دوحہ(نیشنل ٹائمز)وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ قطر نے ہمیشہ مذاکرات کو ترجیح دی، پاکستان قطری سفارتی کوششوں کو سراہتا ہے۔
دوحہ میں گلوبل سکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ایران امریکا کشیدگی کم کرنے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو اہم قرار دے دیا
اُنہوں نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے پاکستان نے ہر ممکن سفارتی کوشش کی، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے عالمی رہنماؤں سے روابط اور سفارتی رابطوں کے ذریعے مذاکرات کے دروازے کھولنے میں اہم کردار ادا کیا۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے، پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان تنازع کم کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کیں اور کشیدہ حالات کے باوجود بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا۔
محسن نقوی نے قطر کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایران امریکا تنازع کے حل کے لیے قطر کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ قطر نے ہمیشہ مذاکرات جاری رکھنے کو ترجیح دی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کی۔
اُن کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے عالمی رہنماؤں سے روابط کے ذریعے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے اور بات چیت کے امکانات پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا، میں خود بھی فیلڈ مارشل کے ہمراہ ایران کے دوروں پر گیا اور اعلیٰ ایرانی حکام سے ملاقاتوں میں شریک رہا۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ مذاکراتی عمل کے دوران کئی مواقع پر صورت حال انتہائی کشیدہ ہوئی، تاہم پاکستان نے مشکل حالات میں بھی سفارتی رابطے منقطع نہیں ہونے دیے، پاکستان کی کوششوں کا بنیادی مقصد تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنا اور خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچانا تھا۔
محسن نقوی نے بتایا کہ پاکستان نے اپریل میں اسلام آباد مذاکرات کی میزبانی کی، جبکہ ان کے بیان کے مطابق جون میں امریکا اور ایران نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، سوئٹزرلینڈ میں پاکستانی اور قطری قیادت کے درمیان 16 گھنٹے تک جاری رہنے والے مذاکراتی عمل کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور اس کے شراکت داروں کا مقصد سفارتی کامیابی کا کریڈٹ لینا نہیں بلکہ مزید تصادم کو روکنا اور بے گناہ انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے، پاکستان ایسا مستقبل چاہتا ہے جہاں جنگیں شروع ہونے سے پہلے ہی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کر لیا جائے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو بھی علاقائی سلامتی کے تناظر میں اہم قرار دیا اور کہا کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد جنگی کارروائیوں کو فروغ دینا نہیں بلکہ سلامتی اور دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
محسن نقوی کا دہشت گردی کے خلاف تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہنا تھا کہ انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور مشترکہ کوششوں کو مزید مؤثر بنانا ہوگا، خطے میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں ہونے چاہیئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی خواہش جنگیں رکوانے کا کریڈٹ لینا نہیں، بلکہ ایسا مستقبل یقینی بنانا ہے جہاں تنازعات کو ابتدا ہی میں مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکے اور بے گناہ انسانوں کی جانیں محفوظ رہیں۔



