بیجنگ (شِنہوا) چائنہ سٹیٹ ریلوے گروپ کمپنی لمیٹڈ (چائنہ ریلوے) کے مطابق چین کے ریلوے نیٹ ورک نے 2026 کی پہلی تین سہ ماہیوں کے دوران 3 ارب 71 کروڑ سفری دورے نمٹائے جو سالانہ بنیاد پر 4.8 فیصد اضافہ اور اس عرصے کا اعلیٰ ترین ریکارڈ ہے۔
ریلوے نیٹ ورک نے اس مدت کے دوران روزانہ اوسطاً 11 ہزار 511 مسافر ٹرینیں چلائیں جو پچھلے سال کی نسبت 5.3 فیصد زیادہ ہیں۔
چائنہ ریلوے کے مطابق ریلوے کے شعبوں نے سیاحت، صحت، فلاح و بہبود اور سياحتی و تعلیمی دوروں کی طلب پر بھرپور توجہ دی ہے۔ سال کے پہلے 9 ماہ میں ملک بھر میں کل 2 ہزار 860 سیاحتی ٹرینیں چلائی گئیں جو سالانہ بنیاد پر 25.5 فیصد اضافہ ہے۔
ریلوے نیٹ ورک نے اس عرصے کے دوران کنسرٹس کے شائقین اور کھیل کے مداحوں کے لئے 947 خصوصی ٹرینیں بھی چلائیں جس سے قیام و طعام اور ثقافتی سیاحت کے شعبوں کو موثر فروغ ملا۔
چائنہ ریلوے نے بتایا کہ سرحد پار ریل کے سفر میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ چین-لاؤس ریلوے کے ذریعے 2 لاکھ 65 ہزار سرحد پار سفری دورے کئے گئے جو 37.8 فیصد زیادہ ہے جبکہ گوانگ ژو-شین زین-ہانگ کانگ تیز رفتار ریلوے کے ذریعے 2 کروڑ 58 لاکھ سے زائد سرحد پار سفری دورے کئے گئے جو 11.8 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
کمپنی نے بتایا کہ چائنہ ریلوے نے ملک کی ویزا فری ٹرانزٹ پالیسی کے باعث غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں اضافے کے مطابق بھی خدمات فراہم کیں۔ پہلی 3 سہ ماہیوں کے دوران ریلوے نیٹ ورک نے ایک کروڑ 90 لاکھ سے زائد غیر ملکی مسافروں کو سفری سہولیات فراہم کیں جو سالانہ بنیاد پر 33.4 فیصد زیادہ ہے۔
مسافروں کی نقل و حرکت میں اس مسلسل اضافے کی بنیادی وجہ چین کا تیزی سے پھیلتا ہوا جدید ہائی سپیڈ ریلوے نیٹ ورک ہے۔
2025 کے اختتام تک ملک کے فعال ریلوے نیٹ ورک کی کل لمبائی ایک لاکھ 65 ہزار کلومیٹر تک پہنچ گئی تھی جس میں 50 ہزار کلومیٹر سے زائد ہائی سپیڈ ریلوے شامل ہے۔
28 ستمبر کو چین نے 4 ہائی سپیڈ ریلوے سیکشنز کا افتتاح کیا جو چین کے شمالی صوبہ ہیبے کے شہر شیونگ آن کو وسطی صوبہ ہینان کے شہر شانگ چھیو سے، شمال مغربی صوبے شانشی کے شہر شی آن کو آن کانگ سے، وسطی صوبہ ہوبے کے شہر یی چھانگ کو شنگ شان سے اور شمال مشرقی صوبے حئی لونگ جیانگ کے شہر ہاربن کو یی چھون سے ملاتے ہیں۔
توقع ہے کہ 2035 تک چین کا ہائی سپیڈ ریلوے نیٹ ورک 70 ہزار کلومیٹر تک پہنچ جائے گا جس میں شمال-جنوب کی 8 عمودی اور مشرق-مغرب کی 8 افقی لائنیں شامل ہوں گی۔ اس کی مکمل تیاری کے بعد یہ نیٹ ورک ملک بھر کے اہم شہروں، شہری مراکز اور اہم معاشی زونز کو ایک دوسرے سے جوڑ دے گا۔
چینی ریلوے کے مسافروں کی تعداد پہلی 3 سہ ماہیوں کے دوران ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی



