سوپوت، پولینڈ (شِنہوا) چینی امور کے ایک پولش ماہر نے کہا ہے کہ بدلتی ہوئی دنیا میں عملی تعاون کو فروغ دینے کے لئے چین اور یورپ کو مکالمے اور باہمی افہام و تفہیم کو مضبوط بنانا چاہیے۔
وارسا یونیورسٹی کے مرکز برائے یورپ کے پروفیسر بوگدان گورالچک نے نئے آئیڈیاز کے متعلق 15ویں یورپی فورم کے موقع پر ایک حالیہ انٹرویو میں شِنہوا کو بتایا کہ یورپ کو چین کو بہتر طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ چین عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی ایک بڑی طاقت بن چکا ہے۔
گورالچک نے اختلافات کو بہتر انداز میں حل کرنے کے لئے چین اور یورپی یونین (ای یو)کے درمیان مزید قریبی مکالمے پر زور دیا۔ انہوں نے الیکٹرک گاڑیوں اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو عملی تعاون کے ممکنہ شعبوں کے طور پر بھی اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’’یورپ اب بھی ایک خوش حال منڈی ہے اور چین کے لئے پرکشش ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں زیادہ اہم کردار ادا کرنے کی یورپ کی خواہش چین کے لئے تعاون کے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔
حکومتی مذاکرات اور اقتصادی تعاون سے آگے بڑھتے ہوئے گورالچک نے چین اور یورپ کے عوام کے درمیان باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔
گورالچک، جو تقریباً ہر سال چین کا دورہ کرتے ہیں، نے بعض یورپی ممالک کے شہریوں کے لئے چین کی ویزا فری پالیسی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے یورپی باشندوں کے لئے چین کا دورہ کرنا اور خود وہاں جا کر ملک کے بارے میں مزید جاننا آسان ہو گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین کا دورہ کرنے والے یورپی باشندے ایک ایسے ملک کو دیکھیں گے جو بعض ذرائع ابلاغ میں پیش کی جانے والی تصویر سے مختلف ہے۔
گورالچک نے یورپ کی نوجوان نسل میں چین کے بارے میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کی جانب بھی اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین کا دورہ کرنے والے نوجوان یورپی باشندے وہاں کے جدید معاشرے اور تکنیکی ترقی کا مشاہدہ کر رہے ہیں، جس سے انہیں چینی زبان سیکھنے کی ترغیب ملتی ہے۔
انہوں نے چین اور یورپی یونین کے درمیان تعلیمی تبادلوں کو مزید فروغ دینے پر زور دیا، جس میں یورپی یونین کے تعلیمی، تربیتی اور نوجوانوں کے تبادلے کے پروگرام ایراسمس پلس میں چینیوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت بھی شامل ہے۔
پولش سکالر کا چین اور یورپ کے درمیان قریبی بات چیت اور باہمی افہام و تفہیم پر زور



