اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو زرداری نے نوشہرہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں عمران خان کو وارننگ دے رہا ہوں کہ عمران خان کے گھبرانے کا وقت آچکا ہے، جیالے انہیں گھر میں گھس کر شکست دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی مزدوروں، محنت کشوں اور طالب علموں کی جماعت ہے۔ یہ شہیدوں اور جیالوں کی جماعت ہے جو غریبوں کو گھر دیتی ہے، ان کے گھر مسمار نہیں کرتی۔ نوجوانوں کو روزگار دیتی ہے نوجوانوں سے روزگار نہیں چھینتی۔ انہوں نے کہا کہ جب کسی کو سلیکٹ کرکے لایا جائے گا تو یہ انہیں ہی خوش کریں گے۔ بلاول بھٹو زرداری نے جلسہ گاہ سے حاضرین سے سوال کیا کہ آپ کے بچوں کو ملازمتیں ملیں؟ تو حاضرین نے جواب دیا کہ نہیں ، نہیں ملیں۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے دوسرا سوال کیا کہ آپ میں سے کسی کو گھر ملا ، جلسہ گاہ میں موجود لوگوں نے ایک زبان ہو کر جواب دیا کہ نہیں، کوئی گھر نہیں ملا۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ عمران خان جھوٹا شخص ہے، جھوٹے دعوے کرتا ہے۔ انہوں نے ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا مگر برسر روزگار لاکھوں لوگوں کو بیروزگار کر دیا۔ اسٹیل ملز سے بھی ہزاروں ملازمین کو فارغ کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تجاوزات کی آڑ میں غریبوں کے گھر مسمار کئے گئے۔ عمران خان نے غریبوں سے گھر کی چھت چھین لی۔ ہر ادارے پر یہ حکومت حملہ آور ہے، پی ٹی ڈی سی ہو،وفاقی حکومت کے ادارے ہوں، صوبائی حکومت کے ادارے ہوں سب پر حملہ آور رہو رہے ہیں۔ آپ کو روزگار دینے کی بجائے جن کے پاس روزگار موجود ہے ان سے بھی چھین رہے ہیں۔ یہ کس قسم کا انصاف ہے، کس قسم کی تبدیلی ہے ، ملک کے نوجوان دو دو ڈگریاں ہاتھوں میں لے کر پھر رہے ہیں دھکے کھا رہے ہیں اور تبدیلی کے دعویدار ان کو روزگار نہیں دے سکے۔ یہ وہی خان صاحب ہے جو آپ کے پاس آیا تھا وعدہ کیا تھا کہ حکومت میں آکر 50 لاکھ گھر بنائیں گے، تین سال وفاق میں ہو چکے ہیں یہاں تو وہ آٹھ سال حکومت میں ہیں میں آج نوشہرہ والوں سے پوچھتا ہوں کہ آپ کے ہاں کتنے گھر بنے ہیں، آپ میں سے کتنے خاندانوں کو گھر ملا ہے خان صاحب اس وعدہ پر بھی یو ٹرن لے چکا ہے۔ کچی آبادیوں والوں سے چھت چھین رہے ہیں۔ یہ ہے عمران کی تبدیلی اور یہ ہے عمران خان کا نیا پاکستان۔ میں نوشہرہ کے عوام کو دعوت دیتا ہوں آپ پاکستان پیپلزپارٹی کا ساتھ دیں جیسے آپ نے قائد عوام کا ساتھ دیا تھا، جیسے آپ نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا ساتھ دیا تھا۔ ہم نے ملک کی قسمت تبدیل کر دی تھی۔ لیکن عوام کو پتہ ہے کہ جب پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت تھی روزگار دیتی تھی چھینتی نہیں تھی۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم مکان بناتے تھے گراتے نہیں تھے۔ ہم نے اس ملک میں جو غریب خواتین تھیں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے ان کو مالی مدد پہنچائی۔ ہم نے اپنے پنشنرز کی پنشن میں 100فیصد اضافہ کیا تھا ہم نے تنخواہوں میں 100فیصد اضافہ کیا تھا، ہم نے فوج کی تنخواہوں میں اضافہ کیا تھا۔ یہ خان صاحب کی عوام دشمن پالیسی، غریب دشمن پالیسی اور آئی ایم ایف کی ڈیل ہے اس نے غریب عوام کو پریشان کر دیا ہے۔ غربت ، بیروزگاری، مہنگائی تاریخی سطح پر پہنچ چکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم شہید ذوالفقار علی بھٹو کے منشور پر عمل کرکے ملک کے مسائل ختم کر سکتے ہیں۔ ہم شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا نظریہ اپناتے ہوئے اس غریب عوام کے مسائل دور کر سکتے ہیں۔ اس کے لئے ایک ہی چیز کی ضرورت ہے کہ جیالوںکی حکومت ہو، پی پی پی کی حکومت اور عوام کی حکومت ہو۔ پختونخواہ میں جب عوامی حکومت ہوگی ، جب پیپلزپارٹی کی حکومت ہوگی جب آپ کے ووٹ کی بنیاد پر عوامی حکومت ہوگی عوامی نمائندے منتخب ہوں گے تو وہ آپ کی خدمت کر سکیں گے۔ جب کوئی اور ان کو سلیکٹ کرکے لائیں گے تو پھروہ انہیں کی خدمت کریں گے ۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ٓاپ نے اپنی قسمت تبدیل کرنی ہے آپ اپنے بڑوں اور بزرگوں سے پوچھیں کہ جب پیپلزپارٹی کا دور تھا تو کیا قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اس ملک کے نوجوانوں کو ملک بھر میں روزگار نہیں دیا؟ جن کو اس ملک میں روزگار کا بندوبست نہیں ہو رہا تھا تو بھٹو صاحب نے ان کو مفت پاسپورٹ دلوا کر باہر روزگار کا بندوبست کیا تھا۔ آپ اپنے بزرگوں سے پوچھیں کہ کیا شہید بی بی کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ بینظیر آگئے گی روزگار لائے گی، بی بی شہید کا نعرہ تھا کہ بی بی شہید نہ صرف ملک کے نوجوانوں اور مردوں کو رزگار دیتی تھی بلکہ اس ملک کی خواتین کو بھی روزگار دیتی تھیں۔ پاکستان کی تاریخ میں جتنا روزگار محترمہ بینظیر بھٹو نے دیا تھا اتنا کسی نے نہیں دیا۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ میں آپ کے حالت تبدیل کرنا چاہتا ہوںقائد عوام نے کہا تھا کہ میں اس ملک کے غریب عوام کی قسمت میں نہیں لکھا ہے کہ وہ ہمیشہ غریب ہی رہیں میں یہ جانتا ہوں کہ اگر ہم قائد عوام کا فلسفہ اپناتے ہیں اگر ہم ایسے معیشت چلاتے ہیں جو عوام کے مفاد میں ہو آئی ایم ایف کی غلامی نہیں کریں عوام کی خدمت کرے تو ہم معاشی ترقی لا سکتے ہیں معاشی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ ہمیں صرف غریب دوست حکومت کی ضرورت ہے جو کنسٹرکشن سیکٹر میں ارب پتیوں کو ریلیف نہ دے، جو ارب پتی بینکرز کو اربوں روپے کے ریلیف نہ دے، جو صرف اور صرف اگر ہم نے ریلیف دینا ہے تو ہم عام آدمی کو ریلیف دے سکتے ہیں ان کی تنخواہوں میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ کم از کم اجر ت میں اضاف کر سکتے ہیں پنشن میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ ہم غریبوں اور مزدورں کے لئے لیبر کارڈ لائیں گے۔ ایسے ہیں اس ملک کے نوجوانوںکے یوتھ کارڈ لا سکتے ہیں۔ آپ کو صرف اور صرف پیپلزپارٹی کا ساتھ دینا ہوگا، غریب اور عوام دست جماعت کا ساتھ دینا ہوگا۔ ہم وہ جماعت ہے جس کی بنیاد قائد عوام نے تین پوائنٹ پر رکھتی تھی کہ مانگ رہا ہے ہر انسان، روٹی، کپڑا اور مکان۔ تو آج چھین رہا ہے کپتان روٹی ، کپڑا اور مکان۔ مانگ رہا ہے ہر انسان روٹی ، کپڑا اور مکان یہ اتنا مشکل کام نہیں ہے۔ ہم پارلیمنٹ میں آپ کے مسائل کا حل نکال سکتے تھے ۔ آپ نے دیکھا ہوگا ابھی جو مشترکہ اجلاس میں 60آئٹم تھے لیجیس لیشن کے ان میں ایک ایشو بھی مہنگائی کم کرنے کے لئے نہیں تھا۔ ہم نے ایک بھی پالیسی پاس نہیں کی جس سے آپ کی غربت اور بیروزگاری کم ہوں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خان صاحب جو محنت کر رہا ہے وہ آپ کے ووٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے، آپ کے پیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے، آپ کی جیب پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انشااللہ آپ کی محنت کی وجہ سے آپ کی جدوجہد کی وجہ سے ہم ان کی ہر سازش کو ناکام بنائیں گے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زردری نے کہا کہ میں عمران کو پیغام بھیجنا چاہتا ہوں کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے یہ جیالے آپ کے گھر کے اندر گھس کر آپ کو سیاسی شکست دلوائیں گے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے جیالے اس کٹھ پتلی کو معاف نہیں کر سکتے۔ اور اس سلیکٹڈ کو پکڑ کر اس سے حساب لیں گے۔ میں عمران خان کو اب وارننگ کر رہا ہوں کہ اب گھبرانے کا وقت شروع ہو چکا ہے۔ تیر کمان سے نکل چکا ہے انشااللہ تعالی پاکستان پیپلزپارٹی کا یوم تاسیس پشاور میں ہوگا، کی وجہ سے آپ کی جدوجہد کی وجہ سے ہم ان کی ہر سازش کو ناکام بنائیں گے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زردری نے کہا کہ میں عمران کو پیغام بھیجنا چاہتا ہوں کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے یہ جیالے آپ کے گھر کے اندر گھس کر آپ کو سیاسی شکست دلوائیں گے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے جیالے اس کٹھ پتلی کو معاف نہیں کر سکتے۔ اور اس سلیکٹڈ کو پکڑ کر اس سے حساب لیں گے۔ میں عمران خان کو اب وارننگ کر رہا ہوں کہ اب گھبرانے کا وقت شروع ہو چکا ہے۔ تیر کمان سے نکل چکا ہے انشااللہ تعالی پاکستان پیپلزپارٹی کا یوم تاسیس پشاور میں ہوگا، میں ملک بھر کے جیالوں کو دعوت دیتا ہوں کہ آئین آپ پاکستان پیپلزپارٹی کے یوم تاسیسی کے موقع پر چاروں صوبوں کی زنجیر کی جماعت کے یوم تاسیس کے موقع پر ہم پشاور میں آکر سلیکٹڈ کو للکار یں گے، تبدیلی سرکار کو للکاریں گے اور انشااللہ آپ کی محنت اور جدوجہد کے نتیجے میں انہیں گھر بھیجیں گے اور ایک منتخب حکومت بنا کر رہیں گے۔ اب پاکستان پیپلزپارٹی کا وقت آگیا ہے پاکستان پیپلزپارٹی کا دور آگیا ہے آپ ہر اس گھر پر پہنچیں جہاں کسی زمانے میں پاکستان پیپلزپارٹی کا پرچم لہراتا تھا۔ آپ ہر اس گھر میں پہنچیں جہاں کسی زمانے کا جئے بھٹو کا نعرہ لگتا تھا، آپ اس غریب کے پاس جائیں ہر اس گھر میں جائیں جہاں بی بی شہید کسی زمانے میںسہار تھیں اور قائد عوام کسی زمانے میں ان کا سہار تھے۔ ان کو یقین دلوائیں کہ آپ سب کی محنت سے پیپلزپارٹی کا دور آرہا ہے پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت کرکے جدوجہد کرکے ہم قائد عوام کی عوامی حکومت بنا سکتے ہیں۔ میں آپ سب کا شکریہ اداکرتا ہوں خاص طور پر عہد خٹک کا خصوصی شکریہ اداکرتا ہوں ۔ آپ سے امید رکھتا ہوں کہ انشااللہ تعالیٰ ہم ہر الیکشن میں تیر پر مہر لگا کر عہد خٹک جیسے نوجوانوں جیسے لوگوں کو کامیاب کریں اور اب نوجوانوں کا دور آچکا ہے وہ جو 70 سال کا کھلاڑی ہے وہ نوجوانوں کا نام لے کر آپ کو بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہا تھا وہ اب بے نقاب ہو چکا ہے، اب نوجوانوں کی سیات ہوگی اور نوجوانوں کی حکومت ہوگی اور ہم نوجوانوں کے مسائل حل کریں گے اپنے بڑوں کی عزت کرتے ہوئے مسائل حل کرتے ہوئے ہم چاہتے ہیں انشااللہ تعالیٰ اب نئی نسل کا وقت آچکا ہے۔
میں عمران خان کو وارننگ دے رہا ہوں کہ عمران خان کے گھبرانے کا وقت آچکا ہے



