کیگالی (نیشنل ٹائمز) آسکر ایوارڈز کے لیے نامزد فلم ’ہوٹل روانڈا‘ کے مرکزی کردار پال روسیسابگینا اب دہشتگردی سے منسلک جرائم کی پاداش میں کئی سال قید کی سزا کا سامنا کر رہے ہیں۔ فلم ’ہوٹل روانڈا‘ میں روانڈا کی نسل کُشی کے دوران لوگوں کی جان بچانے میں اُن کے کردار کی عکاسی کی گئی تھی۔ دو دہائیوں قبل اُنھوں نے خود کو ایک عام شخص کے طور پر پیش کیا تھا جو غیر معمولی حالات میں پھنس گیا تھا۔روانڈا کے اس 67 سالہ سابق ہوٹل مینیجر کو نسل کُشی کے دوران ایک ہزار لوگوں کی جان بچانے کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔اپریل 1994 سے لے کر اگلے 100 دنوں میں ہوتو برادری کے انتہا پسند افراد نے تتسی نسل کے تقریباً آٹھ لاکھ افراد کو قتل کر دیا تھا۔پال خود ہوتو برادری کے ہیں اور اُن کی شادی ایک تتسی خاتون سے ہوئی تھی۔ اُنھوں نے اپنی سوانح حیات ‘این آرڈنری مین’ میں لکھا ہے کہ قاتلوں کو ہوٹل ملے کولینیز میں پناہ لینے والے لوگوں کے قتل سے روکنے پر قائل کرنے کی اُن کی قابلیت کی وجہ سے ان لوگوں کی جانیں بچ پائیں۔وہ ایسا کرنے میں اس لیے کامیاب ہو سکے کہ ان کے پاس کچھ نقد رقم تھی اور اس کے علاوہ انھوں نے اس عالیشان ہوٹل میں ٹھہرنے والی کچھ اہم شخصیات سے اپنے تعلقات کا استعمال کیا۔ایک جگہ وہ لکھتے ہیں کہ اُنھیں بلڈنگ خالی کرنے کا کہے جانے کے تھوڑی ہی دیر بعد ‘سینکڑوں (جنگجوؤں) نے ہوٹل کا گھیراؤ کر لیا تھا جن کے ہاتھوں میں نیزے اور رائفلیں تھیں۔’وہ کہتے ہیں ‘اگلے ایک گھنٹے میں یہ جگہ کسی مقتل میں تبدیل ہو جاتی۔’ اس کے بعد وہ فون پر کئی سینیئر حکام سے رابطے کرتے رہے جن میں سے ایک نے اس حملے کو رکوا دیا۔اُنھوں نے ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ سارا فرق اسی فون کال سے پڑا تھا۔اُنھوں نے سنہ 2006 میں اپنی کتاب میں لکھا تھا کہ الفاظ ‘زندگی کے طاقتور اوزار’ ہو سکتے ہیں مگر اب انھوں نے ہی پال کو جیل پہنچا دیا ہے۔سنہ 1996 میں اُنھوں نے روانڈا چھوڑ دیا تھا اور وہ مختصر سے ہی وقت میں ہیرو سے ریاست کے دشمن بن گئے، کیونکہ نسل کشی کے بعد کی حکومت پر اُن کی تنقید بڑھتی جا رہی تھی۔ آہستہ آہستہ یہ تنقید حکومت کی تبدیلی کے مطالبات میں تبدیل ہو گئی۔سنہ 2018 میں اپنے ایک ویڈیو پیغام میں اُنھوں نے کہا تھا: ‘وقت آ گیا ہے کہ ہم روانڈا میں تبدیلی لانے کے لیے ہر طریقہ استعمال کریں۔ چونکہ تمام سیاسی طریقے آزما لیے گئے ہیں اور ناکام ہوئے ہیں، اس لیے آخری حربہ استعمال کرنے کا وقت ہے۔اس وقت تک وہ ’روانڈا موومنٹ فار ڈیموکریٹک چینج‘ نامی اپوزیشن اتحاد کے جلاوطن سربراہ تھے۔ اس گروہ کے عسکری ونگ نیشنل لبریشن فرنٹ پر 2018 میں روانڈا میں حملوں کا الزام بھی عائد کیا جا چکا ہے۔
روانڈا میں نسل کشی کے دوران ہزاروں لوگوں کی جان بچانے والے ’ہیرو‘ کو دہشتگردی کے الزامات میں قید کی سزا



