اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بنگلہ دیش کی میزبانی میں انیسویں ڈی ایٹ وزارتی کونسل اجلاس میں بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی ۔ڈی ایٹ ورچوئل اجلاس میں مصر،پاکستان، بنگلہ دیش ، سری لنکا ، انڈونیشیا ، ملائیشیا ، نائیجیریا اور ترکی شامل ہیں۔وزیر خارجہ نے ڈی ایٹ وزارتی کونسل ورچوئل اجلاس سے خطاب کیا۔انہوں نےڈی ایٹ کی سربراہی سے سبکدوش ہونیوالے ترکی کی خدمات کو سراہا۔شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ میں ڈی ایٹ کی آیندہ سربراہی کے حوالے سے بنگلا دیش کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ان کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔میں ڈی ایٹ تنظیم کو بہتر انداز میں چلانے پر ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اس کانفرنس کا موضوع، بدلتی دنیا کیلئے اشتراک، یوتھ اور تیکنالوجی کی اہمیت “ایک انتہائی اہم موضوع ہے۔آج ہم جہاں ٹیکنالوجی کی ترقی دیکھ رہے ہیں وہاں غیر مساوی مواقعوں کی دنیا بھی ہمارے سامنے ہے۔کرونا عالمی وبائی صورتحال نے اس تفاوت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ بہت سے ترقی پذیر ممالک کا عالمی اقتصادیات، بین الاقوامی سپلائی چین اور تعلیم کے شعبے میں موجودگی انتہائی کم ہے ۔یہ تفاوت نہ صرف امیر اور غریب ممالک کے درمیان فرق کو بڑھاتا ہے بلکہ نوجوان نسل کی حوصلہ شکنی کا بھی باعث بنتا ہے۔ ہمارے مستقبل کا دارومدار ہماری نوجوان نسل پر ہےہماری آبادی کا 60 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہےاورہم انہیں جدید تیکنالوجی سے بہرہ ور بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔ہم پاکستانی نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار کے مواقع مہیا کر کے خودمختار بنانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں ۔ہمیں دنیا کی بدلتی ہوئی ترجیحات کیلئے اور چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اپنے آپ کو تیار کرنا ہوگا،ٹیکنالوجی کا استعمال روابط کے فروغ کا اہم ذریعہ ہے اور خوشی کی بات یہ ہے کہ ڈی ایٹ اس پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔پاکستان ڈی ایٹ فورم کو خصوصی اہمیت دیتا ہے پاکستان نے ڈی ایٹ فورم کے تمام فیصلوں کی توثیق کی پاکستان نے گذشتہ چار ماہ کے دوران، چار سیکٹرول اجلاسوں کی میزبانی کی یہ پاکستان کی ڈی ایٹ فورم کیساتھ گہری وابستگی کا مظہر ہے۔
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی بنگلہ دیش کی میزبانی میں انیسویں ڈی ایٹ وزارتی کونسل اجلاس میں بذریعہ ویڈیو لنک شرکت



