تھرپارکر (نیشنل ٹائمز)تھرپارکر میں بارشیں نہ ہونے کے باعث خشک سالی کی صورتحال روز بروز سنگین ہوتی جا رہی ہے ۔ ضلع کے ساتوں تعلقوں ڈیپلو، اسلام کوٹ، نگرپارکر، چھاچھرو، کلوئی، ڈاہلی اور مٹھی میں فصلیں سوکھنے سے زراعت سے وابستہ افراد کو شدید مالی نقصان کا خدشہ ہے ۔ کاشت کاروں نے بارشوں کی امید پر بیج خریدنے اور زمینوں میں ٹریکٹرز کے ذریعے ہل چلانے پر بھاری اخراجات کیے تھے ، تاہم بارشیں نہ ہونے کے باعث ان کی محنت اور سرمایہ ضائع ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے ۔خشک سالی کے باعث دیہی علاقوں میں مویشیوں کے لیے چارہ بھی مکمل طور پر ختم ہوگیا ہے ۔ مقامی باشندوں کے مطابق چارے کی عدم دستیابی اور پانی کی قلت کے باعث روزانہ سینکڑوں خاندان اپنے بچوں اور مویشیوں سمیت دوسرے علاقوں کی جانب نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔ جبکہ مویشیوں میں بیماریوں کے باعث ہلاکتوں کی اطلاعات بھی سامنے آنے لگی ہیں۔دوسری جانب متاثرہ علاقوں میں خوراک اور پینے کے پانی کی قلت نے بھی سنگین صورتحال اختیار کرلی ہے ۔ مقامی باشندوں اور سماجی حلقوں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تھرپارکر کو فوری طور پر آفت زدہ قرار دے کر متاثرہ خاندانوں کے لیے ہنگامی امدادی اقدامات کیے جائیں، تاہم مقامی سطح پر یہ شکایات بھی سامنے آئی ہیں کہ خشک سالی کی سنگین صورتحال کے باوجود ضلعی انتظامیہ نے سندھ حکومت کو تھرپارکر کو آفت زدہ قرار دینے کے لیے ضروری خط و کتابت نہیں کی۔خشک سالی سے متاثرہ خاندان حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔
تھرپارکر:بارشیں نہ ہونے سے خشک سالی کی صورتحال سنگین



