اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی جانب سے ایف آئی اے کے موجودہ سربراہ ابوبکر خدا بخش نتھو کو جو چھ جنوری کو اپنی مدت ملازمت مکمل ہونے پر ریٹائرڈ ہونے کے فوری بعد پر اسی ادارے ایف آئی اے ہی میں دوبارہ ایڈوائزر لگانے پر احتجاج کی دھمکی دے دی ہے ۔
اس نئی تعیناتی سے متعلق عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی جانب سے اسے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے مسلمان ملازمین کی حق تلفی قرار دیا گیا ہے ۔اس بابت اسلام آباد سے جاری ایک احتجاجی بیان میں موجودہ حکومت کے اس عمل کو ایک مخصوص فرقے کو نوازنے کے خلاف احتجاج کا اعلان بھی کیا گیا ہے جبکہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ عمران حکومت کا یہ فعل توہین عدالت کے زمرے میں بھی آتا ہے لہذا ایف آئی اے جو ملک کا ایک اہم تحقیقاتی ادارہ ہے اس میں ایک مخصوص طبقے سے منسلک ریٹائرڈ افسر کی دوبارہ تعیناتی مکمل طور پر غیر قانونی تصور کی جائے گی کیونکہ اس سے ایک جانب ادارے میں ایک لمبے عرصہ تک سروس کرنے والوں کی نہ صرف حق تلفی ہوگی بلکہ اس سے حکومت کی بھی بددیانتی واضح ہوتی دکھائی دیتی ہے ۔
واضح رہے کہ ابوبکر خدا بخش نتھو جب ایڈیشنل آئی جی پنجاب تعینات تھے تو قصور میں مشہور زمانہ معصوم کمسن بچی زینب کے قتل کے سلسلہ میں اس وقت بنائی گئی جے آئی ٹی جس کا سربراہ ابو بکر کو بنایا گیا تھا ۔جسے زینب کے والد نے ماننے سے انکار کردیا تھا کیونکر اس وقت زینب کے والد کا موقف تھا کہ یہ پولیس افسر چونکہ قادیانی ہے لہذا وہ اسے جے آئی ٹی کے سربراہ کے طور پر قبول نہیں کریں گے ۔



