اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)روزنامہ جناح اور آن لائن نیوز ایجنسی کے ایڈیٹر انچیف محسن بیگ کے گھر ایف آئی اے کا چھاپہ۔ترجمان محسن بیگ کے مطابق ایف آئی اے اور پولیس کی بھاری نفری نے گھر کا گھیراؤ کرلیا ۔ایف آئی اے سے وارنٹ گرفتاری مانگنے پر تلخ کلامی ہوئی جس پرایف آئی اے اور پولیس نے محسن بیگ کو زدو کوب کیا ۔پولیس اور ایف آئی اے نے محسن بیگ کو گرفتار کرلیا ۔ترجمان محسن بیگ کے مطابق ایف آئی اے کے پاس محسن بیگ کے وارنٹ گرفتاری تھے نہ ہی کوئی مقدمہ درج تھا۔محسن بیگ کے گھر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے چھاپہ مارا تھا محسن بیگ حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے تھے۔
جبکہ پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل نیر بخاری کی جانب سے سینیئر صحافی محسن بیگ کی گرفتاری کی شدید مذمت کی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے تنقید کرنے والوں کی آواز دبانا ایک آمرانہ اقدام ہے۔حکومتی فیصلوں پر تنقید کرنا اور اپنی رائے کا اظہار کرنا ہر ایک کا آئینی حق ہے۔نئیر بخاری نے مطالبہ کیا ہے کہ سینیئر صحافی محسن بیگ کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
پیپلزپارٹی کی خاتون رہنمانفیسہ شاہ نے بھی سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار محسن بیگ کی گرفتاری کی مذمت کی اورکہا کہ ریاست مدینہ کے درس دینے والے حکمران تنقید اور فیصلوں سے اختلاف رائے بھی برداشت نہیں کر سکتے۔انہوں نے استفسار کیا کہ کیا ریاست مدینہ میں اس طرح کے فیصلوں کی کوئی مثال ملتی ہے؟۔ان کا مزید کہنا تھاکہ حکومت نے محسن بیگ کو گرفتار کرکے یہ پیغام دیا ہے کہ کوئی انکے فیصلوں سے اختلاف کرے گا تو جیل جائے گا۔خان صاحب کسی کو جیل بھیج کر اپنے عوام دشمن فیصلے عوام پر مسلط نہیں کر سکتے۔پوری عوام اس وقت وفاقی حکومت کے خلاف سراپا احتجاج ہے خان صاحب کس کس کی آواز کو دبائیں گے؟۔حکومت اس طرح کے فیصلوں سے گریز کرے اور محسن بیگ کو فوری رہا کیا جائے۔



