تہران/ریاض (شِنہوا) ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ان کا ملک سعودی عرب اور یمن کے درمیان مذاکرات شروع کرانے اور جاری تنازع کے سیاسی حل کی راہ ہموار کرنے کی غرض سے ہر قسم کی معاونت فراہم کرنے کو تیار ہے۔سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق عباس عراقچی نے ان خیالات کا اظہار اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ آل سعود کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کیا جس میں دونوں رہنماؤں نے مغربی ایشیا کی صورت حال میں جاری پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔عراقچی نے کشیدگی میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فوجی طریقوں پر اصرار اور سیاسی حل کو نظر انداز کرنے سے موجودہ صورت حال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔عراقچی نے زور دیا کہ مغربی ایشیا کے بحرانوں کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔یہ ٹیلی فونک گفتگو سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافے کے دوران ہوئی۔ اس دوران سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں فضائی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں جبکہ حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے اندر ہوائی اڈوں اور توانائی کی تنصیبات سمیت مختلف اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے بھی مسلسل کئے جا رہے ہیں۔یہ لڑائی بتدریج یمن کی سرحدوں سے باہر بھی پھیل رہی ہے۔ سعودی حکام کے مطابق ہفتے کے روز ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے مسافر ٹرمینل پر حوثیوں کے حملے میں 12 افراد ہلاک اور 309 دیگر زخمی ہو ئے۔
ایران نے سعودی عرب اور یمن کے درمیان مذاکرات شروع کرانے میں تعاون کی پیشکش کر دی



