتی کے دستخط بھی موجود ہیں۔ اس وقت کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سب کو چکما دیا اور آئین میں 24ویں ترمیم منظور کرانے کے لئے مسلم لیگ(ن) نے سندھ کے عوام کے ساتھ دھوکا کیا۔ اب پی ٹی آئی کی گورنمنٹ بجائے اس معاہدے پر عملدرآمد کرنے کے ایک اور دھوکہ دے رہی ہے کہ 2023ءمیں نئی مردم شماری کرائی جائے گی۔ کوئی بھی صحیح الدماغ شخص اس حکومت پر اعتماد نہیں کر سکتا اور سندھ دوبارہ دھوکہ خانے کے لئے تیار نہیں ہے۔ یہ حکومت ایک انتخابی فراڈ کے نتیجے میں بنائی گئی ہے اور عوام کے ساتھ فراڈ پر فراڈ کر رہی ہے۔ سی سی آئی میں سندھ حکومت کی بات نہیں مانی گئی اور پہلی مرتبہ سی سی آئی نے اتفاق رائے کی بجائے کثرت رائے سے فیصلہ کیا ہے۔ سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ بین الاقوامی انداز سے کرائے گئے سرووں کے مطابق سندھ کی آبادی 6کروڑ 20 لاکھ ہے جبکہ مردم شماری میں یہ آبادی 4کرور 70لاکھ دکھائی گئی ہے۔ سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ ملک میں جانوروں کی تعداد تو درست گنی گئی ہے لیکن سندھی انسانوں کی تعداد درست نہیں گنی گئی۔ سینیٹر تاج حیدر نے نشاندہی کہ ایک ایسا معاہدہ جو سارے صوبوں کے درمیان ہوا اسے نہ ماننا وفاق سے روگردانی ہے اور وفاق کے لئے جدوجہد کرنے والوں کے لئے ایک دھچکہ ہے۔ اس بات پر سب یقین رکھیں کہ پاکستان پیپلزپارٹی ناانصافی پر خاموش نہیں رہے گی۔ اس ناانصافی کی ان ساری پارٹیوں کو مذمت کرنی چاہیے جنہوں نے سینیٹ میں معاہدے پر دستخط کئے تھے اور وہ تمام پارٹیاں بھی اس فاشسٹ حکومت کے خلاف پاکستان پیپلزپارٹی کی جدوجہد میں شریک ہوں گی۔
کونسل آف کامن انٹریسٹ نے 2017ءکی مردم شماری کی توثیق کر دی، پیپلزپارٹی کے رہنما تاج حیدر نے اعتراض اٹھا دیا



