زندگی کا حاصل کیا ہے

کبھی کبھی یہ خیال تنگ کرتا ہے، کہ ہماری زندگی کا حاصل یا اصل مقصد کیا تھا یا کیا ہے،؟ اور کیا ہم نے وہ مقصد پا لیا یا صرف کھا پی کر، موج میلہ کرکے دنیا سے رخصت ہوگئے یا ہونے کی تیاری ہے۔ سوال اتنا مشکل یا گنجلک نہیں، جتنا ہم اسے سمجھتے ہیں۔ اس زندگی میں ہماری پیدائش سے سفر آخرت تک، کن چیزوں پر ہمارا کنٹرول تھا اور کونسی ہمارے اختیار سے باہر تھیں۔ کیا ہماری پیدائش، ہمارا انسان ہونا، ہماری جنس، کسی مسلمان گھر میں پیدا ہونا، زندگی کا ایک مقررہ وقت پورا کرنا اور پھر دنیا سے چلے جانا ہمارے اختیار میں تھا۔ کیا دنیا میں رہتے ہوئے رزق، اولاد، پیشے، عزت و ذلت، بیماری، پریشانی، خوشی، صحت، تندرستی، خوشحالی و تنگدستی مکمل طور پر ہمارے اختیار میں تھی، ان میں سے کیا ہمارے اختیار میں تھا کیا نہیں تھا۔ کیا مقدر اور نصیب ہم خود اپنا لکھ رہے تھے، یا خالق کائنات نے یہ سارا سکرپٹ تیار کرکے ہمیں دنیا میں بیھجا۔ کیا زمین پر ہماری تیار کردہ چالیں اور حکمت عملی اکثر ناکام نہیں ہوتی رہی، اور اصل کام divine destiny دکھاتی رہی۔ اگر یہ سب کچھ اسی طرح ہی ہے، تو پھر ہمیں زندگی بھی تو اسی مالک اور خالق کی مرضی اور رضا کی جینی چاہیئے تھی، مگر شاید ایسا نہیں ہوتا۔ ہمیں یہ زعم مار دیتا ہے، کہ دنیا میں جو کچھ بھی مل رہا ہے، یہ سب میری ذاتی کوشش و منصوبہ بندی سے مل رہا ہے۔ اس میں شکر گزاری کا عنصر تو اکثر غائب ہی رہتا ہے، مگر اللہ کی کتاب تو کہہ رہی ہے، کہ تم شکر گزاری کرو تو اللہ تمہاری نعمتیں بڑھا دے گا۔ ہم تو مخلوق خدا پر بھی رحم نہیں کرتے۔ ہر جگہ اور ہر موقع پر اسکا استحصال کرتے ہیں۔ اصل زندگی یا حاصل زندگی تو صرف اتنا ہے، کہ اپنی زندگی گزارتے ہوئے، کتنے لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کیں۔ کتنے دکھی لوگوں کے آنسو پونچھے۔ کتنے حاجت مندوں کی حاجت روائی کی۔ اپنے والدین، رشتہ داروں سے صلہ رحمی کی، یا انکے حقوق پر نقب زنی کی۔ اگر ان سوالات کا جواب مثبت آئے، دل کو قرار اور اطمینان ہو، کہ زندگی میں لوگوں کے لیے خصوصاً کمزوروں اور حاجت مندوں کے لئے آسانیاں پیدا کیں اور اپنے اور اپنی اولاد سے باہر بھی اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کیا، کسی بھوکے کو کھانا ہی کھلا دیا، کسی غریب بیمار کو دوائی لے دی، کسی یتیم کے سکول کی فیس ادا کر دی، اور اپنی آمدن میں سے کچھ حصہ راہ خدا کے لئے رکھ دیا، تو زندگی کا کچھ مقصد پورا ہو گیا۔اس میں عبادات، چلے، ذکر اذکار اور وظائف کا ذکر اس لئے نہیں کیا، کہ یہ بندے اور خالق کا باہمی معاملہ ہے۔ جتنا جس کے پاس اختیار و اقتدار ہوتا ہے، اتنی ہی جوابدہی سخت اور کٹھن ہوتی ہے۔ اگر زندگی کا سفر اس اطمینان سے کٹا کہ ریا کاری اور دکھاوے کی نیکی کی بجائے نیکی کی روح کو نیک نیتی سے پہنچنے کی کوشش کی، لوگوں کی دل آزاری نہیں بلکہ ڈھارس بندھانے اور پرسہ دینے میں گزری، لوگوں سے خوشیاں چھیننے کی بجائے، مسرتیں تقسیم کیں۔ غرور و تکبر اور احساس تفاخر کی بجائے، عاجزی اور انکساری کا روپ اختیار کیا تو شاید زندگی کا کچھ حاصل اور مقصد پاگئے، ورنہ سفر زندگانی رائیگاں ہی گیا۔



  تازہ ترین   
قلات اور گوادر میں فورسز کی کارروائیاں، فتنہ الہندوستان کے 4 دہشتگرد ہلاک، میجر شہید
روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ختم کرانے کیلئے مذاکرات کر رہا ہوں: امریکی صدر
کینیڈا میں بھارت مخالف نعروں کی گونج، بھارتی پنجاب کو آزاد ریاست بنانے کا مطالبہ
یمنی افواج کی پیش قدمی جاری، شدید جھڑپیں، سناماہ اور سراری محاذوں پر کامیابی کا دعویٰ
روس کا ایران اور امریکہ سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر واپس آنے کا مطالبہ
ہمیں پر امن مظاہرین اور تخریب کاروں میں فرق کرنا ہوگا: فرانسیسی صدر
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ پہلے ہو جانا چاہیے تھا: نواز شریف
امریکا کی ایران کو جوہری معاہدہ نہ کرنے پر تباہ کرنے کیلئے فوجی کارروائی کی دھمکی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر