اسلام آباد (نیشنل ٹائمز)قوام متحدہ میں امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ کا کہنا ہے کہ ڈونئیسک اور لوہانسک میں روسی فوج کے بطور امن فوج کا کردار ادا کرسکنے کا پیوٹن کا بیان احمقانہ ہے۔امریکی سفیر نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ وہ اصل میں کیا ہیں، روس کے اقدامات کے نتائج سنگین ہوں گے،پیوٹن نے منسک معاہدے کی دھجیاں اڑائی ہیں۔دوسری جانب اقوام متحدہ میں روس کے سفیر واسیلی نیبنزیا کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ یوکرین تنازعے کے سفارتی حل کیلئے اب بھی سفارتکاری کیلئے تیار ہیں۔پیوٹن کا یوکرین کے 2 علاقوں میں امن دستے بھیجنے کا حکمیوکرین کے سفیرسرگئی کیسلیٹس نے کہا ہے کہ روس کےحالیہ اقدامات سے قطع نظر یوکرین کی سرحدیں غیر تبدیل شدہ رہیں گی۔برطانوی ایلچی باربرا ووڈورڈ نے اپنے بیان میں کہاکہ سلامتی کونسل کو کشیدگی میں کمی لانے کیلئے روس پر زور ڈالنے پر متحد ہونا چاہیے۔اس معاملے پر چین کےسفیر ژانگ جون نے کہاکہ تمام متعلقہ فریقوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے، فریقین ایسے اقدام سے گریز کریں جس سے کشیدگی کو ہوا ملے۔چینی سفیر نے کہا کہ یوکرین تنازع کے سفارتی حل کیلئے ہر کوشش کا خیر مقدم، حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔یوکرین کے تنازع پر سلامتی کونسل کا یہ تیسرا اجلاس تھا، یوکرین تنازع پر ہنگامی اجلاس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سربراہی روس کےپاس ہے۔وائٹ ہاؤس ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکا روس پر آج نئی پابندیاں عائد کرے گا، پابندیاں لگانے کے منصوبے پر اتحادیوں، شراکت داروں سے رابطے میں ہیں۔جاپان کا کہنا ہے کہ روس پر پابندیاں لگانے میں امریکا، جی سیون ممالک کیساتھ شامل ہونے کو تیار ہیں، جبکہ جاپانی وزیراعظم نے کہا ہے کہ روس کیخلاف سخت ردعمل کیلئے تیار ہیں،پابندیاں بھی شامل ہوسکتی ہیں۔واضح رہے کہ روس نے یوکرین کے دو کریملن حمایت یافتہ علیحدگی پسندعلاقوں میں روسی فوج تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پیوٹن کا امن فوج بھیجنے کا بیان احمقانہ ہے، امریکی سفیر



