چین اور پاکستان کے درمیان فنی و پیشہ ورانہ تعلیم میں تعاون ہنرمند افرادی قوت کی تیاری میں مددگار ہے، قمر الاسلام راجہ

تیانجن (شِنہوا) پاکستان کے قومی کمیشن برائے فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے چیئرمین قمر الاسلام راجہ نے کہا ہے کہ فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کے شعبے میں چین اور پاکستان کا تعاون، جس میں لوبان ورکشاپس اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت تربیتی پروگرام شامل ہیں، صنعتی ترقی اور معاشی نمو کے لئے پاکستان میں ہنرمند افرادی قوت تیار کرنے میں مدد دے رہا ہے۔
چین کے شمالی شہر تیانجن میں گزشتہ ہفتے منعقد ہونے والی فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کی ترقی کی عالمی کانفرنس 2026 کے موقع پر شِنہوا کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے قمر الاسلام راجہ نے کہا کہ چین فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کے میدان میں صف اول کے ممالک میں شامل ہے اور اس کا تجربہ پاکستان کے لئے قابل قدر رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
قمر الاسلام راجہ نے حال ہی میں شنگھائی میں منعقد ہونے والے ورلڈ سکلز مقابلے میں شرکت کی، جہاں چین نے 41 طلائی تمغوں کے علاوہ چاندی اور کانسی کے متعدد تمغے بھی جیتے۔ انہوں نے کہا کہ جس بات نے انہیں سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ یہ تھی کہ چین میں بچوں کو کم عمری ہی سے ہنر سے متعلق سرگرمیوں میں شامل کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’یہ سرگرمیاں طلبہ میں فنی مہارتیں سیکھنے کا شوق پیدا کرتی ہیں اور فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کی اہمیت اجاگر کرنے میں مدد دیتی ہیں۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ شنگھائی میں نمائش کے مقام پر روزانہ مختلف سکولوں کے ہزاروں طلبہ آتے تھے۔
قمر الاسلام راجہ نے بتایا کہ پاکستان بھی فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کو فروغ دینے اور اس شعبے سے وابستہ روایتی منفی تاثر کو ختم کرنے کے لئے اس ماڈل کو اپنانا چاہتا ہے۔ یہ مسئلہ خاص طور پر پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک میں اہمیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ چین ٹیکنالوجی کے میدان میں عالمی رہنما بن چکا ہے اور اس کا تجربہ ہمارے لئے قابل قدر سبق رکھتا ہے۔‘‘
چین پاکستان تعاون پر بات کرتے ہوئے قمر الاسلام راجہ نے کہا کہ معلومات، ٹیکنالوجی، علم اور تربیت کا تبادلہ پاکستان کے لئے انتہائی اہم ہے، خصوصاً چین پاکستان اقتصادی راہداری اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کے تناظر میں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل صنعتی ترقی سے گہرا تعلق رکھتا ہے اور افرادی قوت کی مہارتوں میں نمایاں بہتری کے بغیر یہ ترقی ممکن نہیں۔
مزدور منڈی کی بدلتی ضروریات کے حوالے سے قمر الاسلام راجہ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز میں پیش رفت کے باعث دنیا بھر میں ملازمتوں کے لئے درکار مہارتیں تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں۔ اس صورت حال میں موجودہ مہارتوں کو مزید بہتر بنانا اور نئی مہارتیں سیکھنا ناگزیر ہو گیا ہے۔ فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کا صنعت سے مضبوط رابطہ ہونا چاہیے اور اسے مزدور منڈی کی حقیقی ضروریات کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’وہ دور گزر چکا ہے جب محدود نوعیت کی چند مہارتیں برسوں تک تبدیل کئے بغیر کام آ سکتی تھیں۔ ٹیکنالوجی اتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے کہ تربیتی نظام کو بھی اس رفتار کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔‘‘ قمر الاسلام راجہ نے مزید کہا کہ یہ طے کرنے میں صنعت اور روزگار کی ضروریات کو مرکزی اہمیت حاصل ہونی چاہیے کہ کون سی مہارتیں سکھائی جائیں اور انہیں کس طرح فروغ دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ چاہے یہ تعاون لوبان ورکشاپس کے ذریعے ہو، برقی گاڑیوں اور دیگر صنعتوں میں ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ذریعے، پاکستان میں جدید مہارتوں کے مراکز قائم کرنے کی صورت میں یا چینی کمپنیوں اور سرکاری اداروں کی معاونت سے آن لائن تربیتی پروگراموں کے ذریعے، یہ تمام اقدامات انتہائی اہم ہیں اور دونوں ممالک میں صنعتی ترقی کی بنیاد مضبوط کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔
قمر الاسلام راجہ نے نشاندہی کی کہ اگر بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو پر عملدرآمد جاری رہا اور چینی کمپنیاں پاکستان میں صنعتی اور اقتصادی زون قائم کرتی ہیں تو بین الاقوامی معیار پر پورا اترنے والی اعلیٰ مہارت یافتہ افرادی قوت کی ضرورت میں اضافہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی افرادی قوت تیار کرنا پاکستان کی معاشی ترقی اور دونوں ممالک کے درمیان صنعتی تعاون کی کامیابی کے لئے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
مستقبل کے حوالے سے قمر الاسلام راجہ نے کہا کہ ماحول دوست توانائی اور برقی گاڑیوں کے شعبے چین اور پاکستان کے درمیان تعاون کے لئے خاص طور پر امید افزا ہیں۔ چین دنیا کے نمایاں گاڑیاں بنانے والے ممالک میں شامل ہو چکا ہے، خصوصاً ہائبرڈ اور برقی گاڑیوں کے شعبے میں، جو گاڑیوں کی صنعت کے مستقبل کا اہم حصہ ہیں۔ اسی طرح ہوا اور شمسی توانائی سمیت ماحول دوست توانائی کی ٹیکنالوجیز بھی انتہائی اہم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’پاکستان میں فی الحال ان شعبوں میں مستقبل کی ضروریات پوری کرنے کے لئے کافی تکنیکی صلاحیت اور مناسب طور پر تربیت یافتہ افرادی قوت موجود نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ چین ٹیکنالوجی کے تبادلے، فنی تربیت کی فراہمی اور برقی گاڑیوں اور ماحول دوست توانائی کے شعبوں کے لئے درکار ہنرمند افرادی قوت تیار کرنے میں پاکستان کی مدد کرکے نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔



  تازہ ترین   
ترکیہ، قطر، پاکستان اور انڈونیشیا کے دفاعی تعاون بڑھانے کے معاہدے پر دستخط
پاکستان اورمالدیپ کا دوطرفہ تجارتی حجم 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق
امریکا کو پاکستان سے تعلقات برقرار رکھنے کی ضرورت ہے: مارکو روبیو
اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری، پولنگ 20 دسمبر کو ہوگی
نئے صوبوں کے قیام پر قومی مباحثہ، سیاسی رہنماؤں کا انتظامی یونٹس بڑھانے پر زور
حوثی باغیوں نے تہران کی ثالثی کی پیشکش کا تاحال کوئی جواب نہیں دیا، ایران
حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا
وزیراعظم دہشتگردی کیخلاف تمام سیاسی جماعتوں سے بات کیلئے تیار ہیں: رانا ثنا





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر